خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی ایک اور کوشش!

(شیخ خالد زاہد)

ماں باپ اپنے چھوٹے بچے کو کھانا کھلاتے ہوئے ایک کھلونے کو ساتھ لیکر بیٹھے اور بچے کے کھانا نہ کھانے پر اس کھلونے کو ایسے ڈرایا دھمکایا کہ بچے نے کھانا شروع کردیا، گوکہ والدین کیلئے یہ ایک اچھا عمل ہوسکتا ہے کیونکہ انکا مقصد نیک ہے کہ بچے کو کھانا کھلایا جائے لیکن والدین کہ اس عمل سے بچے کی خود اعتمادی اور ذہنی نشوونما پر برے اثرات مرتب ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ یعنی بچے میں خوف جگہ بنالیگاجوکہ معاشرے کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ گوکہ یہ نئے زمانے کی تشہیر ہے لیکن شائد اس سے کوئی ملتا جلتا عمل تاریخ کا بھی حصہ رہا ہو۔ جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے بزدل لوگ موجود ہیں ۔ان کمزور دل لوگوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں بھی کچھ ہونے پر سارا ملبہ اپنی طرف گرتا محسوس کرتے ہیںاور معمولات سے نظر ہٹا کر خود پر مسلط کی جانے والی (جو ضروری نہیں )تفتیش کیلئے تیاری شروع کردیتے ہیں۔ایسے عوامل بھی حالات و واقعات کی مرہون منت وجود میں آتے ہیں۔ پاکستان کی کیفیت بھی کسی ایسے ہی حالات میں گھرے ہوئے ملک کی طرح ہے، جو دنیا میں کہیں بھی رونما ہونے والے واقع کہ فوراً بعد اپنی پیشیوںیا جوابدہی کی تیاری شروع کردیتا ہے جس کی عمل ً کوئی حیثیت یا ضرورت نہیں ہوتی۔

اکیسویں صدی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا مقولہ ہر خاص و عام کو بھرپور سمجھ میں آگیا ہے، جس کی ایک وجہ تو سماجی میڈیا ہے لیکن دوسری حقیقت پر مبنی اور خطرناک آئے دن آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ ہے یہ آگ ہر دن تیز و تند ہواﺅں کی بدولت تیزی سے سفر کرتی ہوئی بڑھتی جارہی ہے ۔ آج بھی آسٹریلیا کہ جنگلات میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ آگ بہت تیزی سے پھیل رہی ہے شائد تاریخ میں یہ بھی پہلی دفعہ دیکھائی دے رہا ہے کہ اس آگ پر قابوپانا مشکل ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔

امریکہ اور ایران کی چپقلش عرصہ دراز سے میڈیا کے توسط سے دیکھنے اور سننے کو ملتی رہی ہے۔ کبھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں ،کبھی پابندیوں میں نرمی لائی جاتی ہے، کبھی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور کبھی ایسے اندوہناک حادثہ پیش آجاتا ہے کہ خصوصی طور پر خطے کو اور عمومی طور پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ امریکہ نے ایران کی ایک نامی گرامی اور گرانقدر شخصیت قاسم سلیمانی کو بالکل ایسے جس طرح سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ڈرون حملے کے ذریعہ سے مخصوص مقامات کو نشانہ بنا کر کسی نہ کسی بڑے طالبان رہنما کو موت کی نیند سلانے کا اعلان کیا جاتا رہا ہے اور اس بات کی تصدیق بھی خود کردی۔ ایران نے امریکہ کے اس گھناﺅنے اقدام کو کسی بھی طرح سے برداشت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے اور قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے ۔

اس اعلان سے خطے کی صورتحال اور تشویشناک ہوتی دیکھائی دے رہی ہے۔ بھارت کی آئے دن پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزی ایک الگ مسئلہ ہے دوسری طرف افغانستان ہے جہاں سے بیٹھ کر بھی بھارت پاکستا ن کیخلاف سازشیں کر رہا ہے ۔ ایسی صورتحال میں کیا پاکستان ، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین ہوتے ہوئے حالات میں کوئی کردار نبھا سکتا ہے۔جبکہ پاکستان نے حالیہ کوالالمپور میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی حیثیت کچھ غیرمستحکم دیکھائی دے رہی ہے اور محسوس یہ کیا جارہا ہے کہ کندھا کسی کا اور نشانے پر کوئی اور ہے۔ ایک اضافی قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ نے دو سال قبل آرمی کی تربیت کے پروگرام پر پابندی عائد کردی تھی جو کہ اس سانحہ سے قبل ہٹا دی گئی ۔

پاکستان نے بڑے واشگاف لفظوں میں اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا اعلان کردیا ہے جوکہ عسکری اور عوامی نمائندوں کے ایوان سے بھی جاری کردیا گیاہے۔ لیکن محض یہ کہہ دینے سے کیا مسئلے سے نجات مل جائے گی یا پھر امریکہ پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش نہیں کریگا؟جیساکہ بارہا اس بات کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے کہ پاکستان کا محل وقوع امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے بغیر پاکستان کے امریکہ اس خطے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے ۔

امریکہ ایران مڈبھیڑ نہ صرف خطے کیلئے بلکہ یہ دنیا کے امن کیلئے بھی خطرہ ہے ۔دنیا بخوبی واقف ہے کہ ایران بھی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور کسی بھی قسم کی سرزنش کس قسم کی صورتحال پیدا کرسکتی ہے ۔دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی جنازے میں کتنی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے جو اس بات کی گواہی سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے جنرل کا بدلہ لینے کیلئے اپنی حکومت اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہیں۔ دوسری طرف لگتا ہے کہ امریکی صدر طاقت کے نشے میں کسی بھی قسم کی سوچ سمجھ سے خود کو عاری کئے بیٹھے ہیں اور بس مہم جوئی کے کسی چھوٹے سے بہانے کا بیچینی سے انتظار کررہے ہیں۔ جنگی جنون اس نہج پر پہنچا ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجھے ایران کے خلاف جارحیت استعمال کرنے کیلئے ایوان سے باقاعدہ اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں ۔ یہ صورتحال پوری دنیا کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے ایران کا رویہ تو ہمیشہ سے ہی جارحانہ رہا ہے اور ایرانی حکومت بغیر کسی علاقائی سہارے کے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہے ، یہی وہ غیر حل شدہ مسئلہ ہے جو امریکہ کو ہضم نہیںہوتا۔

اس خطے میں امریکہ ابتک بھرپور سردھڑ کی بازی لگا چکنے کے باوجود اپنا کوئی خاص اثر و رسوخ نہیں بنا سکا ہے ۔ اگر ابھی ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف چین کیساتھ تو معاشی جنگ جاری ہے ۔ حکومتِ وقت نے پہلے دن سے یہ راگ الاپنا شروع کر رکھا ہے کہ وہ اب کسی بھی ایسی صورتحال کا حصہ نہیں بنےں گے جس سے پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو۔ موجودہ حالات ایک بار پھر پاکستان کو 2001میں گھسیٹتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں لیکن وقت اور حالات اب بہت تبدیل ہوچکے ہیں گوکہ امریکہ طاقت کے نشے میں یہ سب سمجھنے سے باز دیکھائی دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی جارحیت کیلئے تیار نظر آ رہا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی داخلی اور خارجی سرحدوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے ، ایک طرف تو یہ حکومت کیلئے ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور دوسری طرف عسکری قیادت کی بھرپور صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کے وزیر اعظم اس ساری صورتحال میں کس طرح سے اپنی ذمہ داری نبھا سکیںگے ۔ بھارت پاکستان سے ہوتا ہوا یہ جنگی جنون امریکہ اور ایران پہنچ چکا ہے اور دیکھا جائے تو یہ جنگی جنون ہمارے آس پاس ہی منڈلاتا دیکھائی دے رہا ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A conspiracy to push middle east towards a regional war in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.