احتساب سے ماورا قانون سے بالاتر کوئی نہیں !

تحریر :شاہد ندیم احمد

افواج ِ پاکستان کے ترجمان جنرل آصف غفو ر نے اسکرینوں پر لائیو سینئر اور اہم عہدوں پر فائز فوجی افسران کو عمر قید اور سزائے موت جیسی کڑی سزائیں دے کر وہ سارے منہ بند کردئیے ہیں جن کا یہ بیانیہ ہوا کرتا تھا کہ صرف سیاستدان ہی قابل گردن زدنی کیوں قرار دئیے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں چند غلط فہمیاں ایسی ہیں جنہیں بروقت دور کرنا ضروری تھا، نجانے کیا مصلحتیں رہی ہوں گی، لیکن نقصان یہ ہوا کہ ریاست کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے والوں کو میدان کھلا ملا اور انہوں نے یہ تاثر قائم کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا نہ رکھی کہ پاکستان کے بعض ادارے گویا ہر قسم کے قانون سے بالاتر ہیں، وہی قوم اور ملک کی تقدیر رقم کرتے ہیں، انہیںکوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ ایسا ہرگز نہیں کوئی بھی پڑھا لکھا ،ذی شعور جانتا ہے کہ مختلف اداروں میں احتساب کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ فوج ہی کی مثال لے لیں جس کا ڈسپلن ہی اول تو ہرکسی کو حدود پھلانگنے سے روکتا ہے، اس کے علاوہ ملٹری پولیس، ملٹری انٹیلی جنس اور آرمی کا اپنا ایک عدالتی نظام ہے، جو تفتیش، سماعت اور فیصلہ سنانے کا مکمل عمل ہے اور اس سے کسی کو رستگاری نہیں ہے، خواہ کوئی کتنا ہی بڑا یا با رسوخ افیسرکیوں نہ ہو۔ مثال ایک بریگیڈیئر (ر) راجا رضوان اور ڈاکٹر وسیم کو سزائے موت اور ایک لیفٹیننٹ جنرل کو 14سال کی قید با مشقت کی ہے جن پر ایک غیر ملکی ایجنسی کو معلومات فراہم کرنے کا الزام تھا، آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال پر جاسوسی کے الزامات تھے اور آرمی چیف کی ہدایت پر ان کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ این ایل سی اسیکنڈل میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل اور میجر جنرل (ر) خالد زاہد اختر کا بھی کورٹ مارشل کیا گیا۔ تینوں افسروں کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان آرمی میں ہر کوئی جوابدہ ہے، آرمی چیف کی جانب سے سزا کی توثیق کڑے احتساب کے نظام کا مظہر ہے، جاسوسی یا منی لانڈرنگ سے کمایا گیا پیسہ کرپشن ہی ہے، فوج کے اندر احتساب کا انتہائی مضبوط نظام ہے۔ غیر ملکی جاسوسی کے الزام میں اعلیٰ فوجی افسروں کے کورٹ مارشل اور پھر سزا کا میڈیا پر اعلان کرنے کی ٹائمنگ ایک بڑی پیش رفت ہے جوغور کرنے والوں کے لئے تفکر کے در بھی وا کر رہی ہے۔ فوج کا ڈسپلن اس کے جزاو سزا کے نظام کی بدولت ہی قائم و دائم ہے جس کے لئے اس کے اپنے ادارے ہیں جو ہمہ وقت حرکت میں رہتے ہیں اور یہی فوج کی کامیابی کی کلید ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ریاست کا استحکام اس وقت تک قائم نہیں ہوتا جب تک تمام طبقات قانون اور آئین کی نظر میں برابر نہ ہوں اور ریاستی نظام کسی کی نسل ،علاقے ،طبقے یا حیثیت سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک نہ کرے۔ فوج ایک نظم وضبط کا پابند ادارہ ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں مسلح افواج میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور افسران کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، کئی ایسے ملک ہیں جہاں فوجی افسران کے جرائم پر سزا معمول کا کام ہے، اس پر نہ کوئی تبصرہ ہوتا ہے نہ سیاستدان اسے اداروں کی تضحیک کا بہانہ بناتے ہیں۔ پاکستان کی صورت حال قدرے مختلف رہی ہے۔ ملک چار فوجی آمریتوں کو بھگت چکا ہے،ان آمروں کی وجہ سے سیاستدانوں کی فوجی افسران پر تنقید بڑھی، یہ تنقید بعض اوقات ایسی حدود کو چھونے لگتی ہے جہاں اسے غیر منصفانہ کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت فوج کی ان تمام خدمات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جو سہ ملکی دفاع ،قدرتی آفات اور عمومی طور پر سویلین انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے اس نے صحت ،تعلیم امن و امان اور تعمیرات کے شعبوں میں انجام دی ہیں۔ ہمارا یہ فکری مسئلہ ہے کہ سیاستدانوں نے خود کو جدید علوم اور مہارتوں سے آراستہ نہیں کیا،ارکان پارلیمنٹ میں سے دو چار ہی ہوں گے جو کسی مسئلے کا پالیسی کے تناظر میں جائزہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں، یہ صورت حال اس وقت مزید پریشان کن ہو جاتی ہے جب فوج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ ،خطے کی سیاست اور ملک کو ترقی دینے کے لئے ترتیب کر دہ منصوبوں میں سیاسی قیادت کی مفید مشاورت حاصل نہیں ہو پاتی۔ یقینا منتخب حکومتوں کو یہ حق آئین نے دے رکھا ہے کہ وہ مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر کریں،دفاعی بجٹ کی منظوری دیں اور ضروری ہدایات جاری کریں ،لیکن جس طرح امریکی کانگرس میں دفاعی کمیٹی فعال دکھائی دیتی ہے ایسا پاکستانی پارلیمنٹ میں اس لئے نظر نہیں آتا کہ سیاسی جماعتیں ٹکٹ دیتے وقت ان صلاحیتوں کو اہمیت نہیں دیتیں جو ریاست کے لئے کارآمد ثابت ہوں۔ پاکستان میں کچھ لوگ ہمیشہ سے یہ شور مچاتے رہے ہیں کہ سیاستدانوں کے خلاف جس طرح کرپشن اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر جرائم کی پاداش میں مقدمات قائم ہوتے ہیں ایسے مقدمات فوجی افسران کے خلاف درج نہیں ہوتے۔ ڈئریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ تفصیلات میں صرف مقدمات درج ہونے کی بات نہیں کی گئی ،بلکہ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو سال کے دوران مختلف رینکس والے چار سو افسران کو سزائیں دی گئیں۔ اگر سیاسی سطح پر پچھلے دو سال میں مختلف رہنماﺅں کے خلاف مقدمات اور ان پر عائد الزامات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ مقدمات تو قائم ہوئے کچھ تفتیش بھی ہوئی ،مگر معاملات کو ماشگافیوں کے ذریعے الجھایا جا رہا ہے۔ جولائی 2017ءمیں میاں نواز شریف کو صادق و امین نہ ہونے پر نااہلی کی سزا سنائی گئی ،سزا سے پہلے طویل تحقیقات ہوئیں سزا کے بعد نواز شریف جی ٹی روڈ سے ریلی لے کر لاہور آئے، انہوں نے پاکستان کی عدلیہ‘ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور اہم شخصیات کے خلاف مسلسل تقاریر کیں،یہ کیس ابھی تک عدالت میں ہے۔ نواز شریف بعدازاں العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہو کر جیل گئے۔ اس سزا کے دوران بھی چھ ہفتے بیماری کا جواز پیش کر کے گھر پر چھٹیاں گزار چکے ہیں اور اب عدالت سے درخواست گزار ہیں کہ ان کے مرض کا علاج صرف لندن سے ہو سکتا ہے۔ہم آصف علی زرداری کی آٹھ سالہ قید اور پھر کسی الزام کا ثابت نہ ہونا بھی دیکھ چکے ہیں۔ آج بھی عدالتوں اور نیب میں درجنوں سیاستدانوں کی کرپشن کے مقدمات زیر التوا ہیںاور عوام اپوزیشن کا خود کو بچاﺅ اتحاد بھی دیکھ رہے ہیں۔

اس کشیدہ فضا میں افواج پاکستان نے اپنے افسران کی کڑی نگرانی اور پھر ان کے خلاف کارروائی انجام تک پہنچا کرثابت کیا ہے کہ فوج پر اس سلسلے میں لگائے جانیوالے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے سوا کچھ نہیں،تاہم جہاں تک پاک فوج کے حالیہ فیصلے کو میڈیا کے سامنے لانے کا تعلق ہے، اس پرمختلف قیاس آرائیاںکرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ احتساب کے عمل سے کوئی بھی ماورا نہیں خواہ وہ کسی بھی اعلیٰ عہدے پر فائزہو،اگر مقصد بلا امتیاز احتساب ہے تو اس میں خرابی نہیں اچھائی ہے، تاکہ کرپشن کی شرح کو کم ترین سطح پر لانے کی طرف سفر شروع ہو سکے۔ اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ ملک کا ادارہ کوئی بھی ہو، اسے اپنی اصلاح پر توجہ دینا ہی ہو گی اور ہمیں مل کر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ احتساب سے ماورا قانون سے بالاتر کوئی نہیں،جس دن ہم نے یہ حقیقت جان کر اس پر عمل شروع کر دیا ،ہماری ترقی وخوشحالی کا سفر شروع ہو جائے گا۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Nobody is above the law and accountability in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
Tags: ,
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.