خان صاحب !قومی تعمیر کیلئے اپوزیشن کو ساتھ لیں

گل بخشالوی

تحریک انصاف کے وزیر اعظم صاحب قومی سیاستدانوں کی کپتانی کا خواب دیکھنا چھوڑدیں آپ تحریک انصاف کے نہیں پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ۔قوم پسندوں نے ابتداءمیں کہا تھا کہ ٹھنڈا کھائیں اگر قوم نے تبدیلی کے نام پر اعتماد کا ووٹ دیا ہے تو قوم کا احترام کر یںکسی کی دُم پر پاﺅں رکھو گے تو جواب میں نہ صرف آپ کو بلکہ قومی اداروں تک کو معاف نہیں کریں گے جانتے ہیں تحریک انصاف کی ایک سالہ حکمرانی میں اپوزیشن دن میں تارے دیکھ رہی ہے اپوزیشن کی آنکھ کھل گئی ہے لیکن تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی بھی خلائی مخلوق نہیں ۔چند ایک کے سوا سب سابقہ حکمران جماعتوں سے پرواز کرکے آئے ہیں رہی بات اتحادیوں کی تو اتحادی ذاتی مفادات کےلئے حکمران جماعت کیساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور جب بھی اُن کو ذاتیات کی بھوک لگتی ہے تو وہاں مارتے ہیں جہاں پانی تک نہیں ہوتا۔مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم مارشل لاءکی پیدوار ہیں اُن کو قابو کرنا آپ کے بس کی بات نہیں اس لےے بحیثیت وزیر اعظم پاکستان سوچیں گنڈاسارکھ دیں اپنے وزیروں ،مشیروں اور درباریوں کو بھی سمجھا دیں کہ میڈیا آزاد ہے وہ اپنے مزاج کے خلاف بولنے والوں کو کھڑ ے کھڑ ے ننگا کر دیتے ہیں جن اداروں پر آپ کو بھروسہ ہے اُن کی ہمدردی قومی استحکام کیلئے اگر حکمران جماعت کیساتھ ہے تو اُن اداروں کے احترام کی کوشش کریں مخالفین کو گالیاں دیں گے تو بدنام ادارے ہوں گے بخوبی جان لیں کہ قومی ادارے تحریک انصاف کے نہیں پاکستان کے ہیں ۔

خان صاحب ادارے کے قومی مفاد میں سوچتے ہیں اپوزیشن جماعتوں پر اُنگلی اُٹھاتے ہوئے سوچ لیا کریں کہ تالاب میں ایک شیطانی مچھلی پورے تالاب کو گدلا کردیتی ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی بھی عوامی نمائندے ہیں اُن کا احترام لازم ہے ۔بدعنوانی کے مرتکب لوگوں کو عدالت کے رحم وکرم پرچھوڑدیں پاکستان کی فکر کریں آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے اپوزیشن نے اگر قومی ادارے کے احترام اور استحکامِ جمہوریت کےلئے تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے تو جان لیں کہ صرف آپ ہی محب ِوطن نہیں اور بھی بہت ہیں پاکستان اور افواجِ پاکستان سے محبت کرنیوالے قوم بخوبی جانتی ہے کہ مارشل لاءکی پیدوارایم کیو ایم کا شیرازہ کیوں اور کیسے بکھ گیا ۔مسلم لیگ ن کا شیرازہ اُن کے اپنوں کے ہاتھ بکھر چکا ہے اگر مسلم لیگ ن مکافاتِ عمل کا شکار ہے تو یہ تحریک انصاف کا کمال نہیں بلکہ وہ اپنے اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں اس لےے کہ مسلم لیگ ن ذاتی مفادات کے علاوہ کسی کو نہیں سوچتی شریف برادران ذاتی مفادات کیلئے جھک جایا کرتے ہیں اور جب مفاد حاصل ہوجائے تو اپنوں کو بھول جایا کرتے ہیں ۔بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کی بھی آنکھیں کھل گئی ہیں ایک مریم نواز کے علاوہ پوری فیملی برطانیہ کی گود میں جابیٹھی ہے۔
خان صاحب!اگر اس وقت آپ کے مقابلے کی کوئی سیاسی جماعت ہے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے اس کو نظرانداز کرنا تحریک انصاف کی سب سے بڑی غلطی ہوگی اگر پی پی کے وجود میں شہید قیادت کی روح جاگ اُٹھی تو قومی سطح پر اس کا مقابلہ آپ کے لےے مشکل ہوگا اس لےے کہ بھٹو خاندان نے عوام ،استحکام ِپاکستان اور جمہوریت کی شادابی کیلئے اپنے خون کا نذرانہ دیا ہے ۔

خان صاحب! آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد آپ کی حکمرانی کے پاﺅں مضبوط ہوگئے ہیں لیکن مت بھولیں ، ادارے صرف تحریک انصاف کے نہیں قوم جانتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکمرانی کی طرف بڑھنے والے طوفان کا زور کسی حد تک کم ہوگیا ہے لیکن اگر آپ کے وزیر اور مشیر اپنے مقام اور اداروں کا احترام بھول گئے تو انجام مسلم لیگ ن سے مختلف نہیں ہوگا۔قوم پاکستان اور قومی اداروں کیساتھ کھڑی ہوتی ہے سیاستدان اور اُن کی حکومتیں آتی جاتی ہیں اس لےے قومی تعمیر نو کیلئے اپوزیشن کو ساتھ لیں قومی مفاد میں اُن کے مشورے پر آگے بڑھیں گے تو راستے کے تمام کانٹے اپنا وجود کھودیں گے ۔

ARYچینل کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کے سامنے تحریک انصاف کے وزیر فیصل واوڈانے میز کے نیچے سے بوٹ نکال کر جن الفاظ میں اُس کا ذکر کیا انتہائی توہین آمیز تھا کسی بھی مہذب قوم کا ایک ذمہ دار شخص ایسا نہیں کر سکتا لیکن جو لوگ اقتدار کے نشے میں اپنے خاندانی وقار تک کو نظر انداز کردیتے ہیں وہ چاہے جس قدر بھی خود کو تہذیب یافتہ کہیں قوم کی نظر میں وہ پڑھے لکھے جاہل ہوتے ہیں ۔

جیونیوز کے حامد میر نے ایک گھنٹہ کے اپنے پروگرام میں فیصل واوڈا کو اس کے عمل قوم سے معذرت کیلئے کہالیکن وفاقی وزیر مسلم لیگ ن کے گزشتہ کل کی بات کرتے رہے اُسے اپنے عمل پر شرم نہیں آئی۔وزیر نے یہ ضرور کہا کہ وزیر اعظم نے میرے اس عمل کو پسند نہیں کیا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ سانحہ کربلا کے بعد یزید نے بھی شمر ملعون سے کہا تھا کہ تم نے برا کیا لیکن اُس کا سرقلم نہیں کیا ۔عمران خان نے بھی واوڈا کے عمل پر اُن سے وزارت نہیں لی جہاں تک بوٹ کی بات ہے تو بوٹ ہر کوئی پہنتا ہے لیکن جب کسی حوالے سے ذکر ہوتا ہے تو تصور میں فوج کی تصویر آتی ہے جیسا کہ اگر کالے کوٹ کا ذکر کریں تو تصویر میں وکیل ہی آتا ہے اس لےے واوڈا کے عمل کو اگر دیکھا جائے تو اُس نے اپوزیشن کی نہیں اپنے وزیراعظم کی توہین کی ہے پروگرام میں وفاقی وزیر کا عمل انتہائی غیر اخلاقی تھا اور جس انداز میں وہ ذکر کررہا تھا ایک قومی ادارے کی تذلیل کی بدترین کوشش تھی لیکن تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے کبھی بھی خود کو بحیثیت وزیر اعظم نہیں سوچا ۔وہ صرف تحریک انصاف کا وزیر اعظم ہے اگر ایک صحافی کو سرِعام تھپڑ مارنے کا نوٹس لیا جاتا فواد چوہدری کو اُس کے جرم کی سزا ملتی تو فیصل داوڈا کبھی بھی ایسی جرات نہیں کرتے لیکن قوم یقینی طور پر جان گئی ہے کہ تحریک انصاف کے وزراءاپنی قیادت کی خواہش پر ایسا کررہے ہیں لیکن اگر دلائل میں مسلم لیگ ن کے وزراءکے عمل کا ذکر کیا جائے تو تبدیلی کس بات کی قوم نے اس لےے تبدیلی کو ووٹ نہیں دیا کہ جو عمل سابقہ دور کے وزراءکرتے رہے وہی کچھ تحریک انصاف کے وزراءکریں اگر یہی کچھ کرنا ہے تو تبدیل کردو ۔پیمرانے کاشف عباسی پر 60دن کی پابندی قابل تحسین لیکن قوم منتظر ہے کہ وزیرا عظم پاکستان اپنے بداخلاق اور بدتہذیب وزراءکے خلاف کیا قدم اُٹھاتے ہیں ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan should honour the nation and opposition in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.