لگتا ہے قومی سیاست کا مزاج تبدیل ہورہا ہے


گل بخشالوی

وزیر اعظم عمران خان بحیثیت وزیر اعظم جو بولتا ہے وہ تولتا ہے اور سوچ سمجھ کر بات کرتا ہے اس لےے جب بھی وہ عوام کی نظر میں ضرورت سے کچھ زیادہ بول جاتا ہے تو اس کی تردید نہیں کرتا اور نہ ہی وضاحت کرتا ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ عمران خان جوشِ خطابت میں غیر ارادی طور پر بول جاتا ہے تو کہنے والے کی سوچ غلط ہے اس لےے کہ عمران خان کو علم ہے ،بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔وہ خود کو اپوزیشن کے حواص پر چھائے رکھنا چاہتا ہے وہ مخالف کھلاڑی کو باؤنسر مارکر پریشان کرتا ہے عمران خان سوچتا ہے ،مسکراتا ہے اور جوکہنا چاہتا ہے کھل کر کہہ دیا کرتا ہے۔

وہ بے پرواہ ہوتا ہے وہ اخلاقی دائرے سے نکل بھی جائے تو پریشان نہیں ہوتا اس لےے کہ اخلاقی دائرے سے باہر کے الفاظ پر جلسہ عام میں اسے بھرپور داد ملتی ہے وہ جانتا ہے کہ عوام کیا چاہتی ہے۔عمران خان نے جلسہ عام میں بلاول بھٹو کو بلاول بھٹوصاحبہ کہا اور جو کہا اس پر عوامی ردِعمل کیلئے سانس لیا۔پنڈال تالیوں ،قہقہوں اور نعروں سے گونج اٹھا تو عمران خان مسکرایا جیسے روح کو تسکین ملی ہو تسلیم کرنا ہوگا کہ عمران خان نے بحیثیت وزیر اعظم جوکہا غلط کہا بداخلاقی کی انتہاہے لیکن ہمیں بھی توسوچنا ہوگا کہ اپوزیشن کی قیادت اور ان کے درباری اپنے عوامی جلسوں اور پریس کانفرنس میں عمران خان کے نام کی تلاوت تو نہیں کیا کرتے۔بدکلامی کا جواب تو بدزبانی سے ہی ملے گا۔

بدقسمتی سے دورِحاضر میں قومی سیاست کا مزاج ہی اخلاقی دائرے سے باہر نکل آیا ہے قومی سیاست کا مزاج ہی مداری کا تماشہ بن گیا ہے اپوزیشن ہو یا حکمران جماعت کے وزیر اعظم یا ان کے ترجمان درباری سب ایک ہی اندازِ فکر میں جمہوری قدروں کا مذاق اڑارہے ہیں۔عمران خان نے بلاول بھٹو کو صاحبہ کہہ دیا تو پاکستان کی درباری سیاست اور الیکٹرونک میڈیا میں جیسے زلزلہ آگیا۔لگتا ہے وزیر اعظم چاہتے بھی ایسا ہی تھے میڈیا کی خبروں ، ٹی وی ٹاکروں اور سوشل میڈیا پر توہین آمیز بحث شروع ہوگئی اورخان صاحب مسکراتے ہوئے جہاز میں بیٹھ کر چارروزہ دورے پر چین روانہ ہوگئے۔

ہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستان کی عوام نے پی پی کی مفاہمت کی پالیسی او ربنیادی نظریات کو نظر انداز کےے جانے پر قومی سطح پر مسترد کرکے ایک صوبے تک محدود کر دیا ہے عوام کی نظر میں آصف علی زرداری پی پی کی شہید قیادت کی قومی جمہوری سیاست سے غداری کے مرتکب ہوئے ہیں مسلم لیگ ن سے ان کی محبت کو قومی سطح پر پی پی کے نظریاتی کارکنوں نے تسلیم نہیں کیا یہ ہی پی پی کی زوا ل کا سبب ہے ذاتی مفادات کیلئے عوامی طاقت کو نظر انداز کرکے بلاول بھٹو کے سیاسی مستقبل کو تاریک کر دیا ہے اس لےے آج کل بلاول بھٹو قومی جمہوری سیاست میں شیخ رشید کی زبان بول رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کی سوچ پر خود پرست عوامی نمائندوں کی بدزبانی حاوی ہوگئی ہے۔مسلم لیگ ن نے الیکشن سے قبل نہ صرف عمران خان اور آصف علی زرداری پر ذاتی حملے کےے بلکہ قومی اداروں کو بھی نہیں بخشا جس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں۔بلاول بھٹو اور عمران خان کے درمیان لفظی جنگ قوم کے سنجیدہ مزاج لوگوں کی نظر میں اعلیٰ قیادت کی شان نہیں بازاری زبان جمہوری سیاست کی توہین کے مترادف ہے۔لگتا ہے توہین آدمیت کے مرتکب سیاسی رہنما اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بدزبانی اور بداخلاقی کوفروغ دے رہے ہیں لگتا ہے قومی سیاست کا مزاج تبدیل ہورہا ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistannew trends in politics in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.