سرحد پار دہشت گردی: جنوبی ایشیا اور اس کے پڑوس میں چیلنجز

(سمینار رپورٹ)

لندن:31مئی کو لندن یونیورسٹی کے سنیٹ ہاؤس میں ڈیمو کریسی فورم(ٹی ڈی ایف) کی میزبانی میں ہونے والے مباحثہ میں سرحد پار دہشت گردی سے جنوب ایشیا کو لاحق حقیقی خطرات اور مقامی بغاوتوں کا وسیع پیمانے پر پھیلنا اہم موضوعات اور مباحثہ کا مرکز رہے۔ اور جنوب ایشیا اور اس کے پڑوس میں سرحد پار دہشت گردی ، اس کی حد،شکل اور پھیلاؤ پر سیر حاصل اظہار خیال کیا گیا۔ٹی ڈی ایف کے صدر لارڈ بروس نے سمینار ہٰذا کو مرحوم ٹی ڈی ایف نائب صدر ٹام ڈیگن کی یاد میں ان کو وقف کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ٹی ڈی ایف جنوب ایشیا میں سیاسی ناانصافی کے ظلم ، آزادی تقریر سے محروم کرنے اور حقوق انسانی سلب کرنے کو بے نقاب کرنا جاری رکھے تویہ ٹام کی میراث کے شایان شان انہیں بہترین خراج عقیدت ہوگا ۔
سمینار کی صدارت کرتے ہوئے اپنے تعارفی کلمات میں بی بی سی ایشیاکے سابق نمائندے ہمفری ہاکسلی نے ”جنوب ایشیا میں بغاوتوں کی لہر“ پر کھل کر اظہار خیال کیا اور بتایا کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی ہے وہ مقامی عناصر سے کہیں زیادہ کیسے پھیل جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بغاوتوں کوہمیشہ بڑی طاقتوں کی حمایت مطلوب ہوتی ہے۔

ایران پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے اٹلانتک کونسل کے جنوبی ایشیا مرکز میں غیر اقامتی سینیئر فیلوفاطمہ امان نے یہ بتاتے ہوئے کہ سرحد پار سے جاری دہشت گردی پر ایرانی حکام کی جوابی کارروائی سے ملک کی داخلی سیاست اور جنوب ایشیائی پڑوسیوں خاص طور پر پاکستان سے تعلقات پر کیسے اثرات مرتب ہوئے ملک کے مشرقی و مغربی سرحدی خطوں میں پھیلی بغاوتوں کا ذکر کیا ۔

انہوں نے ایران کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے اصل اسباب اور سلفیوں جیسے کچھ باغی گروپوں کو دیگر باغی گروپوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایرانی انٹیلی جنس کی حاصل حمایت پر روشنی ڈالی۔ امان نے کہا کہ ایسا ہی حال پاکستان کا ہے جو ایران سے اپنی سرحد کو نظر انداز کر کے پاگل پن کی حد تک ہندوستان کے پیچھے پڑا ہے ۔انہوں نے انتباہ دیا کہ کس طرح کسی وقت شروع ہوئی مقامی بغاوتیں آج پورے خطہ کو عدم استحکام کی کیفیت سے دوچار کرنے کا خطرہ بن جاتی ہیں۔چونکہ بغاوتوں کا خاتمہ علاقائی تعاون اور معلومات کے تبادلہ پر منحصر ہے اس لیے ان کے خیال میں انہیں بہت کم امید ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا کچھ ہو سکے گا۔

ایک جلا وطن صحافی اور سیف نیوز رومز ڈاٹ آرگ(safenewsrooms.org)کے بانی طحٰہ صدیقی نے بڑا کلید ی اور چبھتا ہواسوال اٹھایا کہ کیا فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس ، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اور حکومتیں پاکستان پر دباؤ ڈال سکتی ہیں کہ وہ جنوب ایشیا خطہ میں اپنی جہادی غنڈہ گردی ترک کر دے۔ اگرچہ پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے والے ملکوں کی گرے لسٹ سے نکال کر دہشت گردی میں مالی مدد نہ دینے اور منی لانڈرنگ نہ کرنے والے ملکوں پر مشتمل بلیک لسٹ میں منتقل کرنے کے حوالے سے فیصلہ ابھی معرض التوا میں ہے لیکن صدیقی کا موقف ہے کہ ابھی تک پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی مدد بند کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے اور بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر دکھاوے کی کارروائی کر رہا ہے۔

صدیقی نے خطہ میں جہادی ایجنٹوں اور کرایے کے ٹٹوؤں کے ساتھ پاکستان کی گہری وابستگی کی ایک مختصر تاریخ اور اس کے پس پشت کارفرما عوامل بیان کرتے ہوئے پاکستان کے اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کرنے کی ضرورت اور ہندوستان سے ٹکراؤ یا تنازعہ پر اسے عوام کے سامنے ہندوستانی جارحیت کے طور پرپیش کر کے ہندوستان سے خطرے کا راگ گا گا کر فوج کا اپنی کارروائیوں کا بچاؤ کرنے کے معاملات کو بھی اٹھا یا ۔صدیقی نے نام نہاد خیراتی خدمت کی آڑ میں سرگرم جہادی گروپوں کے حوالے سے اپنی ذاتی تحقیقات کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل پاکستان کے قومی ابلاغی ذرائع یا حکومت پاکستان کی مہیا کردہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر پاکستان میں حقیقی صورت حال کا اندازہ لگانے کے لیے مختلف نسلی، مسلکی و طبقاتی گروپوں کے ساتھ نیٹ ورک قائم کر کے نکالا جا سکتا ہے ۔

ریڈی فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے بشیر احمد گواکھ کے نزدیک تشویش کا ایک سبب یہ ہے کہ اگر اگر امریکہ۔طالبان امن مذاکرات الجھ کر رہ گئے تو افغانستان ایک بار پھر دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاںایک جانب یہ بات بہت مثبت ہے کہ امن مذاکرات کیے جارہے ہیں وہیں دوسری طرف مذاکرات سے افغان حکومت کو علیحدہ رکھنا اور طالبان کا اسے امریکہ کی کٹھ پتلی کہنا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔کیونکہ ایسی صورت میں کسی بھی فیصلہ پر عمل آوری نہیں ہوگی۔

گواکھ نے اس پر نگاہ مرکوز کرتے ہوئے کہ طالبان اور امریکہ دونوں مذاکرات سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبا ن سے مذاکرات کے خلاف یہ کہتے ہوئے ا نتباہ دیا کہ کیا وہ کوئی حکومت ہے۔کیونکہ مذاکرات کامیاب ہونے کے باوجود ان کے وعدوں کی کوئی اہمیت یا وزن نہیں ہے۔ طالبانی نظریات کے پابند اس کے پیادے طالبان سے کنارہ کش ہو کر دولت اسلامیہ فی العراق والشام (داعش) جیسے دیگر دہشت پسند گروہ میں شامل ہو جائیںگے۔گواکھ نے افغانستان میں اقتدار کے بٹوارے کے سوال، طالبان جنگجوؤں کو معاشرے سے ہم آہنگ کرنے اور اس میں شامل کرنے کے پیش نظر انتہاپسندانہ نظریات کے خاتمہ کے لیے ایک جامع پروگرام کی ضرورت اور پاکستان اور ایران جیسے علاقائی ملکوں کے اثر و رسوخ کا بھی معاملہ اٹھایا۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ایڈمنڈ اے والش اسکول آف فارن سروس کی ڈاکٹر سی کرسٹائن فئیر نے اس پر اصرار کیا کہ سرحد پار دہشت گردی کا بنیادی پیچیدہ مسئلہ حل کرنے،نقشوں میں تبدیلی کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کے طور پر پاکستان کے لیے سرحد پار دہشت گردی کا استعمال کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ اس کے پاس جو فوج ہے وہ جنگیں نہیں جیت سکتی اور ایٹمی اسلحہ پاکستان استعمال نہیں کر سکتا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک ترمیم پسند ملک کا درجہ دیا جس پر اس علاقہ کو حاصل کرنے کے خبط سوار ہے جوکبھی اس کا نہیں رہا۔ فئیر نے کہا کہ فوج کے، جو پاکستان کے قیام کا باعث بننے والے دو قومی نظریہ کا دفاع کرنے کی ذمہ دار ہے، جنگی کلچر کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہے کہ پاکستان کی حیثیت سلامتی کے متلاشی ملک سے زیادہ ایک نظریاتی ملک کے درجہ کی ہے ۔ انہوں نے ماید کہا کہ پاکستان کی نظر میں دو قومی نظریہ کشمیر پر اس کے دعوے کو جائز قرار دیتا ہے۔

فئیر نے کہا کہ اگر ہندوستان کے ساتھ امن ہو جائے تو پاکستانی فوج ملک کو چلانے اور برباد کرنے کو کسیے حق بجانب قرار دے سکتی ہے۔اس لیے وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ امن کا ماحول بنے۔جب بھی دونوں ممالک مصالحت اور مفاہمت کے لے قریب آئے ہیں۔ کوئی نہ کوئی برا واقعہ رونما ہو گیا جس سے پھر دوریاں بڑھ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت ہر گز خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے جب پاکستان یہ کہے”میں اتنا خطرناک ہوں کہ ناکام نہیں ہو سکتا“ہمیں پاکستان کو ناکام کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہئے تاکہ ہم مسئلہ سنبھال سکیں۔

ٹی ڈی ایف کے اختتامی اجلاس کی صدارت کرنے والے ممبر پارلیمنٹ اور بین الاقوامی تجارت کے سابق وزیر خارجہ بیری گارڈینر نے ہمارے پڑوسیوں کے ہم پر گہرے اثر و رسوخ پر یہ کہتے ہوئے روشنی ڈالی کہ ”تاریخ مٹا دو ،علم جغرافیا حاصل کرو“۔انہوں نے ہمیں شناخت کی سیاست کے خبط اور پاگل پن جمہوری چال چلن اوراصل کثرت پسند معاشرے کے امکان کو برباد کرنے کے خلاف بھی انتباہ دیا ۔

سمینار کے موضوع کی حساسیت کے باوجود زیادہ تر سامعین نے مقررین کو بڑے سکون سے سنا حالانکہ تخریب پسند اراکین کئی بار بڑے جارحانہ انداز میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں باہر نکالنا پڑا ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Seminar report cross border terrorism challenges in south asia and its neighbourhood in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.