جو چپ رہے گی زبانِ خنجر، لہو پکارے گا آستین گا

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

شہزادہ گلفام محمد بن سلمان خوش قسمت ہیں کہ انہیں نقصان مایہ کچھ نہیں ہوا، بدقسمت ہیں کہ شماتت ہمسایہ ان کو بہت ملی، دنیا ان کی مذمت میں ”رطب اللسان“ ہے۔ہر روز جب صبح ہوتی ہے اور ہر شام جب شام ِ غریباں اپنی زلفیں لہراتی ہے، ساری دنیا کے اہل قلم اور اہل نظرعوام اور خواص جمال خاشقجی کی موت کا اور شہزادہ گلفام کی عقل کا ماتم کرتے ہیں۔ کیا عرب اور کیا عجم ، کیا امریکہ اور کیایورپ ، کیا ترکی اور کیا مجلس امم، سب انسانی حقوق کی پامالی اور جمال خاشقجی کے خون ناحق کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے ہیں، ہر روز و ہرجگہ یہی تذکرہ ہے۔اخبارات کے کالم اس ذکر سے لبریز ہیں ۔

جمال خاشقجی بہت بڑا صحافی تھا، سعودی تھا، لیکن سعودی شہزادہ کی پالیسی کا ناقدتھا،اس نے خود سے جلا وطنی اختیار کرلی تھی،اور واشنگٹن پوسٹ کا کالم نگار تھا، وہ1959 میں مدینہ منورہ کی سرزمین میں پیدا ہوا، اس کے آبا واجداد ترکی کے رہنے والے تھے،اور500 سو سال قبل انہوں نے حرمین شریفین کو اپنا وطن بنایا تھا، اس کے خاندان کے لوگ سعودی عرب میں وزیر بھی رہے، اور مسجد نبوی کے مؤذن بھی رہے،اسلحہ کے مشہور تاجر عدنان خاشقجی کا تعلق بھی اسی خاندان سے تھا۔جمال خاشقجی نے شادی کی تھی، اور صاحب اولاد تھا، بڑے بیٹے کا نام صلاح تھا،آخر میں اس نے ترکی خاتون خدیجہ چنگیز سے شادی کا ارادہ کیا تھا،تاکہ اس شادی کی بنیاد پراسے ترکی کی شہریت مل جائے،کیونکہ محمد سلمان کے انداز حکومت وسیاست پر اس کی تنقیدوں کی وجہ سے سعودی عرب میں اس کا عزت کے ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا،وہ اس شادی کے سلسلہ میں بعض دستاویز پر سعودی قونصل خانہ کی مہر تصدیق حاصل کرنے کےلئے قونصل خانہ کے اندر داخل ہوا، اورپھر کبھی اس عمارت سے باہر نہیں نکل سکا، زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا، شک کی تمام سوئیاں محمد بن سلمان کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔وہ2 اکتوبر کی تاریخ تھی، استنبول میںسعودی کونسل خانے کو یہ اطلاع تھی کہ جمال خاشقجی آنے والے والا ہے، اور کونسل خانہ کے ذریعہ سعودی ارباب حکومت تک بھی یہ راز افشا ہوگیا تھا،15کی تعداد میں ریاض سے سیکوریٹی پولیس کے لوگ2 طیاروں میں بیٹھ کر استنبول پہونچے اور کونسل خانہ کے اندراس وقت داخل ہوئے جب جمال خاشقجی اندر پہونچ چکا تھا، ترکی حکومت کی سیکوریٹی کی طرف سے عمارت سے باہر سی سی کیمرے لگے ہوئے تھے، کیمرے نے جمال خاشقجی کا اندر جانا ریکارڈ کرلیا، اندر کی جانب سعودی قونصل خانہ کی طرف سے جو سی سی کیمرے لگے تھے ، وہ صرف اسی دن بند کردیئے گئے تھے،کسی بڑے واقعہ کی تیاری کےلئے۔جمال خاشقجی کی منیگتر عمارت کے باہر انتظار کرتی رہی، اور11 گھنٹے گذر گئے اور جمال خاشقجی باہر نہیں آئے تو منگیتر کو شک گذرا،اس نے پولیس کو خبر کی، تو اندر کے ملازموں نے کہا کہ خاشقجی آئے ضرور تھے، مگر20 منٹ کے بعد وہ واپس چلے گئے تھے۔

شہزادہ گلفام صحافی جمال خاشقجی سے بہت برہم رہا کرتے تھے، کیونکہ خاشقجی صرف واشنگٹن کا کالم نگار نہیں تھابلکہ سعودی عرب میں صحافت کے میدان میںشاید ہی کسی نے اتنے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہوں، جتنے اس صحافی نے انجام دیئے تھے، جب افغانستان میںروس کے خلاف جنگ کا معرکہ سرگرم تھا، اس نے میدان جنگ سے سعودی اخبارات کیلئے رپورٹنگ کی تھی، وہ الجزائر، کویت، سوڈان اور مشرق وسطی میں رہ کر انگریزی اخبارات کیلئے رپورٹر کا فرض انجام دیتا تھا،وہ 1999 سے2003 تک انگریزی اخبار ”عرب نیوز“ کا ایڈیٹر رہ چکا تھا، 2004میں وہ ”صحیفة الوطن“ کا ایڈیٹر بن گیا، اس کے بعد لندن پھر واشنگٹن میں سعودی سفیر الامیر ترکی الفیصل کے میڈیا ایڈوائز رکی حیثیت سے اس نے کام کیا۔ اس نے صحافت کے میدان میں کام کرتے کرتے دنیا کی کئی مشہور شخصیتوں سے انٹرویو لئے، ان میں اسامہ بن لادن کا نام بھی ہے۔علامہ یوسف القرضاوی اور اخوان المسلمون کے سلسلہ میں سعودی عرب کی جوغیر حکیمانہ پالیسی رہی، اس پر بھی اس نے تنقیدیں کیں، وہ بے لاگ حق کا صحافی تھا،وہ قلم کا دھنی اور دل کا غنی تھا،اس کی متاع فکر ونظر میں کہیں حرص وطمع کی آمیزش نہیں رہتی تھی،ولید بن طلال نے جب عرب نیوز چینل بنایا تھاتو جمال خاشقجی کو اس کا ڈائیریکٹر بنایا گیا تھا۔ جمال خاشقجی سعودی عرب کا عظیم صحافی تھا، لیکن وہ شہزادہ سلمان بن محمدکی طفلانہ حرکتوں کواور غیر حکیمانہ پالیسی کو ناپسند کرتا تھا، اس نے پوری جرا¿ت اور بیباکی سے ان پر تنقیدیں کی تھی،اس لئے ان کو انتقام کا نشانہ بنالیا گیا۔کیونکہ سعودی عرب میں نہ آزادی ہے نہ جمہوریت، نہ کسی کو اختلاف کرنے کا کوئی حق، وہاں کے سارے عوام بے زبان جانوروں کی طرح زندگی گذارتے ہیں، ان کو کھانے پینے کا راتب مل جاتا ہے ، اس سے زیادہ کے وہ حق دار نہیں،ان کے لب ِ اظہار پر تالے ڈال دیئے گئے ہیں۔آل سعود حکومت کرنے کا استحقاق کھوچکے ہیں ۔

مختلف ذرائع سے کچھ مصدقہ اور غیر مصدقہ خبریں ملی ہیں،اور بعض نامعلوم ذرائع سے ایسی آوازوں کی ریکارڈنگ موجود ہے، جس میں جمال خاشقجی کی دلدوزچیخ سنائی دیتی ہے،کہا گیا ہے جمال خاشقجی کے ہاتھ میں جو گھڑی تھے اس میں رکارڈنگ کا آلہ موجود تھا خبریں یہ ہیںکہ سعودی سیکوریٹی پولیس کے لوگ جن میں محمد بن سلمان کے باڈی گارڈ جو خصوصی طیارے سے پہونچے تھے، انہوں نے جمال خاشقجی کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے،اور پھر اسے ایک صندوق میں بھرا، اور پھر وہ صندوق کونسلر کے گھر پہونچایا گیا، اور اس کے پائیں باغ میںجمال خاشقجی کی مثلہ کی ہوئی لاش کو دفن کردیاگیا، اور سعودی سیکوریٹی کے لوگ فوراً ترکی سے رفو چکر ہوگئے ،ایک حق گو صحافی کو قلم کی بیباکی کے جرم میںزمین میں دفن کردیا گیا، اور شہزادہ گلفام دادعیش دینے کیلئے اور سرزمین حرم کو بدنام کرنے کیلئے، زمین پر موجود ہے۔ جسے سزا ملنی چاہئے تھی وہ زندہ ہے، اور جسے زندہ رہنا چاہئے تھا وہ مردہ ہے۔

دل صاحب انصاف سے ، انصاف طلب ہے

سعودی حکومت جرم کی پردہ پوشی کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہی ۔ پہلے اس نے کہا کہ جمال خاشقجی قونصل خانہ میں داخل ہوئے تھے اور پھروہ واپس چلے گئے تھے ۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ جمال خاشقجی کا قونصل خانہ میں داخل ہوناثابت ہے اور عمارت پر لگے ہوئے کیمرے میں اس کا عکس موجود ہے لیکن کیمرے اس کا واپس جانا نہیں دکھاتے ہیں ۔ سعودی حکومت کے پاس اس اعتراض کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ مجبور ہوکر سعودی حکومت نے اپنا بیان بدلا اور کہا کہ قونصل خانہ میں بحث وجدال میں جمال خاشقجی اور سعودی اشخاص کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آگئی جس کی وجہ سے خاشقجی کی موت ہوگئی اور یہ قتل غیر عمد کا معاملہ ہے سوال یہ ہے کہ لاش کو پھر کیوں چھپایا گیا اور پولیس کو کیوں خبر نہیں کی گئی ۔ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نےمضمون میں درج ا?را مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ، نیوز 18 اردو کا ان سے اتفاق ضروری نہیں۔

مطالبہ کیا ہے کہ ۸۱ اشخاص کو جو قتل میں ملوث ہیں ترکی کے حوالہ کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جاسکے ان میں پندرہ اشخاص تو وہ ہیں جو بارادہ جرم قتل سعودی عرب سے آئے تھے اور تیں قنصل خانہ کے افراد ہیں ۔ ترکی کا کہنا ہے کہ چونکہ جرم استنبول میں ترکی میں کیا گیا ہے اس لئے اس پر مقدمہ کی کاروائی بھی ترکی میں ہونی چاہئے ، یہی قانون ہے ۔اور انصاف کا یہی تقاضہ ہے ۔رجب طیب اردغان نے واضح طور پر کہا کہ اس کی تحقیق ہونی چاہئے کہ کس کے حکم اورکس کے اشارہ پر یہ قتل کیا گیا ہے ۔ سعودی سیکوریٹی کے لوگ اور پرنس کے باڈی گارڈ از خود یہ جرم کرنے کے چارٹر طیاروں میں بیٹھ کر نہیں آسکتے ہیں ۔سعودی عرب کا دعوی ہے کہ قرآن مملکت کا دستور ہے ۔ اگر ایسا ہے توقاتل کی وہی سزا ہونی چاہئے جو قرآن میں مذکور ہے یعنی قصاص ۔

یادش بخیر ، پاکستان میں ضیاءالحق کے زمانے میںبھٹو کو پھانسی دی گئی تھی،بھٹو کا جرم یہ تھا کہ اس نے اپنے کسی مخالف کے بارے میں، اپنے قریبی لوگوں کو یہ حکم دیا تھا Annihilate him یعنی اسے مارڈالو،بھٹو کا یہ حکم عدالت میں ثابت ہوگیا تھا، چنانچہ بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی ، اب اگر عدالت میںپورے طور پر یہ ثابت ہوجائے کے محمد بن سلمان نے مارڈالنے کا حکم دیا تھاتو بطور قصاص محمد بن سلمان کو پھانسی پر چڑھا دینا چاہئے، انصاف کا تقاضہ یہی ہے۔شریعت کا یہی حکم ہے ۔” شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑادوگردن“۔

حیرت بالائے حیرت تو امام حر م شیخ السدیس پر ہے جنہوں نے تملق چاپلوسی کے تمام رکارڈ توڑ ڈالے اور محمد بن سلمان کی تعریف میں وہ الفاظ استعمال کرڈالے جو حضور اکرم ﷺ نے حضرت عمر کے لئے استعمال کئے تھے اگر امت کے اندر غیرت وحمیت کی کوئی رمق باقی ہے تو اس کے افراد ایسے امام کے پیچھے نہ نماز پڑھنا پسند کریں گے نہ اس کی تلاوت سننا گوارا کریں ” ایسی نماز سے گذر ایسے امام سے گذر “ سعودی عرب نے اسلام کو بہت بدنام کیاہے، دنیا سعودی عرب کو حرمین کی سرزمین کی وجہ سے اسلام کی نمائندگی کرنے والا ملک سمجھتی ہے، اور اسلام کی نمائندگی کرنے والے ملک میںناانصافی ہو، ظلم ہو، انسانی حقوق کی پامالی ہو، استبدادی نظام قائم ہو، عوام کی آزادی سلب کرلی جائے، ملک کے خزانہ کو ذاتی جاگیر بنالیا جائے تو ایسی حکومت کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھیکنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سعودی عرب کیلئے پورے عالم اسلام میں رائے عامہ کی تشکیل ہونی چاہئے، اور علماءکو چاہئے کہ وہ حق بات کہنے میں کسی کے مفاد کااور لومة لائم کا خیال نہ کریں۔

profmohsinusmani@gmail.com

( مضمون میں جو اظہار خیال کیا گیا ہے وہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات و احساسات ہیں ، اردو تہذیب ڈاٹ کام کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jamal khashoggis assassination and saudi crown prince mbs in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment