ہجومی بالا دستی کی سنیں نہ خود سپردگی کریں

پرویز ہودبھائی

آسیہ بی بی فیصلہ کے فوراً بعد بنائی گئی ایک اشتعال انگیز ویڈیو کو تقریباً50لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔ جس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ٹی ایل پی قیادت آسیہ بی بی کو توہین رسالت مقدمہ میں بری کرنے والے تینوں ججوں کو قتل کرنے اورپاکستانی فوج کے افسران کو چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوا کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسا رہی ہے اس کے علاوہ اس میں ، ملک کے وزیر اعظم کو ایک یہودی بچہ کہا جا رہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت کا تختہ پلٹنے کہا جا رہا ہے۔ویڈیو میں مقرر پیر افضال قادری ہیں لیکن ان کے آگے تحریک لبیک پاکستان کے بانی لیڈر خادم حسین رضوی ہیں۔ اپنی غلیظ، گندی اور بازاری زبان استعمال کرنے میں مہارت رکھنے کے حوالے سے معروف رضوی نے اس ویڈیو میں تقریر نہیں کی لیکن پیر جی افضال کی تائید میں وقفہ وقفہ سے ہاتھ بلند کرتے اور کراتے رہے۔کسی زمانے میں ایک چھوٹا سا مدرسہ چلانے والے رضوی نومبر میں تین ہفتہ تک ناکہ بندی سے اسلام آباد کو مفلوج رکھنے کے بعد قومی سطح پر نمایاں ہو گئے۔انہوں نے پورے پاکستان میں ختم نبوت مظاہروں کی قیادت کر کے طاقت حاصل کی ۔

پاکستانی معاشرے کے کسی اور شخص نے قتل اور بغاوت کی کال دی ہوتی تو اسے ناقابل تصور سزا دے جا چکی ہوتی۔ اسی طرح دیگر ممالک میں ہوتا ہے:امریکہ میں خونیں بغاوت پر اکسانے پر برسوں کے لیے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، ایران اور سعودی عرب میں ایسے عناصر کو پھانسی دے دی جاتی ہے یا سر عام گردن اڑا دی جاتی ہے۔اور چین میں پراسرار طور پر وہ بندہ ہی لاپتہ ہوجاتا ہے۔اور ہندوستان میں؟ میرے خیال میں شاید کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہم بظاہر نسبتاً نرم اور رحمدل ہیں ۔ہماری عدلیہ جو عام طور پر بڑی چرب زبان ہے اچانک ہی بے زبان ہو جاتی ہے۔ خاطی سیاستدانوں کے خلاف توہین عدالت کارروائی کرنے میں طاق سپریم کورٹ ٹی ایل پی لیڈروں کو توہین عدالت کے لیے طلب نہیں کرتی۔ہمیشہ چوکنا اور آنکھ کان کھلی رکھنے والی آئی ایس پی آر کوبھی فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بغاو ت پر اکسانے کی کال نہیں سنائی دی گئی۔اس کے بجائے اس نے آسیہ بی بی معاملہ کو قابل قبول اور پرامن طریقہ سے حل کرنے کی استدعا کی کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ اس معاملہ میں فوج کو گھسیٹا جائے۔

اور وزیر اعظم؟ ”ملک کے دشمنوں “ کے خلاف ان کے جارحانہ الفاظ اور جسمانی حرکات و سکنات کی ہر طرف سے پذیرائی ہوتی ہے اور پسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔کچھ آزاد خیال اسے بڑی بہادری کے ساتھ عمران خان کا بہترین وقت قرار دیتے ہیں۔لیکن یہ وقت ایک گھنٹے بھی نہیں چلتا اور دم توڑ دیتا ہے۔ جس کی تان تو دھاڑ جیسی ہوتی ہے لیکن ٹوٹتی ممیانے پر ہے۔ فسادیوں کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹی ایل پی کی بڑی نحیف و نزار معافی کو قبول کر لیا جاتا ہے۔

عمران خان اب آگ کا جواب آگ سے دینا چاہتے ہیں۔ان کا حالیہ موضوع گفتگو ”علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل “ اور پاکستان کو ساتویں صدی کا مدینے جیسی شکل میں ڈھالنا ہے۔ ان کے وزیر اطلاعات نے عید میلادالنبی کی غیر معمولی تقریبات منانے اور اسلام آباد میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔ اور کہا تھا کہ امام حرم ،شام کے مفتی اور کئی معروف علماءو مشائخ مدعو کیے جائیں گے۔

عمران خان نے یہ نئے منصوبے ٹی ایل پی کے حامیوں اور دیگر کو یہ جتانے کے لیے کہ ٹی ایل پی سے زیادہ وہ حضور محمد ﷺ سے محبت کرتے ہیں ان امیدوں کے ساتھ بنائے تھے کہ آسیہ بی بی کا معاملہ پر ٹی ایل پی ہنگامہ آرائی نہ کر سکے اور معاملہ اس کے ہاتھوں سے نکل جائے۔لیکن کیا یہ آسیہ بی بی کے معاملہ میں مددگار ثابت ہو گا؟ اور کیا آئندہ کسی بحران تک (اس قیاس کے ساتھ موجودہ بحران کسی طرح ختم ہو جائے)بھی یہ کارآمد رہے گا۔

لیکن جس طرح ملا طاقت بڑھ رہی ہے کسی کو اتنا پر امید نہیں ہونا چاہئے۔علماءنے یہ یقین کر لیا ہے کہ وہ کسی بھی سیاستداں کو اور ضرور ت پڑی تو فوجی جنرلوں تک کو اپنی مٹھی میں لے سکتے ہیں۔ان کا یہ اعتماد بے سبب نہیں ہے۔اور ایسا قول و عمل سے ثابت بھی ہے۔ 2007میں اسلام آباد کی جو لال مسجد ڈھادی گئی تھی وہ عظیم الشان طریقہ سے دوبارہ تعمیر کر دی گئی اور فوجی جنرلوں کو شکست ہو گئی۔

غور کرنے کی بات ہے کہ شورش پسند علماءاپنے150طلبا اور دیگر انتہاپسندوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن لال مسجد کے مہتمم اعلیٰ مولانا عبد العزیز 2007کے مقابلہ 2018میں زیادہ آسودہ حال ہیں اور پہلے زیادہ عیش عشرت کی زندگی گذار رہے ہیں۔ 111ایس ایس جی کمانڈوز کی ہلاکت پر ان کے خلاف کوئی الزامات عائد نہیں کیے گئے۔جبکہ اسکے برعکس اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف آج دوبئی میں بڑی اداس، پریشان حال اور کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ان کے خلاف دیگر الزامات میں پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت اور لال مسجد کے سرغنوں میں سے ایک کو ہلاک کرنے کا الزام شامل ہے۔

علماءکی طاقت سے لڑنے میں حکومت کا پس و پیش اس کے کیے گئے وعدوںکو کھوکھلا ثابت کرتا ہے۔مثال کے طور پر مدرسو ں کی اصلاح کا وعدہ پورا نہیںکیا گیا۔انسداد دہشت گردی منصوبہ عمل کو،جو مدرسوں کی مالی گوشوارے کی آڈٹ،چندہ حصولی کے وسائل وذرائع ظاہر کرنے،ناب تعلیم میںتوسیع و نظرثانی اور مدرسوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا متقاضی ہے، نہ صرف پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ اسے فراموش ہی کر دیا گیا۔ منصوبہ کوناکارہ اور بے مصرف بنا دیا گیا ہے۔ٹی ایل پی کے مدرسوں کی آڈٹنگ کرنے کی کوشش کی جائے۔سلامتی اداروں کو خود سے یہ مشکل سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا مذہبی انتہاپسندی کو دھارے میں لانے کے لیے انہوں نے کوئی محنت کی۔کیا انتہاپسندوں کو سیاسی دھارے میں لا کر واقعتاً اعتدال پسند بنایا جا سکتا ہے؟ سیاسی بساط پر سخت دیوبندی طاقت اور نرم بریلوی طاقت میں توازن لانے کی کوشش کے لیے کیا یہ اچھا قدم ہے۔
منفی نتائج بر آمد ہوتے ہیں: ایک طرف ایک سال پہلے عمران خان نے نواز شریف مخالف کیمپ میںرضوی کا خیر مقدم کیا تھا۔اور جو دیگر لوگ نواز شریف کی شکست دیکھنا چاہتے تھے مزید ایک قدم آگے بڑھ گئے اور انہیں فسادیوں میں ایک ایک ہزار کے نوٹ تقسیم کرتے ایک ویڈیو میں ریکارڈ کر لیا گیا۔سیاسی نقطہ نظر سے یہ بہت پریشان کن معاملہ ہے کیونکہ رضوی اور ان کے منظور نظر نوجوان اپنے راستے نکل چکے ہیں۔

ٹی ایل پی یقیناً ایک فضول سرمایہ کاری رہی۔اس کے برعکس دوسری جماعت ایک اچھی سرمایہ کاری بن سکتی تھی۔دیوبندی مسلک کے لشکر طیبہ/جماعت الدعویٰ کو اپنی الگ سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ(ایم ایم ایل)تشکیل دینے کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی۔ پھراگست2017میں اس نے لاہور میں این اے 120کے ضمنی انتخابات میں چوتھی پوزیشن حاصل کر کے قومی سیاسی افق پر حیران کن ڈیبو کیا۔ایم ایم ایل کے انتخابی پوسٹروں میں نواز شریف کو ہندوستان کے ساتھ امن کی باتیںکرنے پر غدار بیان کر کے ان کی مذمت کی گئی اور حافظ سعید کی تصاویر سجائی گئیں ۔

لشکر طیبہ /جماعت الدعویٰ نے دھمکی دی ہے کہ نہ فوج نہ حکومت۔ اس کے ترجمان نے گذشتہ ہفتہ کے پر تشدد احتجاجوں کے دوران یہ کہتے ہوئے سپریم کورٹ کو غیر اہم کر دیا کہ جماعت الدعویٰ نے آسیہ بی بی کو بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی ہے اور سڑک پر آنے سے پہلے قانونی عمل کے اختتام کا انتظار کرے گی۔ کیسا سکون ملا!حکومت کے کچھ حلقہ اسے ایسا اچھا اور مناسب رویہ گردانیں گے گویا وہ قومی دھارے کے نظریے کو جائز ٹہرا رہی ہے۔لیکن سیاست میں مذہبی لیڈروں اور سابق انتہاپسندوں کو شامل کرنا اچھا خیال نہیں ہے۔جب عوام کی ایک کثیر تعداد بے سوچے سمجھے جذباتی نعروں پر بہنے لگیں تو ہر شخص ایک دھماکہ خیز اورغیر مستحکم صورت حال کے خطرے سے دووچار ہوجائے گا۔ نتیجہ میں سیاسی لیڈران اور وہ عناصر بھی،جو پس پردہ سیاسی نتائج تیار کرتے ہیں، غیر محفوظ ہو جائیں گے۔کیا سوویت یونین کے دور میں ہم نے خوفناک منفی نتائج نہیںبھگتے؟پاکستان کو چاہیئے کہ وہ مذہبی جنون سے سرشار ہجومی بالا دستی کو سختی سے کچل دے ۔اور وہ انہیں ایک مہذب معاشرےاور ایک آ فاقی سماج کاحصہ بنانے کی جانب راغب کرے ۔خود سپردگی کوئی متبادل یا علاج نہیں ہے۔

(مضمون نگار اسلام آباد اور لاہور میں فزکس کے پروفیسر ہیں ۔وہ کئی ایوارڈز سے سرفراز کیے جاچکے ہیں ۔پاکستان میں تعلیم عام کرنے کی کوششوں اور تعلیمی مسائل اجاگر کرنے سبب انہیں1990میں فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا۔ )

Don't listen and surrender to mob rule

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dont listen and surrender to mob rule in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment