پرینکا گاندھی کی سرگرم سیاست میں آمد سے سیاسی گلیاروں میں ہلچل

جس وقت راہل گاندھی کو کانگریس پارٹی کی صدارت سونپی جارہی تھی اسی وقت سے پرینکا گاندھی کی پارٹی میں آمد کاانتظار کیا جا رہا تھا۔ سب منتظر تھے کہ آنجہانی وزیر اعظم اندراگاندھی جیسی کرشماتی شخصیت کی حامل پرینکا گاندھی باقاعدہ طور پر پارٹی میں کب شامل ہوں گی؟ یہ سوال یوں ہی ملک گیر پیمانہ پر گردش کرتا رہا اور آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بدھ کا دن تمام قیاس آرائیوں اور سوالوں کے شاندار جواب کی شکل میں سامنے آ گیا ۔

ابھی پارٹی میں ان کی آمد کیا ہوئی اور پارٹی کی فلاح و بہود کے بارے میں کچھ غور و فکر کر بھی نہیں سکیں کہ مخالفین سکتے میں آگئے ۔دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں مخالفین کی طرف سے بیان بازی شروع ہوگئیں ۔ جبکہ دوسری جانب کانگریسی کارکنان کی یہ دیکھ کر باچھیں کھل گئیں کہ انہیں پرینکا گاندھی کی شکل میں ایک بڑی طاقت حاصل ہو گئی ۔ ان کی آمد کو نیک فال سمجھا جارہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اندرا گاندھی کا روپ اختیار کرنے والی پرینکا دادی کا اثر و رسوخ لئے ہوئی ہے۔ جس کا مظاہرہ گاہے بگاہے انتخابات کے موقع پر دیکھنے کو ملا ہے۔ لیکن مستقل طور پر پارٹی سے وابستگی نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کو اتنا فائدہ نہیں ہوسکا ۔

ایسے وقت میں جبکہ ممتا بنرجی نے تین روز قبل کلکتہ کی سر زمین میں ایک عظیم الشان ریلی میں ہندوستان کے سابق وزیر اعظم ، موجودہ اورسابق وزراءاعلی سمیت کئی اہم سیاسی لیڈران کو ایک اسٹیج پر جمع کرکے بی جے پی کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے عزم مصمم کیا ہے۔ جس میں کانگریس کی نمائندگی کے لیے ملک ارجن کھرگے پہنچے ہوئے تھے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی صورتحال میں اگر کانگریس ان تمام کے ساتھ عظیم اتحاد میں شامل ہوجائے تو وزیر اعظم کی کرسی کانگریس کو نصیب نہیں ہوگی۔

یوں تو اس وقت کانگریس میں پرینکا گاندھی کو جنرل سکریٹری مقرر کر کے انہیں مشرقی یوپی کی کمان سونپی گئی ہے لیکن آثار و قرائن بتا رہے ہیںکہ ان کی ذمہ داری صرف یوپی ہی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ لوک سبھا انتخاب میں پورے ملک میں وہ پارٹی کی انتخابی مہم چلائیں گی ۔ عام خیال یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہن کی آمد سے بھائی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے ، ان کی پارٹی کو طاقت ملی ہے۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اب کانگریس کسی پارٹی سے اتحاد کرنے یا عظیم اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے اپنے ہی دم خم پر پورے ملک میں لوک سبھا انتخاب کے لئے لڑے گی ؟ یا پھر پرینکا گاندھی بھی عظیم اتحاد کے سر میں سرملاتی نظر آئیں گی ؟ آیا وہ اپنی ذہانت سے پارٹی کو عظمت رفتہ واپس دلانے میں کامیاب ہوںگی یا پھر بھائی اور ماں کی طرح پارٹی کی رکنیت تک ہی محدود رہ جا ئیں گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

لیکن اس حقیقت سے انکا ر بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پرینکا گاندھی کی کانگریس میں آمد سے بی جے پی کی نیند یںضرور حرام ہو چکی ہیں۔ اس کے لیڈروں کو حالیہ دنوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس کے ہاتھوں ملی شکست اور راہل گاندھی کی بڑھتی سیاسی مقبولیت سے سکون و چین نہیں مل رہا تھا ۔ادھر رافیل معاملہ میں راہل گاندھی کے مستحکم و مضبوط موقف سے بی جے پی لرزاں و ترساںہے ، دو دن قبل ای وی ایم ہیکنگ کو لیکر ہوئے انکشاف کی وجہ سے بھی تفکرات کے بحر میں غوطہ زن تھی ہیکہ اچانک پرینکا گاندھی نے سیاسی میدان میں قدم رنجہ فرما کر انہیں ماہی بے آب کی طرح تڑپا دیا ہے۔

تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ پرینکا کی آمد کانگریس کے حق میں نعمت غیر مترقبہ اور اچھا شگون ثابت ہوئی ہے یا بی جے پی کو ایک اور ایسا موضوع دے دے گی جس سے وہ یہ کہہ کرکانگریس کو سخت ہدف تنقید بنا سکے کہ گاندھی خاندان کی بالا دستی برقرار رکھنے کے لیے کانگریس اس کے ایک اور فرد کوسرگرم سیاست میں لے آئی۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Can priyanka gandhi change ups narrative in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.