ہندوستان میں بھاجپا سرکار ہل نہ سکی ، پاکستان میں مسلم لیگی حکومت بچ نہ سکی

سید اجمل حسین

ابھی تک تو ایشیا کے دو بڑے ایٹمی ممالک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کے دوران ہی دونوں ملکوں کے عوام کے ساتھ عالم گیر پیمانے پر غیر اقامتی ہندوستانی و پاکستانی ہی میچ ختم ہونے تک دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر ٹکٹکی لگائے بیٹھے رہا کرتے تھے ۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پہلی بار ہندوستان اور پاکستان میں رونما ہونے والے دو مختلف واقعات پر دونوں ملکوں کے عوام اور غیر اقامتی ہندی و پاکی ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے عوام، ابلاغی ذرائع اور یہاں تک کہ سربراہان مملکت و حکومت بھی اپنے اہم و ضروری کام و مصروفیات میں بھی ہند پاک سیاسی صورت حال کے حوالے سے غور و فکر میں لگ گئے تھے۔اس لیے غورو فکر میں غلطاں نہیں تھے کہ مسئلہ انہیں طے کرنا ہے بلکہ ان قیاس آرائیوں اور ادھیڑ بن میں لگے تھے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھا یا بٹھایا جائے گا۔ہندوستان میں تو اونٹ کو جس کروٹ بیٹھنا تھا ایک دنیا اس سے اس لیے واقف تھی کہ یہ واقعہ بے وقت کی راگنی جیسا تھا۔لیکن پاکستان میں جو واقعہ رونما ہونے والا تھا اس کے نتیجہ کا پہلے ہی سے رونما ہونے والے حالات و تغیرات سے جو یقین کی حد تک قیاس لگائیا جارہا تھا وہ حتمی نہ سہی لیکن قیاسوں کے عین مطابق منطبق ہوا۔ اور وہ دو واقعات تھے ہندوستان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد اورپاکستان میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ۔

چونکہ دونوں واقعات کو رواں ماہ کے آخری عشرہ میں یکے بعد دیگرے رونما ہونا تھا اس لیے دنیا بھر کے ابلاغی ذرائع پورے مہینے وقفہ وقفہ سے ان معاملات پر لوگوں کی رائے اور اپنی رپورٹیں ٹیلی کاسٹ اور نشر کرتے رہے۔دونوں واقعات رونما بھی ہوگئے ان کے تائج بھی سامنے آگئے لیکن دونوں نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف برآمد ہوئے۔ہندوستان میں حزب اختلاف کو شکست ہوئی اور حکومت اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔لیکن پاکستان میں پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت اس بری طرح ہلی کہ اسی خراب حالت میں ہوگئی جیسی2013میں اقتدار میں آنے سے پہلے تھی۔ جہاں تک مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ہے تو اگر16مئی2014 زبردست اکثریت کے ساتھ لوک سبھا میں داخل ہونے کے باعث ہندوستانی سیاست میں بی جے پی کے لیے نہایت یادگار تاریخ بنی تو 20جولائی2018بھی کسی یادگار تاریخ سے کم نہیں رہی کیونکہ اس روز بھی حزب اختلاف کو نہ صرف شرمندگی اٹھانا پڑی بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے اپنی ہی ایک حلیف مگر ناراض جماعت کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر ا11گھنٹے کی طویل بحث کے بعداپنی زیادہ تر حلیف پارٹیوں کی حمایت سے محروم ہونے کے باوجود ا یوان میں اپنی اکثریت ثابت کر کے اسے اور شرمسار اور عوام میں رسوا کر دیا ۔

کیونکہ ہر طرف سے یہی آواز اٹھ رہی تھی کہ جس حکومت کو عوام کی اکثریت نے منتخب کیا ہے اسے چند لوگ مل کر کیسے گر اسکتے ہیں۔اگر مجوعی طور پر یہ کہا جائے کہ اس تحریک عدم اعتماد نے، جو ہندوستانی پارلیمنٹ کی رتاریخ میں27ویں عدم اعتماد تحریک تھی ، مودی حکومت کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی باتیں کرنے والوں کو آئینہ دکھا دیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔علاوہ ازیں اس 11گھنٹے کی بحث کے دوران نریندر مودی کو اپنی بات گھر گھر پہنچانے کا ایسا سنہری موقع ملا جس کے لیے شاید انہیں عدم اعتماد کی تحریک نہ لانے کی شکل میں 2019کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کی انتخابی مہم کا انتظار کرنا پڑتا۔لیکن اس وقت قسطوں میں انتخابی جلسے ہونے کے باعث ایک ہی نشست میں سارے معاملات اور درپردہ اپنا پیغام اس طرح قوم کے گوش گذار نہ ہوپاتا جس طرح لوک سبھا میں عدم اعتما د تحریک کے جواب کے لائیو ٹیلی کاسٹ سے گھر گھر پہنچ گیا۔ و یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی پارلیمانی جمہوریت میں کوئی بھی حکومت اسی وقت تک مستحکم و پائیدار ہوتی ہے جب اسے پارلیمنٹ میں مکمل اکثریت حاصل ہو۔اور اس ھکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسی صورت میں لائی جا سکتی ہے جب کم از کم 50لوک سبھا اراکین کے تھریک کے نوٹس پر دستخط ہوں۔ لیکن جس طرح حزب اختلاف نوٹس دینے کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں کامیاب رہی اسی طرح حزب اقتدار حکومت بچانے کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

یوں تو 1963سے1975تک16 بارتحریک عدم اعتماد پیش کی گئی لیکن ان میں سے ایک بار بھی کوئی حکومت نہیں گری۔ ان میں سے ایک 1963میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی حکومت کے خلاف، تین بار لال بہادر شاستری اور 12بار اندرا گاندھی کی حکومت کے خلاف پیش کی گئی ۔اس کے بعد6سال کے دوران صرف ایک بار تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی جو اس وقت کے جنتا پارٹی کی حکومت میں وزیر اعظم مرار جی دیسائی کے خلاف پیش کی گئی تھی ۔اور ہندوستانی سیاست کی تاریخ میں یہ اب تک کی پہلی اور واحد تحریک عدم اعتماد تھی جو کسی حکومت کے گرنے کا باعث بنی ۔ اس سے پہلے دو سال ایمرجنسی میں نکل گئے اور ڈیسائی حکومت گرنے کے بعد کے دو سال اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس بر سر اقتدار رہی اور کوئی تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی گئی۔ لیکن کب تک خاموشی رہتی۔1981میں پھر عدم اعتماد تحریک پیش کی گئی اور ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے ایک سال کے اند رتین بار عدم اعتماد کی تحریک لا کرحزب اختلاف نے چھ سال کی خموشی کا ازالہ کر دیا۔

لیکن 1979میں تحریک عدم عتمادمیں حزب اختلاف کو ملی کامیابی کے بعد 2018تک لائی گئی تحریک عدم اعتماد کو کبھی بھی کوئی حزب اختلاف کسی حکومت کے خلاف منظور نہ کراسکی، یہ بات دیگر ہے کہ اس دورانیہ میں نرسمہاراو¿ کی قیادت والی حکومت تحریک عدم اعتماد ہارنے سے دو بار بال بال بچی۔ ایک بار وہ بمشکل تمام ووٹو ں46 سے جیتی ۔اور دوسری بار تو تقریباً ہار گئی تھی۔ لیکن جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اسے بچا لیا ۔ لیکن جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے اراکین کو اس کی پاداش میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے رشوت لے کر نرسمہاراو¿ حکومت کو گرنے سے بچایا۔یہ بات الگ ہے کہ اس تنازعہ کے باوجود نرسمہا راو¿ حکومت برقرار رہی۔آخری بار جو تحریک اعدم اعتماد پیش ہوئی تھی وہ اس وقت کی اٹل بہاری باجپئی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے خلاف تھی لیکن سونیا گاندھی کی پیش کردہ یہ تحریک بھی ناکام ہو گئی۔لیکن کسی بھی تحریک اعتماد کی ناکامی سے اس وقت کے وزیر اعظم کو اتنی تقویت او ر خود اعتمادی نہیں ملی ہو گی جس طرح 20جولائی2018کو تحریک عدم اعتماد کی ناکامی سے وزیر اعظم نریندر مودی کو ملی ہے۔

اور نریندر مودی یقیناً چاہیں گے کہ پارلیمانی انتخابات سے عین قبل بھی حزب اختلاف نہ سہی کوئی حلیف جماعت ہی درون خانہ کی گئی ساز باز سے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر ایک بار پھر ایک ہی جھٹکے میں اپنی پارٹی کا پیغام ملک گیر پیمانے پہنچا کر 2019کے لوک سبھا انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکیں ۔جبکہ دوسری طرف حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان میں حزب اختلاف کی کامیابی سے حوصلہ پا کر یقیناً کوئی ایسا فیصلہ کریں گی جو پاکستان تحریک انصاف کی طرح کسی واحد جماعت کو نہ سہی کم از کم متحدہ حزب اختلاف کو ضرور ایوان اقتدار میں پہنچا دے خواہ اس کے لیے متحدہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماو¿ں کو ذاتی بغض و عداوت اور احساس برتری کو دبائے رکھنے کا کڑوا گھونٹ پی کربادل نخواستہ ممتا بنرجی اور مایاوتی کو متحدہ حزب اختلاف کی باالترتیب وزیر اعظم اور نائب وزیر اعظم امیدوار کے طور پر ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No confidance motion in india and election in pakistan in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment