شہباز شریف معاملہ: پس پردہ سے منظر عام پر آنا باقی ہے !

تحریر :شاہد ندیم احمد

میاں محمدشہباز شریف 10 اپریل کو علاج کی غرض سے برطانیہ گئے تھے، اس دوران ان کی واپسی کے حوالے سے منفی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔میاں شہباز شریف لندن سے پاکستان پہنچ چکے ہیں،ان کی وطن واپسی کے ساتھ ہی بہت سی افواہوں کا خاتمہ ہو گیاجو ان سے منسوب کی جارہی تھیں کہ وہ سودے بازی کر کے چلے گئے ہیں ،واپس نہیں آئیں گے ،انہوں نے سیاسی پناہ کے لیے بھی درخواست دے دی ہے۔ وہ چند ماہ قبل چند روز کے لیے لندن علاج معالجے کی غرض سے گئے تھے، لیکن ان کے معالجین نے ان کو سفر کی اجازت نہیں دی، اس لیے وہیں مقیم رہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ اب بھی اپنے معالجین کی اجازت کے بغیر واپس پاکستان آ ئے ہیں۔میاں شہبازشریف کے خلاف زیر سماعت آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں ان کے وکلا کی جانب سے 11 جون کو واپسی کی حتمی تاریخ دی گئی تھی۔ میاں شہباز شریف کی واپسی ان حالات میں ہو رہی ہے کہ اپوزیشن حکومت کے خلاف ایک محاذ کھول چکی ہے ،مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی بلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے جسے مسلم لیگ( ن) کی تائید حاصل ہے۔ مہنگائی کے پے درپے طوفانوں کے باعث عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے،اپوزیشن عوامی جذبات کو اپنے حق میں حکومت مخالف تحریک کی صورت میں استعمال کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا حق حاصل ہے، اپوزیشن اپنی باری کے لیے بھی کوشاں رہتی ہے، مگر سب قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں معمولی برتری حاصل ہے، اسے ختم کرنے کے لیے بھی اپوزیشن کو غیر معمولی کوششوں کی ضرورت ہے جو ایک جمہوری طریقہ ہے اور اسکے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ اپوزیشن کی جماعتیں ہر صورت حکومت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں جس سے جمہوریت کا مردہ خراب ہو سکتا ہے۔ جمہوریت ہی میں سیاست اور سیاست دانوں کی بقا ہے، لہٰذا حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جمہوریت کی بقا ءکے لیے ا یک نکاتی ایجنڈے پراتفاق ضروری ہے۔

میاں شہباز شریف اقتدار سے الگ ہوئے ہیں، مگر ان کے دور کی تعمیرات ان کے دور حکمرانی کی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ لاہور کے رہنے والے شہباز شریف کی عوامی خدمت اور انتظامی صلاحیتوں کے معترف ہیں، مگر جب بھی لاہور سے باہر کا سفر ہو تو یہ انتظامی صلاحیتیں دیگر علاقوں میں نظر نہیں آتیں۔عوام کو ان لوگوں کے طرز حکومت پر افسوس سے زیادہ گلہ ہے کہ انھوں نے امتیازی حکومت قائم کر کے ملک میں جمہوریت کو ایک بار پھر ناکام کرنے کی کوشش کی اور اب موجودہ حکومت کو سیلکٹیڈ حکومت کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، اگر میاں برادران کے بقول یہ حکومت سلیکٹ بھی ہوئی ہے تو یہ سب کچھ بھی ان کے کھاتے میں لکھ دیا گیا ہے، اگر وہ صوبوں کے درمیان امتیاز نہ برتتے تو آج بھی عوام میں ان کی مقبولیت برقرار رہتی، لیکن انھوں نے پاکستان کے تین صوبوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور صرف پنجاب میں بھی چند مخصوص اضلاع میں ترقیاتی کام کیے ،جب کہ پنجاب کے پسماندہ علاقے دس سالہ حکمرانی میں بھی پسماندہ ہی رہے ہیں۔

پاکستان کو مارشل لاﺅں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں پر جمہوریت سے زیادہ مارشل لاﺅں نے حکومت کی ہے اور مارشل لاﺅں کی وجہ سے ہمارے سیاستدانوں میں بھی ڈکٹیٹروں والے جراثیم بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ اگر ایمانداری سے بات کی جائے تو ہمارے بیشتر حکمراں انھی مارشل لاﺅں کی پیداوار ہیں اور سول حکمرانی کے نام پر اپنا ڈکٹیٹر پن ہم پر مسلط رکھتے ہیں۔ عوام سول حکومت کی ناکامی کے بعد فوجی حکومت کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ وہی ہے کہ ہمارے منتخب وزرائے اعظم نے بھی عوامی حکومت قائم نہیں کی آمریت قائم کی ہے۔ہمارے تمام وزرائے اعظم منتخب نہیں آمرتھے، اس بات سے پوری قوم آگاہ ہے اور اتفاق کرتی ہے کہ عوام کے ان نمائندوں نے اپنے دور حکومت میں فوجیوں سے بد تر آمرانہ حکومت قائم کی ہے۔ اقتدار اللہ کی دین اور عوام کی امانت ہوتی ہے خرابی تب ہوتی ہے جب اقتدار میں گڑ بڑ کی جائے تو اس سے اللہ تو ناراض ہوتا ہی ہے، عوام بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور اپنی ناراضی کا بدلہ وہ انتخابات میں لیتے ہیں ،کیونکہ ان کے پاس موجودہ دور کی جمہوریت میں یہی ایک موقع ہوتا ہے، یہ کوئی مدینہ کی ریاست تھوڑی ہے کہ جہاں ایک عام آدمی بھی اپنے خلیفہ سے اس کے لمبے کرتے کا حساب مانگ لیتا ہے۔ ہماری جمہوریت ہٹو بچو والی دنیاوی جمہوریت ہے جس میں عوام حکمرانوں کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے چہ جائیکہ کہ ان سے باز پرس کر سکیں۔میاں برادران ہوں یا آصف علی زرداری احتساب کا نعرہ عوام کوٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے ،میاں شہباز شریف کی آنی جانیاں معنی خیز ہیں،ڈیل آج نہیں تو کل ہوجائے گی اور کوئی پتہ نہیں سب کچھ ا سکرپٹ کے مطابق مکمل ہو چکا ہو،صرف پس پردہ سے پردے پر آنا باقی ہے ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Shahbaz returns to pakistan dispelling deal with imran khan in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.