پاکستان کو صدارتی نظام کی طرف دھکیلا جارہا ہے !

گل بخشالوی

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی سے قوم پریشان ہے پرنٹ میڈیا ،الیکٹرونک اور ٹی وی چینلز پر ایک دوسرے پر الزامات او ر میں نہ مانوں کی رٹ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ وطن عزیز کیلئے نہ صرف شرمندگی کا باعث ہے بلکہ توہین کے مترادف ہے جب سے تحریک انصاف نے حکمرانی کا تاج سرپہ سجایا ہے پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اوردوسری شکست خوردہ جماعتوں کے قائدین نے قومی اسمبلی ،سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو مچھلی بازاربنارکھا ہے ۔باقاعدہ اجلاسوں میں قوم کے منتخب نمائندوں کا شور شرابا اور بدکلامی آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ لگتا ہے کہ منتخب اراکین اسمبلی تنخواہیں اور دیگر مراعات بھی اپنے اسی منفی کردار کا وصول کر رہے ہیں حالانکہ ان کو بخوبی احساس ہے کہ جوکردار وہ اسمبلیوں میں ادا کر رہے ہیں اس کا نہ ملک کو فائدہ ہے اور نہ عوام کو !!

ذاتیات کی جنگ میں قوم کے یہ منتخب عوامی نمائندے اپنا ذاتی اور قومی وقار بھی نظر انداز کئے ہوئے ہیں ۔

عمران خان کی حکمرانی کے گزشتہ آٹھ ماہ میں پہلی بار قومی اسمبلی میں قوم کو اپنے منتخب قومی نمائندے قومی وقار کے علمبردار نظر آئے جب ہندوستان نے دراندازی کی۔ قوم ایک آواز ہوگئی اور قومی اسمبلی میں بھی قومی یکجہتی کی گونج سنائی دی ۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے پہلی بار ذاتیات کے حصار سے نکل وطن عزیز کےلئے اپنا قومی کردار ادا کرکے ثابت کر دیا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور یہ ہی ہماری قومی شان اور پہچان ہے دوسری بار قومی اسمبلی میں پاکستان کا خوبصورت چہرہ اُس وقت نظر آیا جب فاٹا کی قومی اور صوبائی نشستوں سے متعلق بل سامنے آیا اراکین اسمبلی نے قومی یکجہتی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو ایک بار پھر پیغام دیا کہ پاکستان وہ عظیم مملکت ہے جہاں ہر مکتبہ فکر ہر قومیت کا احترام ہے

26ویں آئینی ترمیمی بل پر قومی اتفاقِ رائے سے منتخب عوامی نمائندوں نے ثابت کر دیا کہ پوری قوم فاٹا کی عوام کے شانہ بشانہ ہے ۔فاٹا سے متعلق بل پر اراکین اسمبلی کا اتفاقِ رائے قابل صدتحسین ہے قومی اسمبلی کے اجلا س میں 26ویں آئینی ترمیمی بل کی اتفاقِ رائے سے منظوری لینے میں کسی ایک رکن اسمبلی نے بھی مخالفت نہیں کی یہ موجودہ قومی اسمبلی کا ایک تاریخی دن تھا ۔26ویں ترمیمی بل سے فاٹا میں قومی اسمبلی کی نشستیں 12اور خیبرپختونخواہ اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 24ہوگئی ۔قومی اسمبلی کے اس تاریخی اجلاس میں دنیا بھر کو ایک پیغام ملاکہ پاکستان کی عوام فاٹا کیساتھ کھڑی ہے ۔اس بارے میں کسی بھی قوت کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔

ایسی ہی ایک آواز کی گونج مسلم لیگ ن کی طرف سے وطن عزیز میں گونجی ۔مسلم لیگ ن نے نئے صوبوں کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ۔مسلم لیگ ن کی ترجمان محترمہ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے قیام کا بل مسلم لیگ ن کئی ماہ قبل پیش کر چکی ہے ۔نئے بل کی ضرورت نہیں رہی مسلم لیگ ن کی طرف سے ایک قابل تحسین بیانیہ ہے لیکن بیانےے کے انداز میں وہ محبت نظر نہیں آئی جو ہماری قومی شان ہے۔یہ بارت اپنی جگہ درست کہ مسلم لیگ ن صوبوں سے متعلق بل پیش کر چکی ہے لیکن عام طور پر کریڈٹ وہی لیتا ہے جو وقت کا حکمران ہو حکمران اپنی واہ واہ کےلئے بہت کچھ کرتا ہے اور یہ مسلم لیگ ن کے دورِاقتدار میں بھی ہوا وطن عزیز میں ایٹمی پروگرام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شرو ع ہوا مرحوم ضیاءالحق نے اُسے آگے بڑھایا بے نظیر بھٹو کے دور اقتدار میں ایٹم بم پروگرام تکمیل کے مراحل میں داخل ہوا اور میاں نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں بٹن دبا کر دھماکہ کر دیا او رسارا کریڈٹ اُن کی جھولی میںبھر گیا اس لےے مریم اورنگزیب کی اپنے قائدین سے بے پناہ محبت اپنی جگہ لیکن قومی اہمیت کے معاملات میں صرف ذاتیات کو ہی مد ِنظر نہ رکھیں ۔

الفاظ بڑے خوبصورت بھی ہوسکتے ہیں انداز ِگفتگو میں وطن کی خوشبو بھی محسوس کی جاسکتی ہے اس لےے کیا ہی بہترہوگا کہ حکمران جماعت کی ہر ادا میں کیڑے نکالے نہ جائیں یہ وہی پاکستان ہے اُسی پاکستان کی عوام ہے ،ان ہی عوام پر حکمرانی کو بھول جانا کہاں کی سیاست اور کہاں کی شرافت ہے ضروری تو نہیں کہ مسلم لیگ ن اقتدار میں رہ کر ہی عوام اور پاکستان کی خدمت کر سکتی ہے اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھ کر بھی تو قومی اور عوامی مفاد کیلئے کردار ادا کیا جاسکتا ہے اس لےے کہ آج کے خوبصورت قومی کردار ہی کی بدولت آنے والے کل میں محترمہ مریم نواز کی وزار تِ اعظمیٰ کا خواب شرمندئہ تعبیر ہوسکتا ہے ایسا ہی کردار اگر پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مسلم لیگ ن کےساتھ اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھ کر اداکریں تو آنے والے کل کو اُن کے اقتدار کا چراغ بھی روشن ہوسکتا ہے پیپلزپارٹی تو وطن عزیز میں جمہوریت کی پہچان ہے گلشن جمہوریت کےلئے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا خون کوئی کیسے نظر انداز کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی قدم غلط پڑجائے تو اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سب سے بڑی عقلمندی ہے قیادت کو اپنی سوچ سوچنا چاہےے ۔بلاول بھٹو والدہ کی گود میں سیاسی تربیت یافتہ ہیں ۔آصف علی زرداری اُن کے والد ہیں۔ والد کا احترام اُس کا فرض ہے والد پر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہونا اُس کا حق ہے لیکن پیپلزپارٹی کے وقار کو بھی مجروح نہیں کیا جانا چاہےے ۔

جہاں تک آصف علی زرداری کی ذات کا تعلق ہے وہ بڑے دل گردے کے مالک ہیں وہ اپنادفاع خود کر سکتے ہیں اُنہیں شیری رحمان اور خورشید شاہ جیسوں کی کوئی ضرورت نہیں اس لےے کہ وہ ذوالفقا ر علی بھٹو کا انجام دیکھ چکے ہیں یہ وہ موقع پرست لوگ ہیں جو مشکل گھڑی میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ ہی وہ لوگ ہیں جو جلتی پر تیل ڈالتے ہیں ان کی زبان پر ون یونٹ اور صدارتی نظام کی خبریں رقصا ںہیں اور اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ اپنے منفی انداز ِفکر سے پاکستان کو ون یونٹ اور جمہوریت کو صدارتی نظام کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اگر ا یسا ہوا تو مجرم مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ہوگی اس لےے کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قوم اور عوام کیلئے مثبت کردار ادا نہ ہوگا تو ایسی جمہوریت اور صوبوں کی حکمرانی کا عوام کیا کرے گی کیا ہی بہتر ہوگا کہ جمہوریت کے استحکام کیلئے اپوزیشن وہ کردار ادا کرے جس میں عوام خوشحال اور پاکستان صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صورت میں شاداب نظر آئے!!!!
ای میل :gulbakhshalvi@gmail.com

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan being taken towards presidential form of government in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.