مایوس نوجوانوں میں اُمید کی جوت جگادی !

تحریر:شاہد ندیم احمد

پاکستان آبادی میں تیز رفتار اضافے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے،اس ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور مالیاتی بدانتظامی نے فیصلہ سازوں کو کبھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی طرف مائل نہیں کیا۔یہاں جسمانی و ذہنی لحاظ سے مضبوط اور متحرک حصے کا قومی معیشت میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اسی طرح بے روزگارہے جس طرح تعلیم سے محروم بے بسی کا شکار ہیں۔ملک کے قابل قدر سرمائے کے طور پر موجود لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لئے ملازمتوں کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں جو روزگار نہ ملنے سے خود بھی مایوسی اور ذہنی گراوٹ کا شکار ہوتے ہیں ،جبکہ انکے والدین بھی اپنے مستقبل کا سہارا بننے والی اپنی اولاد کی بڑھتی ہوئی مایوسی کو دیکھ کر حالات کا ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری بڑھنے کی بڑی وجہ سابقہ حکمرانوں کی جانب سے میرٹ کا جنازہ نکالنا،اقرباپروری اور کرپشن کلچر کو فروغ دینا اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تقاضوں کا ادراک نہ کرنا ہے جس کے باعث ملک میں روزگار کے مواقع محدود ہوتے گئے اور سرکاری اور نجی شعبہ میں نئے مواقع نکالنے کیلئے کوئی تردد بھی نہ کیا گیا ،چنانچہ ملک میں بے روزگاری کا سیلاب آگیا اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے خاکروب اور چپڑاسی کی نوکری کا حصول بھی مشکل ہوگیا۔ اس صورتحال میں اپنے مستقبل سے مایوس ہونیوالے نوجوانوں نے خودکشی یا جرائم کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ اختیار کیا ،نتیجتاً ملک میں چوری ،ڈکیتی ،رہزنی ،قتل و غارت گری اور اسٹریٹ کرائمز میں بتدریج اضافہ ہونے لگا اور عملاً افراتفری کا ایساماحول پیدا ہوگیا جو کسی معاشرے کو غیرمتوازن بنانے کا باعث بنا کرتا ہے۔

ملک پر طاری غیریقینی کی اس فضا میں عمران خان نے کرپشن فری سوسائٹی اور فلاحی ریاست کا نعرہ لگایا اور نوجوان طبقہ کو اچھے مستقبل کی نوید سنائی تو اپنے مستقبل سے مایوس ہونیوالے یہی نوجوان انکے دست و بازو بن گئے۔ اس تناظر میں ملک کا نوجوان طبقہ ہی عمران خان اور انکی جماعت تحریک انصاف کی اصل طاقت ہے اور انہیں اقتدار کی مسند تک پہنچانے میں بھی نوجوان طبقے کا ہی زیادہ عمل ہے جس نے عمران خان کی عوامی تحریک سے انتخابی مراحل کے اختتام تک انکے تبدیلی اور نئے پاکستان کے ایجنڈا کو سرخرو کرنے کیلئے متحرک کردار ادا کیا اور وہ عملاً انکی ڈھال بنے رہے۔ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے نوجوانوں کو اپنے اچھے مستقبل کیلئے امید کی کرن نظر آنے لگی ،تاہم ملک کی اقتصادی مشکلات سے عہدہ براہونا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح بن گئی، کیونکہ ملکی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرکے ہی اپنے اقتدار کو تقویت پہنچائی جاسکتی تھی۔ تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی دس ماہ اسی کشمکش میں گزر گئے اور حکومت کی توجہ برادر مسلم اور دوست ممالک سے بیل آﺅٹ پیکیج لینے اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے پر ہی مرکوز رہی ہے۔

بے شک وزیراعظم اور انکی کابینہ کے ارکان نوجوانوں کے اچھے مستقبل کی نوید سناتے رہے اور انہوں نے دس لاکھ نئی نوکریاں نکالنے کا بھی اعلان کیا ،تاہم اس معاملہ میں کوئی عملی پیش رفت نہ ہوپائی ،جبکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کی پی ٹی آئی حکومت کی پالیسی سے روزگار کے مواقع بڑھنے کے بجائے بے روزگاری میں اضافہ ہونے لگا اور پھر سرکاری اور خودمختار اداروں میں کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کے عمل سے ملک میں مہنگائی کی طرح بے روزگاری کا بھی سیلاب آگیا جو پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی بڑھانے کا باعث بنا۔یہ صورتحال یقیناً حکومت کیلئے لمحہ فکریہ تھی ،کیونکہ عوام بالخصوص نوجوانوں نے اپنے غربت ،مہنگائی ،بے روزگاری کے گوناں گوں مسائل میں فوری ریلیف کیلئے ہی عمران خان کو اپنے مسیحا کا درجہ دیا اور انہیں اقتدار کے مینڈیٹ سے سرفراز کیا تھا۔ تحریک انصاف حکومت کی جانب سے ضمنی میزانیوں کے ذریعے نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور بجلی ،گیس ،پٹرولیم مصنوعات اور ادویات کے نرخوں میں بتدریج اضافہ کے باعث اٹھنے والے مہنگائی کے سونامیوں نے عوام کو عملاً زندہ درگور کردیا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ان مسائل سے عاجز آکر تہیہ طوفان کئے بیٹھے ہیں جسے بھانپ کر اپوزیشن جماعتوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر حکومت کیخلاف طوفان اٹھانے کا موقع مل گیا ہے۔ اس فضا میں اپنے مستقبل سے مایوس ہونیوالے نوجوانوں کو کسی حکومت مخالف تحریک کیلئے استعمال کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

یقیناً وزیراعظم عمران خان اور انکی ٹیم کو حالات کی اس نزاکت کا بخوبی ادراک ہے۔ چنانچہ انہوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس معاملہ پر سیرحاصل بحث مباحثہ کراکے نوجوان طبقات کو مایوسی کے دلدل سے نکالنے کی ایک ٹھوس جامع پالیسی طے کرلی جو ”کامیاب نوجوان پروگرام“ کے تحت ملک کے نوجوانوں کیلئے نہ صرف ملازمتوں کے مواقع نکالے گی ،بلکہ انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے کیلئے بھی آسان قرضوں کی شکل میں مالی معاونت فراہم کریگی۔ اس سکیم میں نوجوان خواتین کیلئے 25 فیصد کوٹہ مختص کرنا باصلاحیت خواتین کیلئے آگے بڑھنے اور انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے اچھے مواقع فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ اس ا سکیم کیلئے ایک کھرب روپے مختص کرنا ہی ہر باصلاحیت ،مگر بے روزگار نوجوانوں کیلئے ا سکیم سے مستفید ہونے کی ضمانت ہے۔ اگر اس ا سکیم کو نوجوانوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے عہد کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کردیا گیا تو اس سے مستقبل کے معمار نوجوانوں پر حاوی ہونیوالے مایوسیوں کے بادل چھٹ جائیں گے جو تحریک انصاف کا ہی نہیں،ملک کا بھی قیمتی اثاثہ بنیں گے، تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ ماضی جیسے محض زبانی جمع خرچ سے کام نہ لیا جائے، بلکہ حقیقی عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور اس اسکیم کا حشر پچاس لاکھ گھروں کی اسکیم جیسا نہ ہونے دیا جائے۔

تحریک انصاف کا حامی نوجوان طبقہ ہے ،یہ نوجوان سیاسی مصلحتوں،رشوت ،سفارش اوربدعنوانی سے بیزار ہے۔ حکومت کی روزگار اسکیم میں اگر ضمانت اور کاروبار کی نگرانی کا نظام زیادہ موثر اور آسان بنا دیا جائے تو اس کے فوائد عام نوجوان تک پہنچ سکتے ہیں۔آج اپوزیشن جماعتیں جس طرح حکومت کا گھیرا تنگ کرنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہیں، اگر حکومت نے اپنے مستقبل سے مایوس ہونیوالے نوجوانوں میں امید کی جوت جگا دی اور انہیں اپنے خاندانوں کی کفالت کے قابل بنا دیا تو اپوزیشن کو انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ اس کیلئے بہرصورت عملیت پسندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، بصورت دیگر بے روزگار نوجوانوں میں اپنے مستقبل کے حوالے سے مایوسی بڑھے گی تو تحریک انصاف قیادت کے ساتھ وابستہ ان کا رومانٹکزم(romanticism) بھی ٹوٹنے لگے گا ۔اس سلسلے میں یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ کشف بنک، اخوت فاﺅنڈیشن ایس ایم ای بنک ،خوشحالی بنک وغیرہ جیسے ادارے چھوٹے قرضے دینے اور ان کی واپسی کا بہترین تجربہ رکھتے ہیں۔ ایسے اداروں کے ذریعے اگر نوجوانوں کو قرض فراہم کیا جائے تو بہت سے فنڈز نئے انتظامات پر خرچ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور یہ ا سکیم ان افراد کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا ذریعہ ثابت ہو گی جو اب تک ریاست کے مہربان چہرے سے واقف نہیںہیں۔
ای میل:sadaaysehar@gmail.com

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Imran khan brings hope for disappointed youths in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.