پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال

اسماءطارق ،گجرات

ہمارے پروفیسر اپنے ایک طالبعلم کی اکثر تعریف کرتے رہتے تھے مگر کچھ دنوں پہلے وہ اس کے ذکر پر افسردہ ہو گئے بتانے لگے کہ عرصے بعد پرسوں میری ملاقات فیضان سے ہوئی تو میں اس کو پہچان بھی نہیں پایا۔ میلے کچیلے کپڑے،پھٹی ہوئی چپل، گویا کہ کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ فیضان تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے تو وہ کہنے لگاکہ مجھے نشے نے تباہ و برباد کردیا ہے۔ میں نے کہا کہ کیا مطلب؟ کہنے لگا کہ میں ہیروئن کا نشہ کرتا ہوں۔

یہ سن کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ یہ تو ایک نوجوان کی کہانی تھی مگر اس کے علاوہ ایسے ان گنت نوجوانوں کہانیاں ہمارے آس پاس موجود ہیں جن کو منشیات نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ایک اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جو منشیات استعمال کی جاتی ہیں ان میں شراب ، ہیروئن ،چرس،افیون،بھنگ،کرسٹل کے علاوہ کیمیائی منشیات جیسے صمد بانڈ، نشہ آور انجکشن اور سکون بخش ادویات شامل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔

دنیا بھر میں بہت سے ممالک منشیات کے مسائل کا شکار ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ برائی سڑکوں سے نکل کر نہ صرف اب ہمارے تعلیمی اداروں تک رسائی پا چکی ہے بلکہ ہماری تعلیمی جڑوں میں بھی سرایت کر گئی ہے جسکی وجہ سے نوجوان طالب علم طرح طرح کی منشیات کا شکار ہو کر اس کے عادی بن جاتے ہیں اور اپنی زندگی تباہ و برباد کر لیتے ہیں ۔ ایسے کئی واقعات ہیں جہاں پولیس نے کارروائی میں ایسے کئی گروہوں کو گرفتار کیا ہے جو تعلیمی اداروں میں منشیات فراہم کرتے تھے۔ یہ گروہ ملک کے جامعات میں طرح طرح کی منشیات سپلائی کرتے ہیں اور یہ گروہ کسی نہ کسی طریقے سے جامعات سے وابستہ بھی ہوتے ہیں جس کے باعث اکثر ان کی شناخت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ عموماً یہ لوگ ایسی سرگرمیوں میں طالبعلموں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور نہ صرف ان کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں بلکہ انہیں دوسروں کی بھی زندگی برباد کرنے پر اکساتے ہیں اور یوں یہ برائی انہی نوجوانوں کے ہاتھوں ہی پھیلتی جاتی ہے اور کئی اور نوجوانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور یوں یہ کالی بھیڑیں نقاب اوڑھے ہماری جڑیں کھوکھلی کرتی جا رہی ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔افسوس کہ یہ بیماری بڑھتی ہی جارہی ہے مگر کسی کی اس طرف نظر ہی نہیں جاتی ہے۔اور سب سے بڑھ کر اس سے شرم اور ذلت کیا ہوگی جب وہ ادارے جہاں انسان کو انسان بنایا جاتا ہے اسے کسی قابل بتایا جاتا ہے وہی اسے کسی قابل نہ چھوڑیں ۔ جب وہاں انہیں شعور اور آگاہی ملنے کی بجائے دل و دماغ سلب کرنے والی منشیات ملے تو ان اداروںکیا وقار رہ جائے گا ۔ تعلیمی ادارے یہاں تو ہسپتالوں میں بھی یہ گندگی پل رہی ہے جب زندگی دینے والے خود زندگی چھیننا شروع کر دیں تو وہاں انسانیت کے پاس شرمسار ہونے کےعلاوہ کیا مقام رہ جائے گا مگر صد افسوس کہ ہم وہ شرم بھی محسوس نہیں کرتے اور اسی لیے تو ایسے لوگ دیدہ دلیری کے ساتھ ہماری ناک کے نیچے یہ سب کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں خبر نہیں ہوتی ۔

اب ان عادی بچوں کو اس سب کے لئے پیسے بھی چاہیے مگر چونکہ اپنا کوئی وسیلہ معاش نہ ہونے کی وجہ یہ والدین پر ہی منحصر ہوتے ہیں اب والدین سے تو انہیں صحیح طریقے سے اس کام کے لیے پیسے کسی صورت نہیں مل سکتے سو وہ جھوٹ بولیں گے، ہیراپھیری کریں گے ۔حتیٰ کہ ایسے بچے اپنے ہی گھر میں چوری اور ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیں گے اور اس میں دوستوں کو بھی ملا لیں گے اور والدین کو جب تک خبر ہوتی ہے اس وقت تک وہ نشہ کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ منشیات کسی ایک آدمی کی زندگی تباہ نہیں کرتی ہے بلکہ اس آدمی سے جڑے تمام لوگوں کی زندگیوں پر اپنا کالا سایہ چھوڑ جاتی ہے جو ان کی زندگیوں کو بھی اندھیر نگری میں بدل دیتا ہے۔منشیات نسلوں کی نسلوں کو نگل جاتی ہے ، یہ ہماری پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے مستقبل کا معمار جنہوں نے ملک کو ترقی کی بلندیوں پر لے کر جانا ہے وہ خود ایک زوال کا شکار ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں۔انہیں کسی بد قماش لوگو ں کے گروپ کا حصہ نہ بننے دیں۔ ان کو سونے کا نوالہ کھلائیں مگر شیرکی نگاہ رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور کیسے مشاغل رکھتے ہیں تاکہ اگر ایسی کوئی حرکت نظر آئے تو بر وقت اس کا سدباب ہو سکے۔

افسوسناک بات تو یہ ہے ہماری یہ نسل منشیات کو فیشن سمجھتی ہے اور اسی فیشن کے چکر میں وہ اسکے نقصانات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی زندگی اپنے ہاتھوں تباہ کر لیتے ہیں۔ نوجوانوں میں اس بات کا شعور دلانے کی اشد ضرورت ہے کہ یہ منشیات در حقیقت کس تباہی کا نام ہے اور وہ انہیں کیا سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور اس کے لیے والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی کاؤنسلنگ کریں انہیں سمجھائیں کہ یہ کیا بیماری ہے اور اس کے کیا نقصانات ہیں۔ اس موضوع پر وقتا ًفوقتاً ان سے اس موضوع پر بات کرتے رہیں اور ان کے مشاغل معلوم کرتے رہیے۔ایک سروے کے مطابق بچوں میں اس کا استعمال تنہائی کی وجہ سے بھی پایا جاتا ہے انہیں والدین کی طرف سے وقت نہیں ملتا جس کے نتیجے میں وہ ایسی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اس سب کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور عوام کو روشناس کرنے کے اقدامات کرے اور تمام منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائی کریں تاکہ معاشرہ ایسے لوگوں سے پاک ہو سکے۔

Read all Latest social news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from social and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Drug abuse in pakistans educational institutions in Urdu | In Category: سماجیات Social Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.