پلوامہ حملہ :پاکستانی فوج کا تحریری بیان، بزبان عمران خان

(سید اجمل)

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی14فروری کو ہونے والے پلوامہ دہشت گردانہ حملے پر ،جس میں سینٹرل ریزرو پولس فورس(سی آر پی ایف) کے 40سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے تھے،خاموشی پر ایک دنیا حیرت زدہ ہے کیونکہ یہ وہی عمران خان ہیںجو 3ماہ پہلے پلوامہ میں ہی سلامتی دستوں کے سات افراد کی ہلاکت پر سراپا احتجاج بن گئے تھے اور انہوں نے چیخ پکار کر کے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ عمران خان نے نہ صرف ان ہلاکتوں کی مذمت کی تھی بلکہ ہندوستان کو دھمکی بھی دی تھی کہ وہ اس معاملہ کو اقوام متحدہ تک لے جائیں گے۔اس وقت انہوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر تشدد اور ہلاکتوں سے نہیں صرف مذاکرات سے ہی حل ہو سکتا ہے۔ اور ہم آئی او کے میں ہندوستان کے ذریعہ حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے معاملہ کو اقوام متحدہ تک لے جائیں گے اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کا اپنا وعدہ وفا کرے۔

لیکن آج یہی عمران خان نے پلوامہ میں ہی ہونے والے اس ہلاکت خیز اور ہولناک فدائین حملے کی ،جس میں اتنی بڑی تعداد میں ہندوستانی سپاہیوں کی ہلاکت ہوئی ہے، مذمت اور تعزیت تو دور کی بات اظہار افسوس تک نہیں کیا اور لب دوزی کیے رہے ۔یہ جانتے ہوئے بھی اس حملے کے پس پشت سرزمین پاکستان پر پھل پھول رہے دہشت گرد گروہ جیش محمد کا سرغنہ مسعود اظہر کا دماغ کار فرما ہے عمران خان نے اس تنظیم کی مذمت تک نہیں کی۔ اگر وہ اتنا بھی کہہ دیتے کہ اگر اس حملے میں جیش محمد کا ہاتھ ہے یا اس کے سرغنہ مسعود اظہر نے اس کی سازش رچی ہے توان کے اس کہنے میں کہپاکستان اس کے لیے ہندوستان سے شواہد کا انتظار کیے بغیر تحقیقات کرے گاتو یقیناً خلوص کچھ حد تک ہی صحیح نظر آتا اور محسوس ہوتا کہ عمران خان تحقیقات کرانے میں سنجیدہ ہیں ۔ لیکن انہوں نے جب زبان کھولی بھی تو اس حملہ کی مذمت کرنے، تحقیقات کرانے یا ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہارتعزیت یا ہمدردی کے دو بول بولنے میں تاخیر کی معذرت کرنے کے بجائے سیداھ یہ کہہ کر لٹھ مارا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کیاتو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ جبکہ ہندوستان کی طرف سے سرکاری سطح پر ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا کہ پلوامہ فدائین حملے کا جواب پاکستان پر حملے سے دیا جائے گا۔

اس کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم کا اس قسم کا بیان دینا چہ معنی دارد۔ ہاں البتہ عوامی سطح پر اس کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سے انتقام لیا جائے اور اسے سبق سکھایا جائے۔ ہم شروع سے ہی کہتے آرہے ہیں کہ عمران خان عوامی مقبولیت کی بنا پر بر سر اقتدار نہیں آئے بلکہ انہیں آئی ایس آئی اور فوج کی ساز باز سے بر سر اقتدار لایا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان ایسا بیان دینے پر مجبور ہیں ۔کیونکہ انہوں نے پلوامہ معاملہ پر جو بیان دیا وہ ان کے انداز بیاں سے ہی چغلی کھا رہا تھا کہ یہ فوج کا لکھا بیان ہے جسے عمران خا ن اسٹوڈیو میں سامنے لگے اسکرین پر دیکھ کر پڑ ھ ر ہے ہیں ۔اس بات کو اس لیے اور بھی تقویت پہنچتی ہے کہ پلوامہ حملے کے کئی روز گذر جانے کے بعد عمران خان نے زبان کھولی اورتاخیر کا عذر سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے پیش نظر حکومتی مصروفیات کہہ کر پیش کیا۔ جبکہ عام خیال یہی کیا جارہا ہے بلکہ صد فیصد یہی ہوا بھی ہوگا کہ وہ کوئی بیان دینے سے پہلے فوج اور آئی ایس آئی کی ہدایات یا ان میں سے کسی ایک کے تحریری بیان کا انتظار کر ہے ہوں گے۔

اب جبکہ مسعود اظہر کا ایک ویڈیو سامنے آچکا ہے جس میں وہ اکتوبر 2018میں اپنے بھتیجے عثمان کی ہلاکت پر انتقام کی آگ میں جھلس کر کشمیری نوجوانوں کو فدائین حملے پر اکسا رہے ہیں عمران خان کا انجان بنا رہنا تجاہل عرافانہ سے کام لینا نہیں تو کیا ہے کہ وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ہندوستان سے شواہد مانگ رہے ہیں ۔جبکہ مسعود اظہر کا یہ و یڈیو ہی سب سے بڑا ثبوت ہے جو انہوں نے فوجی اسپتال کے بستر علالت سے جاری کیا۔ واضح ہو کہ پلوامہ حملہ سے ایک ہفتہ قبل مسعود اظہر نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں مسعود اظہر کو ان اشتعال انگیز الفاظ کےساتھ کشمیری نوجوانوں کو اکسا تے دکھایا گیاہے ”کشمیرکے نوجوانوں ! کیا عثمان بیٹے کی شہادت آپ سب کو کھڑا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ انڈیا نے آپ کو یہ آپشن دیا ہے کفریت اختیار کرو، غلامی قبول کرو یا مظلومیت کے ساتھ مرو۔

آپ یہ دونوں آپشن اس کے منھ پر مار کر عزت اور شہادت کے راستے پر آجائیں۔ مسعود اظہر نے کہا ان حملوں کے بعد کوئی انہیں دہشت گرد کہے گا، کوئی جنگلی اور وحشی کہے گا، کوئی نکمہ کہے گا ۔کوئی پاگل کہے گا اور کوئی انہیں امن کے لیے خطرہ کہے گا۔لیکن انہیں نہ روکو،انہیں جانے دو اور سرحد پار تباہی مچانے دو۔ اس ویڈیو کے جاری ہونے کے کچھ ہی روز بعد پلوامہ کا یہ فدائین حملہ ہوا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حملہ میں مسعود اظہر کا ہی نہیں بلکہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کا بھی ہاتھ ہے۔اب اس کے بعد بھی عمران خان کو کسی اور ثبوت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن عمران خان اسے ثبوت کیوں ماننے لگے کیونکہ مسعود اظہر ان دونوں پاکستانی اداروں کا، جو اس وقت پاکستانی حکومت چلا رہے ہیں،منظور نظر ہے۔ اس کے خلاف کچھ بولنا اقتدار سے معزولی کو دعوت دینا ہے ۔

اور وہی حشر ہوجانا ہے جومیاں محمد نواز شریف اور ان کے باعث پورے شریف خاندان کا ہورہا ہے۔بہر حال اگر عمران خان سنجیدہ ہیں اور فوج و آئی ایس آئی کے کٹھ پتلی نہیں ہیںاور عوامی مقبولیت کے بل پر حکومت چلا رہے ہیں تو وہ سب سے پہلے مسعود اظہرکو جو اس وقت بھاولپور میں موجود ہے، گرفتار کر کے اس پر باقاعدہ مقدمہ چلائیں۔اور مقدمہ کی کارروائی دیکھنے کے لیے کسی ہندوستانی سفارت کار کو عدالت میں موجود رہنے کی اجازت دے۔ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ عمران خان نے نو بال کی ہے ۔اور آج کی کرکٹ میں نو بال کی سزا”فری ہٹ“ ہوتی ہے۔اور کیچ یا بولڈ ہوجانے کے باوجود ”ہٹ لگانے والا“ ناٹ آؤٹ قرار دیا جاتا ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan puppet of military in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.