وسعت اللہ خان صاحب !عمران خان جیسے لوگ کبھی کبھی پید اہوتے ہیں

گل بخشالوی

اگر پہلے برس میں ہی یہ حال ہوگیا ہے کہ نہیں چھوڑوں گا ماروں گا چن چن کر ماروں گا پانچ چھ ہزار لٹکادو،تو سب ٹھیک ہوجائے گا زرد صحافت کا علاج گالی گھونسہ اور تلوار تو سوچئے کہ اگلے چار برس کس طرح یہ حکومت اور پرجا گزار پائے گی اگر حکماءعظام ہی مشغل بے نظام ا پنا لیں گے تو گلی محلے کے تلنگے کہاں جائےں گے ۔

یہ اقتباس ہے وسعت اللہ خان کے کالم سے وسعت اللہ خان حالات ِحاضرہ پر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں ہم جیسے لکھنے والے ایسوں سے سیکھتے ہیں لیکن وسعت اللہ خان کے اس کالم پر تعجب ہوا اب نہیں جانتا کہ وسعت اللہ خان کا یہ کالم حکماءعظام کیلئے مشعل راہ ہے یا اُن کے اقدامات پر تنقید ،وسعت اللہ خان کی سوچ کچھ بھی ہو لیکن اتنا تو کہنے کا حق حاصل ہے کہ وسعت اللہ خان سے پوچھ لیں بھائی کیا ہوگیا کیا آپ گزشتہ کل بھول گئے ،

میرے بھائی یہ مکافاتِ عمل ہے جو کسی نے بویا وہ کاٹ رہا ہے پہلے کے حکماءعظام نشہ اقتدار میں کہاں تھے۔ گلی محلے کے تلنگوں اور اُن میں فرق کیا تھا خاص لوگوں کی خوشنودی کیلئے عام لوگوں کےساتھ کیا کرتے رہے کیا آپ رانا ثناءاللہ ،عابد شیر علی اور خواجہ سعد رفیق کی بولتی اور بھڑکیں بھول گئے سرِعام خاص لوگ عام لوگوں کے درپے تھے کچھ اغواءہوتے رہے کچھ سرِعام سڑکوں پر پولیس گردی کا نشانہ بنتے رہے کسی کی بوری بند لاش ملتی رہی ۔کوئی ناکردہ جرم میں جیلوں کی ہوا کھاتا رہا ۔اندھیر نگری چوپٹ راج کو کیسے کوئی بھول سکتا ہے ڈالر تو اُس وقت ان کے قابو میں تھا پھر بھی پیٹرول 115اور 120روپے لیٹرملتا رہا جانے آپ کیوں بھول گئے جو کچھ سابقہ حکماءعظام نے کیا اُس کا تو ثمر ہی کھارہے ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں

حکماءعظام کو تو آپ سن رہے ہیں۔ موت آتی ہے تو آئے اقتدار جاتا ہے تو جائے مگر چھوڑوں گا نہیں، چن چن کر ماروں گا ،سب چوروں اور لٹیروں کو پکڑوں گا ۔وہ جن کی بات کر رہے ہیں وہ گلی محلے کے تلنگے اور لفنگے نہیں، وہ ہیں جو میرے اور آپ جیسے عام شہری کا جینا عذاب کےے ہوئے تھے اور اگر آج اُن کا جینا اُن کیلئے عذاب ہے تو آپ کیوں پریشان ہیں ۔پریشانی کیلئے جیونیوز کے اینکر وینکرکافی ہیں ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں وسعت اللہ خان صاحب ،جب کوئی انسان فرعون کا روپ اختیار کرتا ہے تو خالقِ کائنات اُس کی سرکوبی کیلئے موسیٰ ؑاُن ہی کے گھر پروان چڑھتا ہے ۔ عمران خان جیسے لوگ کبھی کبھی پید اہوتے ہیں جونہ تو دولت کے طلبگار ہوتے ہیں اور نہ شان وشوکت کے وہ عوامی اور قومی خدمتگار ہوتے ہیں وہ منافق نہیں ہوتے کل کے بدترین سیاسی حریف ذاتی مفاد کیلئے آج کے سیاسی بہن بھائی نہیں ہوتے ۔یادہے نہ آپ کو قائد اعظم ؒسے کسی نے پوچھا کس قوم کیلئے جان ماررہے ہو اور کیوں ماررہے ہو تو محمد علی جناح نے فرمایاتھا صرف ایک اعزاز کیلئے ۔بروزِ محشر جب رب ِکریم کے حضور پیش کیا جاﺅں تو رب کریم فرمائے ویلڈن مسٹرجناح۔ یہ ہی میری زندگی کا مقصد ہے او رعمران خان کی بھی یہی سوچ ہے وہ بھی اپنی آخرت سنواررہا ہے ۔

اب آپ یہ کہیں گے کہ میں نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں میں عمران خان کاساتھی نہیں جن کا تھا اُن کو دفن کر دیا گیا ہے لیکن اُن کے دفن ہونے کے باوجود وہ دفن نہیں ہوئے وسعت اللہ خان میں آپ کے درد کو بخوبی جانتا ہوں آپ نے گزشتہ کل بھی دیکھا آج بھی دیکھ رہے ہیں اور آنے والے کل کو بھی محسوس کررہے ہیں ۔دوراندیشوں کا یہی عمل ہوتا ہے وہ قوم اور ملک کیلئے سوچتے ہیں اس لےے کہ خدا نے اُس کو قوم او رملک کیلئے سوچنے کی توفیق سے نوازا ہوتا ہے آپ بھی چاہتے ہیں کہ قدم اختیاط سے اُٹھایا جائے۔قسم ،قدم اور قلم اُٹھانے سے قبل ہر کسی کو سوچنا چاہےے اس لےے کہ قوم نے اگر اعتماد کا ووٹ دے کر تخت ِاسلام آبا د پر بٹھایا ہے تو تخت ِاسلام آبادکی قدر کریں ۔ہر قدم پاکستان اور پاکستان کی عوام کی بہتری کیلئے اُٹھائیں ۔ہر محب ِوطن کی یہی خواہش ہے اس لےے کہ عمران خان کی آخری اُمید ہیں لیکن آپ دیکھ رہے ہیں عوام کی منتخب حکمرانی پر کبھی بے غیرتی اور بے حیائی سے گندگی اُچھالی ایوانوں کو مچھلی منڈی کی صورت میں آپ دیکھ رہے ہیں ۔کوئی آپ کے اخلاق اور قومی محبت کو تھپڑمارے تو آپ کیسے خاموش رہ سکتے ہیں ۔ایسے حالات میں خاموشی بزدلی کی علامت ہوا کرتی ہے اقتدار کا کیا ہے آج ہے کل نہیں لیکن شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے لیکن شیر بھی ٹیپو سلطان ہو۔ یہ شیر نہ تو مسلم لیگ ن کا ہے اور نہ ہی کرکٹ کے کپتان گیڈر ہیں ۔کپتان نے ہوش ٹھکانے لگادئےے ہیں اُن کے جوکہہ رہے ہیں کپتان بےوقوف ہے اگر یہ بیوقوفی ہے تو جانے عقلمندی کیسی ہوگی ۔
رہی بات زرد صحافت کی تو اُنگلی آپ کی طرف کیوں نہیں اُٹھتی آپ کو تھپڑ کیوں نہیں پڑتے آپ کے کالموں میں آپ کے الفاظ بھی تو دودھاری تلوار ہوا کرتے ہیں لیکن آپ لکھتے ہیں قوم کیلئے اپنے ضمیر کی آواز پر وہ لکھتے ہیں جو سچ ہوتا ہے ۔

وسعت اللہ خا ن صا حب اگر عمران خان ہتھیلی پر سرسوں جمارہا ہے تو غلط نہیں کر رہا اس لےے کہ اُس نے Dچوک میں کنٹینرپر کھڑے ہوکر قوم سے جس وعدے پر اعتماد کا ووٹ لیا ہے قوم سے وہ وعدہ نبھارہے ہیں ۔اگر مظلوم قوم کی آہ سے عرش ہلا ہے تو یہ قوم پر رازقِ کل کی کرم نوازی ہے قوم پر رحم وکرم کی برسات ہے عام لوگوں کو برسات میں نہا نے کا تماشہ دیکھیںان کر جی بھر کے نہانے دیں اس لےے کہ خاص لوگ تماشہ دیکھ رہے ہیں اپنے گزشتہ کل کے کردار کا اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات و نظریات ہیں ۔اردو تہذیب پورٹیل کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan is a man who keeps his word in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.