افغانستان میں قیام امن کی راہ میں پاکستان اصل رکاوٹ: ڈیموکریسی فورم کے سمینار میں مقررین کا اظہار خیال

لندن : یہاں گذشتہ دنوں دی ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام ”افغانستان اور اسے درپیش چیلنجز“ کے موضوع پر ایک سمینار میں مقررین نے ظاہر خیال کرتے ہوئے افغانستان میں امن قائم کرنے کی راہ  میں پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹ سے تعبیر کیا ۔اس سمینار میں دانشوروں اور ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک گروپ نے مباحثہ میں حصہ لیا۔ فورم کے صدر لارڈ بروس نے عزت مآب سفیر طیب سعید جواد کا سمینار کے لیے وقت نکالنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام اور افغانستان کے اس کے پڑوسیوں سے تعلقات کی موجودہ صورت حال اور اس کی داخلی سلامتی کے لیے عالمی طاقت کی سیاست سے برآمد ہونے والے نتائج ڈیموکریسی فورم اور ایشین افئیرزکے لیے مستقل تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے افغانستان کے ان چیلنجوں پر اظہار خیال کیا جو اس کی تاریخی جغرافیائی نتائج کاپر تو ہیں۔انہوں نے ہندوستان یں برطانوی راج کی وضاحت کی کہ کس طرح لینڈس ڈاؤن نے لائن آف کنٹرول کے طور پرڈورنڈ لائن کھینچی تھی جو مطلق العنان تھی اور جس نے کہ افغان علاقوں کو منقسم کر دیا تھا اور مستقبل کے تنازعات کے محرکات چھوڑ دیے تھے۔ انہوں نے نسلی و نظریاتی انتشار پر بھی اظہار خیال کیا کہ اس سے ایک واحد افغان حکومت کے تحت اتحاد رک گیا۔رجائیت اور خوش خلقی کی گنجائش نہیں رہی لیکن حالیہ سیز فائر اور دوحہ تک امریکی مشن کی روشنی میں افہام و تفہیم سے تنازعہ طے پاجانے کی امید کی کرن نظر آرہی ہے۔

عزت ماٰب سفیر طیب سعید جواد نے ایک ہی سہ پہر میں افغانستان کے تمام چیلنجوں پر سیر حاصل بحث کے لیے سمینار کے اولوالعزم ایجنڈاکا ذکر کیا لیکن وہ سمینار کے مقررین کی سفارشات کے منتظر تھے۔ انہوں نے افغانستا ن میں امداد بہم پہنچانے پر مغربی ممالک سے اظہار تشکر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے افغانستان میں امن پرمتضاد رپورٹوںاور امن عمل میں پیش رفت کے لیے روایتی حکمت کے متبادل کا ذکر کیا۔حکومت افغانستان اکثر و بیشتر امن منصوبہ کے بارے میں پوچھتی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ امن منصوبہ ہے لیکن وہ روڈ میپ نہیں بلکہ تعلقات عامہ کی شکل میں ہے۔امن منصوبہ کے بجائے امن کی سوچ کی ضرورت ہے۔سفیر جواد نے اکثر و بیشتر ظاہر کیے جانے والے اس نظریہ کے خلاف اظہار خیال کیا کہ مسئلہ افغان کا فوجی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ یا آپ کا دشمن اس کا متحمل ہے تو اس کا فوجی حل ہے۔ لہٰذا کوئی امن عمل میں اسی وقت شامل ہو سکتا ہے جب دونوں فریق کمزور ہوں۔ افغانستان میں امن کے لیے ایک عملی اسٹریٹجک (ٹیکٹیکل نہیں)سوچ، جس میں حقانی نیٹ ورک یا آئی ایس جیسے دہشت گردانہ گروپوں سے مذاکرات شامل ہیں، بہت اہمیت کی حامل ہے۔یہ جنگ کی حقیقت ہے۔ضرورت صرف پیش رفت کرنے کی ہے اور جہاں اس جانب قدم بڑھا پھر بڑھتا ہی رہے گا۔

پہلے دو مقررین کا نام لینے سے قبل ہنری جیکسن سوسائٹی کے چیرمین ڈاکٹر جان ہیمنگزنے خود مختاری، سلامتی اور اقتصادی خوشحالی کے امور نیزسفارت کاری کے حوالے سے شمالی کوریا اور افغانستان کے درمیان موازنہ کیا۔

نیو یارک یونیورسٹی میں انٹرنیشنل کو آپریشن سینٹر کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر برنیٹ روبین نے کہا کہ دشمن سے پہلیبار سامنا کرنے میں ہی کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے افغانستان کے داخلی حالات کے بین الاقوامی پہلوؤں کو دیکھا اور ان سوالوں پر توجہ مرکوز کی کہ امن معاہدے کے بعد ملک کی اسٹریٹجک پوزیشن کیا رہے گی خاص طور پر امریکہ اور امریکی سلامتی دستوں کا رول کیا ہوگا۔انہوں نےطالبان کے اس مطالبہ کا بھی ذکر کیا کہ تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ پڑوسی ممالک پاکستان، ایران اور چین جیسے پڑوسی ممالک بھی یہی چاہ رہے ہیں۔ اس لیے ” مفاد کا سنگم “ہے۔ڈاکٹر روبین نے اپنے ہی ملک کو فنڈ دینے کے وافر وسائل پیدا کرنے کی افغانستان کی نااہلیت کی سیاسی اہمیت پر بات کی۔اسی لیے وہ غیر ملکی امداد پر انحصار کرتا ہے۔

انہوں نے افغانستان کی تاریخی حیثیت کو برطانیہ اور روسی شہنشاہیت کے درمیان حائلی مملکت سے تعبیر کرتے ہوئے ڈورنڈ لائن کو بھی حائلی زون بتایا۔ڈاکٹر روبین نے یہاں تک کہا کہ چونکہ افغانستان اندرونی ماحول سے درپیش زبردست خطرے سے دوچار ہے اور افغان عوام کی جانب سے سماجی خدمات کا تقاضہ کیا جا رہا ہے اس لیے افغانستان غیر ملکی امداد پر اور زیادہ انحصار کر رہا ہے۔انہوں نے ملک میں داخلی خلفشار ،بون معاہدے سے طالبان کے اخراج اور اپنے اقتصادی و فوجی مفادات کے لیے چین کے اہم رول پر بھی اظہار خیال کیا۔

سوال جواب کے دوران ڈاکٹر روبین سے حقانی، آئی ایس اور ان جیسے دہشت پسند گروپوں سے مقابلہ کرنے کے لیے افغانستان میں مستقبل میں ایک انسداد دہشت گردی پلیٹ فارم کے حولاے سے استفسار کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس تنزعہ پع ایک عالمی نظریہ کی ضرورت ہے۔سامعین میں سے ایک افغان نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ حقانی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی مدد کر کے ہزاروں افغانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔جس پر سامعین میں ہی موجود ایک پاکستان بھڑک اٹھا اور کافی دیر تک دونوں میں تلخ کلامی ہوتی رہی۔چیرمین ہیمنگز کسی طرح معاملہ رفع دفع کر کے پروگرام کو واپس ڈھرے پرلانے میں کامیاب ہو گئے۔

آر یو ایس آئی میں سینیئر ریسرچ فیلو ایمیلی ونٹر بوتھم نے کہا کہ برسوں سے امن قائم کرنے کی متعدد کوششوں کے بعد بھی افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے شش و پنج کی کیفیت ہے۔لیکن انہوں نے کہا کہ ادھر کچھ عرصہ سے حالات کا دھارا پوری رفتار کے ساتھ سیدھ میں چلتا دکھائی دے رہا ہے۔ فی الحال وہاں مواقع اور مواقع تباہ کرنے والے دونوں ہی ہیں۔ جہاں تک رکاوٹوںکا تعلق ہے تو ونٹر بوتھم نے ایک سوال کیا۔ ”کیا طالبان مذاکرات کے لیے تیار ہیں؟ ‘ حملوں میں حالیہ اضافہ اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ فوجی کارروائی بند ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور رکاوٹ افغانستان کے بارے میں امریکی سوچ ہے۔مثبت پہلوسے دیکھا جائے تو امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کی ضرورت پر اتفاق رائے بن رہا ہے۔حالیہ فائربندی سے طالبان میں پہلے سے زیادہ اتحاد و اتفاق رائے پایا گیا۔ونٹربوتھم نے کہا کہ طالبان کی کامیابی ان کی اپنی مقبولیت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی غیر مقبولیت کے باعث ہے۔افغان عوام امن کے مفاد میں سمجھوتہ کرنے کے خواہاں ہیں خواہ حقوق انسانی پر ضرب ہی کیوں نہ پڑ رہی ہو کیونکہ ملک میں عام خواہش استحکام ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ایڈمنڈ اے والش اسکول آف فارن سروس میں سیٹر فار پیس اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر کرسٹائن فیئر نے ’چاہ بہار کو ٹرمپ سے محفوظ ‘ رکھنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت اس بارے میں عوام سے جھوٹ بول رہی کہ کتنے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے۔وہ افغانستان کو زیر کردینے کی صریح من گھڑت کہانی سنا رہی ہے۔ڈاکٹر فئیر نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کے دو فصلی رویہ کے باعث اس کی امداد میں تخفیف کرنے کی وہ نظریاتی طور پر حمایت کرتی ہیںوہیں اس پر بھی تشویش ہے کہ کہیں پاکستان امریکہ کے ذریعہ افغانستان کی قومی فوجوں کو سامان رسد پہنچانے کے لیے استعمال کی جانے والی والی سڑک (گراؤنڈ لائن آف کمیونیکیشن) یا فضائی حدود تک رسائی ہی نہ بند کر دے۔اور اگر کوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ملا تو امریکہ کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔اور ایسی صورت میں چاہ بہار کی اہمیت بڑھ جائے گی لیکن ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کے ٹرمپ کے فیصلہ کا مطلب یہ کہ چاہ بہار داؤ پر لگ جائے گی۔ڈاکٹر فئیر نے کہا کہ افغانستان ایک محدودآمدنی والا ملک ہے اور اس کا انحصار غیر ملکی اقتصادی امداد پر ہی نہیں اپنے عمدہ وسائل پر بھی ہے۔پھر وہ خشکی سے بھی گھرا ہوا ہے اور پانی تک اس کی رسائی پاکستان کے راستے ہی ہے جبکہ پاکستان سامان کی نقل و حمل کے لئے اپنی زمین استعمال کرنے کے لیے افغانستان کو اجازت نہیں دیتا۔خاص طور پر پاکستان ہندوستان کو افغانستان سے زبردست تجارت سے باز رکھنے کے لیے اپنی جغرافیائی وضع قطع کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔اس لیے چاہ بہار ہندوستان کے لیے بھی سامان کی نقل و حمل کے نقطہ نظر سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ایک چالو بندرگاہ اقتصادی طورپر افغانستان کی اقتصادیات کی کنجی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سقم رہ گیاتو کیا ہم واقعتاً چاہتے ہیںکہ چین قدم رنجہ ہوجائے؟ ڈاکٹر فئیر نے یہ کہتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی کہ افغانستان میں جنگ اور فوج کے حوالے سے ہم غلط سوالات کر رہے ہیں۔اگر ہم افغانستان کے لیے کوئی رستہ نہیں نکال سکتے کہ وہ خود بوجھ اٹھانے کا راستہ تلاش نہیںکرلیتا اس وقت تک افغانستان کا کوئی حل تلاش نہیںکیا جا سکتا۔

کنگز کالج لندن کے وزیٹنگ پروفیسر ڈاکٹر انٹونیو گیوستوزی نے افغانستان میںآنے والے امن کی شکل پر نظر ڈالتے ہوئے معلوم کیا کہ کیا جمہوری اور پائیدار امن کےلیے سرخ قالین بچھنے والا ہے یا صورت حال مزید پیچیدہ ہونی ہے؟انہوں نے افغانستان میں ایک مثبت کھلاڑی کے طور پر روس کے کردار اور طالبان کی مشغولیات کے حوالے سے بات کی۔انہوں نے یہ جاننے کی بھی کو شش کی کہ طالبان کیا سوچتے ہیں اور افغانستان میں امن ان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ڈاکٹر گیوستوزی نے یہاں تک کہا کہ افغانستان میں نہ صرف طالبان دیگر فریقوں سمیت مختلف گروپوں کے ذاتی مفادات محفوظ رکھنا ہوں گے۔

دوران سوال جواب ایک سامع نے کہا کہ یہ سن کر رنج ہوا کہ طالبان کو اتنی اہمیت اور کریڈٹ دیا جا رہا ہے جبکہ ان کی نکیل پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ ایک دوسرے شخص نے سوال کیا کہ اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان دونوں کا کیا رول ہوگا۔ایمیلی ونٹر بوتھم نے کہا کہ پاکستان ایسے کسی امن عمل سے خوش نہیں ہوگا جس سے افغانستان میں اس کی اسٹریٹجک گہرائی حاصل نہ ہو سکے۔
کرسٹائن فئیر نے کہا کہ وہ ان لوگوں کو حقارت سے دیکھتی ہیں جو پاکستانی فوج کے کردار کو سراہتے ہیں جبکہ پیشہ ور فوجیں انقلاب برپا کرتی ہیں اور نہ ہی پردے کے پیچھے سے حکومتیں چلاتی ہیں۔ حکومت برطانیہ کی خاموشی سے جب اس کے فوجی ہلمندمیں تھے نہایت مایوسی ہوئی جبکہ وہ یہ بات جانتے تھے کہ پاکستان ہی طالبان کی پشت پر ہے۔لیکن افغان خود بھی اپنے مسائل کو خارجی صورت دینے کا رجحان رکھتے ہیں ۔کچھ حد تک پاکستان کو بھی مورد الزام نہیں ٹہرایا جا سکتا۔ جب تک داخلی اور خارجی مسائل نظر انداز نہیں کیے جائیں گے افغانستان میں استحکام ممکن نہیں ہے۔

عالمی سندھی کانگریس کی روبینہ گرین ووڈ نے افغان مسئلہ کے بنیادی ا سباب پر نظر ڈالنے کی ضرورت پر زو دیا۔اور اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے رول کا حوالہ دیا جو خود اپنے ہی لوگوں کی مثلاً سندھیوں اور بلوچیوں کو کچل رہے ہیں۔

برنیٹ روبن نے”آپ جو چاہتے ہیں اس کے لیے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں “سے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کمزور ممالک بھدی سیاست اور فوجی عمل سے ہی مضبوط ہوتے ہیں اور افغانستان اپنے ان پڑوسیوں پر انحصار کرتا ہے جو کبھی نہیں بدل سکتے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کا اصل رول سیاسی و اقتصادی طور پر مضبوط ہونے کی خاطر پڑوسیوں سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کے لیے افغانستان کی مدد کرنا ہے۔

سابق وزیر تجارت و ممبر پارلیمنٹ بیری گارڈینر نے سمینار سے اختتامی خطاب کیا۔جس میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں شناخت کی سیاست کے مسائل کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مقررین کو ان کی مہارت اور شعور کی مبارکباد دی اور یہ کہتے ہوئے سمینار کا اختتام کیا کہ افغانستان کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہے : ”سیاست کابنیادی سوال یہ ہے کہ ہمیں پڑوسیوں کے ساتھ کس طرح سے رہنا چاہیے“
اس سمینار میں80سے زائد حضرات نے شرکت کی جن میں افغانستان، روس، انڈونیشیا، جاپان اور ازبکستان سمیت کئی ملکوں کے سفارت خانوں کے نمائندے ایف سی او کے لوگ، پوسٹ گریجویٹس، طلبا، چیتھم ہاؤس سمیت دانشور طبقہ کے کئی اراکین ، میڈیا،سماجی کارکنان اور نیٹو اور برطانیہ اور آئرش ایجنسیوں افغانستان گروپ کے معززین شریک تھے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Afghanistan the challenges ahead institute of advanced legal studies in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment