عمران خان اور افواجِ پاکستان

گل بخشالوی

مکة المکرمہ میں جمعتہ الوداع کے دن او آئی سی کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے امریکہ اور اسرائیل کوپریشان کر دیا ۔امریکہ اور اسرائیل بار سوچ رہے ہیںلگتا ہے کہ پاکستان مسلم بلاک بنانے کی راہ پر چل پڑے ہیں ۔اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کے پہلے عوامی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی یہ ہی کردار ادا کیاتھا لیکن پاکستان میں اُس کے مخالف سیاسی جماعتو ں نے امریکی اور اسرائیلی گماشتوں سے محبت میں ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ نہ دیا اور ایک عالمی قومی لیڈر کو ماورائے عدالت قتل کر وادیا ۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک کے عظیم سربراہان کا انجام بھی عبر ت کا نشان بنا کر دنیائے اسلام کو خوف میں مبتلا کر دیا یہ ہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل بیت المقدس کو دارالخلافہ بنانے جارہا ہے بیت المقدس یعنی قبلہ اوّل میں جمعتہ المبارک کے دوران عبادت گزاروں پر مسجد ِاقصیٰ کی بے حرمتی کرتے ہوئے جوتوں سمیت داخل ہوئے اُس وقت جب اسلامی سربراہی کانفرنس کا اعلامیہ ترتیب دیا جارہا تھا ۔یہ پیغام تھا اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک عالم اسلام کے ممالک کے سربراہوں کے نام کہ آپ کچھ بھی کرلیں ہم ظلم وستم اور بربریت جاری رکھیں گے اسلامی سربراہی کانفرنس کا علامیہ کس نے کس کی خواہش پر لکھا قطع نظر اس کے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ترکی کے صدر طیب اردغان کے بعد دنیائے اسلام کے ممالک میں مسلمانوں پر ظلم وستم کا مقدمہ بڑی بے جگری سے پیش کیا لیکن او آئی سی کے اعلامیہ میں کشمیر کو نظر انداز کیا گیا جب کہ کشمیر کا ذکر کھل کر کیا گیا عمران خان نے کہا کہ دنیا میں پائیدار امن کیلئے فلسطین اور کشمیر کےساتھ دوسرے اسلامی ممالک کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا ۔

دنیا بھر میں صاحب ِفکر وخیال دانشور طبقے نے کھل کر عمران خان کو ایشیاءکا دلیراور نڈر لیڈر قرار دے کر دنیائے اسلام کا ہیرو کہہ دیا لیکن صورتحال اپنے پاکستان میں آج بھی وہی ہے جو پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں تھی پاکستان کی شکست خوردہ سیاسی قیادت جن کو پاکستان کی عوام نے ووٹ کی طاقت سے مسترد کردیا اُس سیاسی کچرے کا کوا آج بھی سفید ہے میں نہ مانوں کی بے سری بانسری بجانے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نالائق وزیر اعظم ہےں۔ درست کہہ رہے ہیں اس لےے کہ وہ دنیائے اسلام کو سوچ رہا ہے پاکستان اور پاکستان کے خوبصورت مستقبل کو سوچ رہاہے ۔

سابق حکمران اور موجودہ اپوزیشن کے ہارے ہوئے جواریوں کی نظر میں عقلمند وہ ہے جو دونوں ہاتھوں سے پاکستان اور پاکستان کی عوام کو لوٹے نام نہاد جمہوریت کے علمبردار مغربی آقاﺅں کے اشارے پر تحریک انصاف کی حکمرانی کے درپے ہیں ۔وہ عمران خان کو بحیثیت قومی اور بین الاقوامی ہیرو تسلیم نہیںکرتے یہ اُن کی مجبوری ہے اگر تسلیم کر لیں تو اُس کا اپنا سیاسی مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔اُن کی موروثی سیاست کا سورج ہمیشہ کیلئے غروب ہوجائے گا اس لےے وہ ایک بارپھر عوامی تحریک کی صورت میں نکل کر قوم کو ورغلارہے ہیں اور بدقسمی سے ہم عوام اُن کو تحفظ دے رہے ہیں پوری دنیا جانتی ہے کہ سب چور ڈاکو اور لٹیرے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت اُن کی مالی حیثیت کیا تھی اقتدار میں آنے سے قبل کیا تھے اور اگر آج اربوں اور کھربوں کے مالک ہیں تو یہ کہاں سے آئے۔ ان کو ہم نے کبھی نہ سوچا اور نہ سوچ رہے ہیں لیکن اگر قوم کے شعور کی آنکھ نہ کھلی قوم لکیر کی فقیر رہی اپنے د ماغ سے نہ سوچا اپنے ضمیر کو بدزبانوں کے گیت سنواسنواکر سلائے رکھا تو پاکستان کی آخری اُمید ایک عظیم محب وطن پاکستانی اور عوام دوست وزیر اعظم سے محروم ہوجائے گی ۔

عالم اسلام کے دشمن بے چین اور پریشان ہیں اس لےے افواجِ پاکستان ،عمران کیساتھ پاکستان کے اندرو نی ور بیرونی محاذوں پر کھڑی جاگ رہی ہے ۔خوش بختی ہے پاکستان اور پاکستان کی !! عوام کی قیادت عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ جیسے اسلام دوستوں کے ہاتھ میں ہے ۔دونوں کی سوچ د نیائے اسلام میں عالمی امن کے گرد گھوم رہی ہے موجودہ انتہائی پریشان کن حالات میں بھی پاکستان دشمن قوتیں عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت سے خوفزدہ ہیں اور پاکستان کی اپوزیشن ،پاکستان اور عوام ہیں جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود نہ پاکستان کو سوچتے ہیں اور نہ پاکستان کی عوام اور نہ ہی عالم اسلام پر یہودی قوتوں کی یلغار کو ہم نہ تو اپنا دفاع سوچتے ہیں اور نہ ہی ضمیر کو جاگنے دیتے ہیں۔ ہم عقل کے پیدل اور شعور کے اندھے لوگوں نے اس وقت بھی پاکستان اور عالم اسلام کو نہ سوچا تو بہت دیر ہوجائے گی اور اگر واقعی! دیر ہوگئی تو کل خدانہ کرے دنیا کے نقشے پر دمکتے پاکستان کے مہکتی عوام کی تصاویر اور ویڈیو میں ہماری حالت فلسطین ،کشمیر ،بوسینیا اور دوسرے ممالک کی عوام سے مختلف نہ ہو گی ۔دشمن دہشت گردی کی صورت میں یلغار کا آغاز کر چکا ہے ضمیر فروش اپنا ضمیر فروخت کرچکے ہیں چہروں پر مختلف نوعیت کے نقاب اوڑھے ہمارے درمیان آباد ہوچکے ہیں۔ ہمیں اپنے اطراف میں دیکھنا اور سوچنا ہوگا حکومت ِوقت اور افواجِ پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا اس لےے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ ہی رضا ہے اس لےے کہ کل جو شور مچا رہا تھا مجھے کیوں نکالا ۔آج شور مچا رہا ہے مجھے باہرنکا لو ۔لیکن قدرت کی خاموش لاٹھی گھوم چکی ہے انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان دنیائے اسلام کی شان میں اپنی پہچان ہوگا ۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan is close to pakistans army in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.