باپ سلامت رہنا چاہئے

فضل المبین بن نذر المبین

آج صبح فیس بک میں ایک پوسٹ پر دوست نے ٹیگ کیا ہوا تھا ، جہاں ماں کی محبت کا ذکر تھا وہیں دوسری جانب سوال تھا کہ باپ کی محبت کیا ہوتی ہے ؟چونکہ میں والد صاحب سے زیادہ قریب رہا ہوں اسلئے میرے لئے یہ سوال بہت معنی رکھتا ہے۔جہاں تک بات ماں کی محبت کی ہے تو اس بابت تو تب سے لکھا جارہا ہے جب سے حضرت انسان نے لکھنا سیکھا تھا پر باپ ایک ایسی ذات ہے جس بابت شاید باپ نے بھی کبھی کھل کر نہیں لکھا اور بھلا لکھ بھی کیسے سکتا ہے کہ باپ کی محبت کا ہر رنگ نرالا اور مختلف ہے۔
ماں کی محبت تو بچے کی پیدائش سے اسکی آخری عمر تک ایک سی ہی رہتی ہے یعنی اپنے بچے کی ہر برائی کو پس پردہ ڈال کر اسے چاہتے رہنا۔بچپن میں بچہ اگر مٹی کھائے تو اس پر پردہ ڈالتی ہے اور باپ سے بچاتی ہے ، نوجوانی میں بچے کی پڑھائی کا نتیجہ آئے تو اس رپورٹ کارڈ کو باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے ، جوانی میں بچے کا دیر سے گھر آنا باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے ٹھیک اسی طرح جیسے جیسے بچہ بڑا اور اسکے”جرائم“ بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ماں اپنے پردے کا دامن پھیلاتی چلی جاتی ہے ، اسکے برعکس”باپ“ایک ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد کو بے پناہ چاہنے کے باوجود اس پر صرف اسلئے ہاتھ اٹھاتا ہے کہ کہیں بچہ خود کو بڑے نقصان میں مبتلا نہ کر بیٹھے ، اسکی پڑھائی پر سختی برتتا ہے کہ کہیں اس کا بچہ کم علم ہونے کے باعث کسی دوسرے کا محتاج نہ بن کر رہ جائے ، بچے کا رات دیر سے گھر آنا اسلئے کھٹکتا ہے کہ کہیں کسی بری لت میں مبتلا ہوکر بچہ اپنی صحت اور مستقبل نہ خراب کر بیٹھے۔
یعنی بچے کی پیدائش سے لیکر قبر تک باپ کی زندگی کا محور اس کا بچہ اور اسکا مستقبل ہی رہتا ہے۔جہاں ماں کی محبت اسکی آنکھوں سے اور عمل سے ہر وقت عیاں ہوتی ہے وہیں باپ کی محبت کا خزانہ سات پردوں میں چھپا رہتا ہے۔غصہ ، پابندیاں ، ڈانٹ ، مار ، سختی یہ سب وہ پردے ہیں جن میں باپ اپنی محبتوں کو چھپا کر رکھتا ہے کہ بھلے اسکی اولاد اسے غلط سمجھے پر وہ یہ سب پردے قائم رکھتا ہے کہ اسکی اولاد انہی پردوں کی بدولت کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتی ہے۔
میرے ابو غصہ کے انتہائی سخت ہیں۔ ہم بھائیوں پر بہت سختیاں کی ، اور شاید نوجوانی میں ہمیں ہمارا باپ دنیا کا سب سے برا اور ظالم باپ لگتا ہے کہ جو نا ہی دوستوں کے ساتھ رات گئے تک بیٹھنے دیتا ہے اور نہ ہی جیب خرچ اتنا زیادہ دیتا ہے کہ ہم فضول عیاشیاں کرسکیں ، مار باقی بھائیوں نے تو اتنی نہیں کھائی پر اپنی عجیب حرکات پر میں نے بہت مار کھائی ہے۔لیکن آج جب اپنے بچپن کے ساتھیوں/ہم عمروں کو نشے یا دیگر خرافات میں مبتلا دیکھتا ہوں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمارے والد صاحب نے ہم پر سختیاں برتیں جسکی بدولت آج کسی بھی طرح کے نشے سے خود کو بچائے رکھا ہے۔
اور آج اس مقام پر کھڑے ہیں کہ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند رکھ سکیں۔ لیکن کیا آپکو معلوم ہے کہ باپ سانسیں لیتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں ، جیسے جیسے اولاد کا اختیار بڑھتا اور والد کا اختیار گھٹتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی باپ”مرنا “شروع ہوجاتا ہے . جب بچہ طاقتور جوان ہونے لگتا ہے تو باپ کا ہاتھ بعض اوقات اس خوف سے بھی اٹھنے سے رک جاتا ہے کہ کہیں بیٹے نے بھی پلٹ کر جواب دے دیا تو اس قیامت کو میں کیسے سہوں گا ؟
جب بچے اپنے فیصلے خود لینے لگیں اور فیصلے لینے کے بعد باپ کو آگاہ کر کے” حجت“تمام کی جانے لگے تو بوڑھا شخص تو زندہ رہتا ہے پر اسکے اندر کا”باپ“مرنا شروع ہوجاتا ہے۔ مگر آج کے اس فیشن یافتہ اور ماڈرن دور میں جب ویسا قصہ سننے کو ملتا ہے جس میں یہ بیاں کی جاتی ہے کہ فلاں بیٹے نے باپ کو بزنس کی خاطر ذلیل و رسوا کیا ، اس سے زبانیں لڑائیں ، خدا کی قسم اس وقت باپ کا دل پاش پاش ہو جاتا ہے اور اسکے اندر کا باپ مر جا تا ہے۔
باپ اس وقت تک زندہ ہے جب تک اس اولاد پر اسکا حق قائم ہے جس اولاد سے اس نے اتنی محبت کی کہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اسے تھپڑ بھی مارا ، اولاد کے آنسو بھلے کلیجہ کے رہے ہوں پر پھر بھی اسلئے ڈانٹا کہ کہیں نا سمجھ اولاد خود کو بڑی تکلیف میں مبتلا نہ کر بیٹھے ۔ ماں کی محبت تو یہ ہے کہ پیاس لگی (پیار آیا) تو پانی پی لیا پر باپ کی محبت یہ ہے کہ پیاس لگی تو خود کو اور اتنا زیادہ تھکایا کہ پیاس لگتے لگتے اپنی موت آپ مر گئے۔.
چونکہ والد صاحب کا ہماری زندگی پر ہمیشہ اختیار رہا ہے لہٰذا عمر کے اس حصّے میں بھی کوشش ہوتی ہے کہ ابو کو کبھی احساس نہ ہو کہ اب ہم”بڑے“ہوگئے ہیں یا انکی اہمیت گھٹ چکی ہے لہذا پیسے ہونے کے باوجود اپنے ہر کام کے لئے ابو جی سے پیسے مانگنا اچھا لگتا ہے ، رات اگر کسی کام سے واپسی پر دیر ہوجانے کا خدشہ ہو تو آدھا گھنٹے ابو جی کی پہلے منتیں کرنی پڑتی ہیں کہ خدا را جانیں دیں جلدی واپس آجاؤں گا ، روڈ کراس کرتے ہوئے ابو جی آج بھی ہمارا ہاتھ پکڑ کر رکھتے ہیں اور ہم دل ہی دل میں ہنستے ہوئے اور آس پاس کھڑے لوگوں کی نظروں کو نظرانداز کرتے ہوئے ابو کا ہاتھ پکڑ کر روڈ کراس کرتے ہیں . باپ کی محبت اولاد سے ماسوائے اسکے اور کچھ نہیں مانگتی کہ”باپ“کو زندہ رکھا جائے ،پھر چاہے وہ چارپائی پر پڑا کوئی بہت ہی بیمار اور کمزور انسان ہی کیوں نہ ہو ، اگر اسکے اندر کا ”باپ“ زندہ ہے تو یقین جانیئے اسے زندگی میں اور کسی شے کی خواہش اور ضرورت نہیں ہے ، اگر آپ کے والد صاحب سلامت ہیں تو خدارا اسکے اندر کا ”باپ“ زندہ رکھئیے یہ اس”بوڑھے شخص“ کا آپ پر حق بھی ہے اور آپکا فرض بھی ہے !!

Email:fazlulmubeen@gmail.com

Title: long live father | In Category: مضامین  ( articles )
Tags: ,

Leave a Reply