اپوزیشن ،تحریک انصاف ،واشنگ پاﺅڈراور مولانا فضل الرحمان

گل بخشالوی

مولانا فضل الرحمان پھر بے چین ہوگئے ۔عوامی عدالت میں عبرتناک شکست کے باوجود اُنہیں اپنا گریبان دیکھنے کا موقع نہیں ۔عبرتناک شکست کے بعد اپوزیشن اتحاد کی ایک بھرپور کوشش کر چکے ہیں ۔ اپوزیشن لیڈران مولانا فضل الرحمان کا درد جانتے ہیں لیکن اُس کا علاج اپوزیشن کے پاس نہیں بلکہ حلقہ انتخاب کے اُن ووٹروں کے پاس ہے جنہوں نے انہیں مسترد کر دیا۔مولاناصاحب!اپنی سبکی پر کچھ عرصہ خاموش رہے لیکن بے چینی کہاں چین سے جینے دیتی ہے پھر نکلے ہیں عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے اُن علماءکرام اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کیساتھ جو دورانِ حج منیٰ میں قیام کے دوران ایک دوسرے کی امامت میں رب کریم حضور سجدہ تک نہیں کرتے لیکن جب بات تخت ِاقتدار اسلام آباد کی آتی ہے تو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا کرتے ہیں ۔ آج کل مولانا صاحب!کبھی زرداری کے درپر اور کبھی میاں نواز شریف کے درپر اپنے ایجنڈے کو اُٹھائے سجدہ ریز ہیں لیکن میاں صاحب اور زرداری بخوبی جانتے ہیں کہ دورِحکمرانی میں مولانا کا قومی اور مذہبی کردار کیا ہوتا ہے اس لےے دیکھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کی خودغرضی کی دال اس بار بھی گلتی ہے یا نہیں ۔

پیپلز پارتی کی شہلہ رضا نے TVٹاکر ے میں تحریک انصاف کو بڑا خوبصورت نام دیا تحریک انصاف واشنگ پاﺅڈر !!

کہتی ہیں تحریک انصاف کی لانڈری میں دوسری جماعتوں سے آئے ہوئے تمام ممبران ڈرائی کلین ہوگئے ۔ کہا تو شہلہ ر ضا نے درست ہے۔ اس لےے کہ تحریک انصاف کے بنیادی ممبران کو تو عام انتخابات میں گھاس نہیں ڈالی گئی جو بھی جہاں سے اُڑ کر آیا، یا جہانگیر ترین اُڑا کر لایا تحریک انصاف کی رنگین پٹی گردن سے لپیٹ کر محب ِوطن اور عوام دوست ہوگیا وہ کل اپنے کردار میں کیا تھا عمران خان نے نظر اندا زکر دیا ،جو دوسری جماعتوں میں فقیر تھاعمران خان کا وزیر بن گیا۔

دھرنے سے الیکشن تک عمران خان سے پاکستان کی عوام نے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیںحکمرانی میں دم توڑگئیں فی الحال تو وہ منصوبے ہی بنارہے ہیں اور وہ داغ دھونے کی کوشش کر رہے ہیں جو گزشتہ 35سال کی دورِحکمرانی میں پاکستان کے دامن پر لگے کچھ وقت لگے گا ۔دھرنے سے وزارتِ اعظمیٰ کی کرسی پر جلوہ افروز ہونا اُس کا کارنا مہ ضرور ہے لیکن عمران خان نے قوم کو زبان دی ہے قوم منتظر ہے اور وہ اپوزیشن کے خلاف اکھاڑے میں گنڈاسہ اُٹھائے کھڑے ہیں للکاررہے ہیں نہیں چھوڑوں گا کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔ لیکن قوم تو اپنی حالت بدلے جانے کی منتظر ہے اس لےے کہ قومی خوشحالی کے وعدے تو عمران خان کی حکمرانی سے پہلے بھی ہوا کرتے تھے ، عمران کا وعدہ تو تبدیلی کا تھا جو نظر نہیں آرہی پہلے اقتدار کے حصول کیلئے وعدے کرتے رہے اب اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر قوم کو وعدوں میں سبز باغ دکھارہے ہیں ۔

کرسی تک جدوجہد کے دوران عمران خان نے کہا تھامیری کابینہ مختصر ہوگی میری کابینہ عیاش نہیں ہوگی ۔وزراءاپنی گاڑیوں میں فرائض انجام دیں گے ۔لیکن قوم دیکھ رہی ہے عمران خان کی کابینہ کی فوج اورآئے روز نئی بھرتی کا سلسلہ بھی جاری ہے پنجاب میں اُن کے لاڈلے وزیر اعلیٰ نے پہلے تنخواہیں بڑھائیں اور اب گاڑیاں لے رہے ہیں ۔جانے عمران کی کفایت شعاری کا وعدہ کہاں گیا۔

رہی بات اپوزیشن کی تو پوری اپوزیشن عدالت کے کٹہرے میں کھڑی سراپا احتجاج ہے اپوزیشن کے کچھ لیڈر اندر ہیں اور کچھ اندرجانے والے ہیں۔ اپوزیشن قیادت کے جولاڈلے تھے انہوں نے فکر فردا میں خاموش قیادت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے چند ایک درباری بول رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اپنے دورِ حکمرانی میں قومی اداروں کے خلاف بولنے کی تاریخ رقم کر چکے ہیں اور ادارے اپوزیشن ممبران اور قیادت کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جتنی چادر ہو پاﺅں اس قدر ہی پھیلاﺅ پاﺅں زیادہ پھیلاﺅ گے تو کبھی پاﺅں ننگے ہوں گے اور کبھی سر !! لیکن اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو سمجھ نہیں آرہی لیکن زبان کی بے لگامی تو بھگتنی ہے ہاں اگر قوم یہ سوچ رہی ہے کہ حکمران اور ادارے جو کچھ جن کے خلاف کر رہے ہیں وہ انجام تک بھی پہنچائیں گے یہ کم از کم قوم کی غلط فہمی ہے یہ حکمران اور اپوزیشن کا ایک اسٹیج ڈرامہ ہے ان سب بڑوں کا کچھ نہیں بگڑے گا بگڑے گا تو اُن محنت کش عوام کا جو دن بھرکی مزدوری میں کما کر شام کو اپنے بچوں میں بیٹھ کر کھاتے ہیں ۔

یہ وہ نعرے لگانے والے بے تنخواہ کے سیاسی مزدور ہیں جو قیادت سے اپنی محبت میں نعرے لگاتے ہیں ۔پولیس کی لاٹھیاں کھاتے ہیں براہِ راست گولیوں کی برسات میں خون بہاتے ہیں۔ جان سے جاتے ہیں اور وقت آنے پر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا وہ ہی منظر ہم آج اپنے دیس میں دیکھ رہے ہیں حکمراں اور اپوزیشن آپس میں دست وگریبان ہیں اور عوام پریشان ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی عوام کیلئے کوئی نئی بات نہیں وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کی حکمرانی سے قبل کی دورِحکمرانی میں کون سی دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں جو عمران خان کی حکمرانی میں خشک ہوگئی ہیں ۔
gulbakhshalvi@gmail.com

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Oppositionpti and maulana fazal ur rehman in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.