پرینکا گاندھی کا روڈ شو — کیا شاندار آغاز سے بہتر انجام ممکن ہے ؟

محمد شاہ نواز ندوی

ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آج لکھنو کی سرزمین میں پرینکا گاندھی ،راہل گاندھی اور جیوتیرادتیہ کی قیادت میں ہونے والا روڈ شو کانگریس پارٹی کو جوش و ولولہ سے بھر دیا ہے ۔ بلا شبہ روڈ شو کا نظارہ بہت ہی دیدہ زیب تھا ، ایک جم غفیر کے ساتھ اموسی ایرپورٹ سے لیکر کانگریس دفتر تک کا روڈ شو دیگر پارٹیوں کی نیند ضرور اڑا رہی تھی ۔ کانگریس کے کارکنان اور حمایتی کے اندر جس طرح کا جذبہ اور امنگ نظر آئی یہ اپنے آپ میں بہت ساری باتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔ تینوں نوجوان لیذران کی ریلی نے صرف یوپی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں میں امیدیں جگا دی ہیں ۔ نوجوانوں کے دلوں میں کانگریس کے لیے نرم گوشہ دیکھا گیا ، روڈشو سے پتہ یہی چل رہا تھا کہ اب یوپی سمیت پورے ملک میں کانگریس کی راہ ہموار ہوتی جارہی ہے۔ اسی لئے راہل گاندھی نے اپنے بیان میں بے حد یقین اور اطمینان کے ساتھ اپنی بات کہی ۔ راہل گاندھی کے خطاب سے کارکنان کا جوش اس وقت طغیانی میں بدل گیا جب راہل گاندھی نے سر عام اپنے روڈ شو میں ” چوکیدار ہی چور ہے “ کا نعرہ بار بار لگایا ۔ بلکہ اپنی بات کا آغاز اور اختتام دونوں ہی اسی نعرہ کے ساتھ کیا ۔ وہ چوکیدار .. چوکیدارکہہ رہے تھے ؟؟ جس کے جواب میں کارکنان ” چور ہے ، چور ہے “ کا نعرہ لگارہے تھے ۔

پندرہ کلو میٹر کی مسافت میں جاری روڈ شو کے ذریعہ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور صدر نے اپنا جلوہ تو دکھا دیا ہے لیکن آج کے بعد صرف بی جے پی ہی نہیں بلکہ ایس پی اور بی ایس پی بھی اپنی ساری توجہ یوپی اپنی اپنی کامیابی کے لئے جھونک دیں گی ۔ یہ وہی کانگریس پارٹی ہے جس کو اپنے اتحاد میں لینے سے ایس پی بی ایس پی نے انکار کر دیا تھا ،جس سے یہ بات صاف تھی کہ کانگریس یوپی میں بیک فٹ پر نظر آئے گی۔ جس بات کی امید ان دونوں پارٹیوں سے نہیں لگائی جارہی تھی ۔جس کے لئے سیاسی دانشوران بھی محو حیرت تھے کہ آخر یوپی میں ایس پی بی ایس پی نے کانگریس کو اپنے اتحاد سے برطرف کیسے کردیا ؟ لیکن راہل گاندھی کی دور اندیشی اور بلند ہمتی نے آج یہ ثابت کر دیا کہ صحیح معنی میں وہ بیک فٹ پر انتخاب نہیں لڑنے والے ہیں ۔ جس کے آثار لکھنو کے روڈ شو سے بخوبی نظر آنے رہے تھے۔جس سے یہ امید ہو چلی ہے کہ آج کے بعد کانگریس پارٹی اپنا کھویا ہوا وقار واپس حاصل کرسکتی ہے ۔ اور 2022 کے اسمبلی الیکشن میں اپنے دم پر لڑ تے ہوئے یوپی میں اقتدار حاصل کر سکتی ہے ۔

روڈ شو کی سب بڑی خوبی یہ تھی کہ پرینکا گاندھی اپنی فطری سیاسی اداؤں سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مائل کر رہی تھی ، لوگوں سے سر جھکا کر ملنا ، ہر کسی کی بات کو سننے کی کوشش کرنا ، نگاہیں نیچی کرکے اپنے مداحوں کی طرف دیکھنا یہ سب روڈ شو میں مزید کشش پیدا کر رہے تھے ۔ جس سے اندرا گاندھی کی یادیں تازہ ہورہی تھیں۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے کہ پرینکا گاندھی کے خمیر میں ہی سیاست کی مٹی شامل ہے ۔ جو اسے اپنی دادی سے وراثت میں ملی ہے ۔ پرینکا گاندھی کا یہ پہلا روڈ شو تھا جس نے پورے سیاسی گلیاروں میں ہل چل مچادی ہے ، ابھی تو سیاسی داو پیچ کھیلنا باقی ہے ۔ ابھی تو انہوں نے اپنا سیاسی پینترا بدلا ہی نہیں ہے ۔ آغاز ہی سے انجام کی بہتری کا پتہ مل رہا ہے ۔

یوپی جس ریاست میں ایس پی اور بی ایس پی کی طویل حکمرانی کے بعد اس وقت بی جے پی کی حکومت قائم ہے ۔ اور کانگریس پارٹی اس وقت ان تینوں سے پارٹیوں سے الگ تھلک ہو کر اپنی قیادت بنانے میں انتھک کوشش کر رہی ہے ۔ بی جے پی کی لہر اور ہندوتوا کی مضبوط سیاسی پکڑ کی وجہ سے خوف کھا کر ایس پی اور بی ایس پی متحد ہوچکی ہیں ۔ جو دلت اور یادو وٹوں کی مدد سے حکومت بنانے کی خواہاں ہیں ، ایسے میں دیکھنا بڑا ہی دلچسپ یہ ہوگا کہ کیا ایس پی بی ایس پی کانگریس کو اپنے اتحاد میں شامل کرینگے ؟ یا پھر کانگریس پارٹی ان تینوں پارٹیوں سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے حکومت کی باگ ڈور کو بذات خود سنبھالے گی ؟ رہی بات یہ کہ ملکی پیمانہ پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور جیوتی رادتیہ اپنا جادو لوگوں پر کیسے چلا پارہے ہیں ؟ یہ وقت ہی بتائے گا ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Priyankas roadshowcongress looks ready to fight on the front foot in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.