ہندوستان میں اردو زبان کی موجودہ صورتحال

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
(سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل)

اردو زبان کی دستوری حیثیت:

یہ آفتاب کی طرح روشن حقیقت ہے کہ اردو بھی ہندی، بنگلہ، تلگو، گجراتی، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح آزاد ہندوستان کی قومی اور دستوری زبان ہے جو دستورِ ہند کی آٹھویں شیڈول میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ جو ایسا کہتا ہے اور سمجھتا ہے وہ دستورِ ہند سے ناواقف ہے اور اپنی جہالت کا ثبوت دے رہا ہے جو اس کی تنگ نظری اور حماقت کا مظہر ہے۔ مختلف ریاستوں بشمول بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے، لہٰذا اردو کے خالص بھارتی زبان ہونے میں کوئی کلام نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اردو کی دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ کثیر قومی زبان ہے۔ اس زبان کی آبیاری اور ارتقاءمیں مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں، سکھوں اور دیگر قوموں نے یہاں تک عیسائیوں اور انگریزوں نے بھی حصہ لیا ہے۔ اردو کی کوئی تاریخ پریم چند، چکبست، فراق، بیدی اور گل کرسٹ کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہے گی اور آج بھی قاضی عبدالستار، قاضی عبدالودود، رشید احمد صدیقی، گیان چند اور حکم چند نیر کے تذکرے کے بغیر غیر معتبر سمجھی جائے گی۔ اس وقت ریختہ کے موسس سنجیو صراف اور جشن بہاراں کی منتظم کانتا پرشاد جس تندہی سے اردو کی خدمت میں لگے ہیں وہ قابلِ رشک ہے اور اس سے روشن مستقبل کا پتہ ملتا ہے۔ گرچہ حال کے دنوں میں اردو کا بول بالا کم ہوا ہے لیکن آپ ہندوستان کے کسی خطے اور کسی حصے میں چلے جائیں وہاں آپ کو اردو بولنے اور سمجھنے والے مل جائیں گے، یہاں تک کہ ناگالینڈ اور ہماچل کی پہاڑیوں میں بھی آپ کو اس زبان کے شناسا سے ملاقات ہوجائے گی۔ ہندی کے بعد اردو ہی وہ زبان ہے جس کا آل انڈیا Presenceدیکھا جاسکتا ہے۔ بالی ووڈ کے وہ گانے جو خالص اردو زبان میں لکھے گئے ہیں زبانِ زد عام ہیں۔ لوگ چاہے اس کا مفہوم نہ سمجھتے ہوں مگر اس کو گاتے اورگنگناتے ضرور ہیں۔ اردو داں طبقے کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بائی لنگول بلکہ ملٹی لنگول ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق62.4 فیصد اردو جاننے والے ایک سے زائد زبان جانتے ہیں جس کا تناسب ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے۔ اس طرح اردو داں طبقہ پورے ہندوستان کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی زبان کے ساتھ دیگر زبانوں میں بھی لکھ پڑھ اور بات چیت کرسکتا ہے۔ اس سے اردو داں طبقہ کی وسعت نظری کا پتہ چلتا ہے۔ اردو اور ہندی دونوں جڑواں بہنیں ہیں، جو ایک خاک اور ایک خاندان سے ابھری ہیں، لیکن وقت کی سیاست نے انہیں سوت بنادیا ہے اور ایک کیکئی اور دوسرے کو کوشلیہ مان لیا ہے۔ لہٰذا جب تک ایک کو بن باس نہیں دیا جائے گا دوسرے کی تاج پوشی نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک تاریخی غلطی ہے، جس سے سماجی حقیقت کا انکار ہوتا ہے جو اپنے آپ میں ظلم کا مظہر ہے۔ اس طرح کی ذہنیت سے سماج میں بلا وجہ کی کلہہ پیدا ہوتی ہے جو ملک اور سماج کے لےے بہتر نہیں ہے۔

دستورِ ہند کے پارٹ ٹو جس میں بنیادی حقوق مندرج ہیں کی دفعہ 29میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اقلیت میں ہیں یعنی جن کی گنتی کم ہے اور ان کی مخصوص زبان ہے، کلچر اور رسم الخط یعنی اسکرپٹ ہے انہیں اس کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ یعنی اگر اردو، فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے تو اس رسم الخط کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ یعنی اردو کو زبردستی دیوناگری یا رومن رسم الخط میں لکھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دستورِ ہند کے باب چہارم میں خصوصی ہدایات کے تحت دفعہ 350Aمیں اقلیتی بچوں کو ابتدائی تعلیم بالخصوص پرائمری درجات میں جو اَب ایک سے آٹھ کلاس پر مشتمل ہے، ان کی مادری زبان میں دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دستورِ ہند کی دفعہ350Bمیں لسانی اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لےے اسپیشل افسر بحال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جو اس بات کی جانچ کرے گا کہ دستور میں لسانی اقلیتوں کو جو تحفظات دی گئیں ہیں اس کا لحاظ رکھا جارہا ہے یا نہیں۔ اگر کسی وجہ سے ریاستی حکومت یا حکومت کی کوئی ایجنسی اس کو نافذ کرنے میں کوتاہی کرتی ہے تو اس کی رپورٹ صدرِ جمہوریہ کو کی جائے گی اور صدرِ جمہوریہ اس رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی ہدایت دیں گے اور پھر پارلیمنٹ کے ذریعے سے ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میں ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی جائے گی۔

یہ اور بات ہے کہ جب یوپی میں اردو کو پرائمری اور ثانوی درجات سے خارج کرنے کا حکم نامہ جاری ہوا اس وقت اس دفعہ کا استعمال نہیں کیا گیا اور دستوری تحفظات پر سیاسی مصالح غالب آگئے۔ ملک کی حکومت دستور اور قانون سے چلتی ہے لیکن اس کو چلانے والے سیاست داں اور بیورو کریٹس ہوتے ہیں۔ اگر ان کی نیت سہی نہیں ہے اور ان کا ذہن صاف نہیں ہے تو دستور کے تمام تحفظات اور قانون کی کتابوں میں لکھی تمام عبارتیں بے معنی الفاظ کا مجموعہ بن جاتے ہیں۔ جب ڈیموکریسی موبوکریسی میں تبدیل ہوجاتی ہے تو پارلیمنٹ، عدالت، فوج اور پولیس سب تماشائی بن جاتے ہیں۔ دستور ساز اسمبلی میں انتباہ دیتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر نے کہا تھا کہ دستور کی عظمت اس کے پرشکوہ اور خوبصورت الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے ایماندارانہ نفاذ میں پنہاں ہے۔ اور یہی اس وقت آزاد بھارت کا المیہ ہے۔

عدم دلچسپی کے اسباب:

جہاں تک اردو زبان کی گھٹتی عوامی دلچسپی کا سوال ہے اس کی میری نظر میں تین بڑی اور بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ پرائمری درجات سے اعلیٰ تعلیم تک اردو اس وقت جس طرح پڑھی اور پڑھائی جارہی ہے اس کا معیار بہت گھٹیا ہے۔ لہٰذا بچوں میں زبان کا ذوق اور اس سے دلچسپی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ اقبال نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”گر ہمیں مکتب یں ملا، کار طفلاں تمام خواہد شد“، دوسری وجہ احساس

کمتری ہے۔ اقبال نے اس پر بھی تبصرہ کیا ہے:

شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دیتے ہیں یہ خاک بازی کا

تیسری وجہ یہ ہے کہ جہاں ہر چیز کی معیشت ہے وہیں زبان کی بھی ایک معیشت ہوتی ہے۔ جس زبان میں روزگار کے مواقع زیادہ ہوں گے فطری طور پر لوگوں کی اس میں زیادہ دلچسپی ہوگی اور لوگ اس کو زیادہ بہتر طریقے سے سیکھنے اور جاننے کی کوشش کریں گے اور جہاں اس کے مواقع محدود ومسدود ہوں گے وہاں اس کو سیکھنے اور جاننے کا رجحان بھی کم ہوگا۔ ہندوستان سے انگریزوں کو گئے ہوئے ستر سال ہوگئے۔ ساٹھ ستر کی دہائی میں ہندوستان میں انگریزی ہٹاؤ کی زبردست تحریک شروع ہوئی تھی۔ بہت سی ریاستی سرکاروں نے انگریزی کو نصاب سے خارج کردیا تھا۔ نوے کی دہائی میں جب گلوبلائزیشن کا دور شروع ہوا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کے دروازے کھلنے لگے اور وہاں انگریزی جاننا لازمی ہوگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جو انگریزی مخالف تحریک کے قائد تھے راتوں رات اس کے حامی ہوگئے اور اب پرائیویٹ اسکولوں میں ہی نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں میں بھی پرائمری درجات سے انگریزی کی پڑھائی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ اس وقت آپ سرکاری اورغیر سرکاری سیکٹر میں، ٹریڈ، بزنس ، انڈسٹری اور کسی شعبہ میں اچھی انگریزی جانے بغیر اچھی اور اعلیٰ نوکری حاصل نہیں کرسکتے تو فطری طور پر انگریزی تعلیم کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا ہے اور لوگ محنت کرکے انگریزی میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اردو کو یہ دن کب نصیب ہوگا، لیکن اس وقت بھی مسلمانوں کو جو ملازمتیں ملتی ہیں چاہے وہ پرائمری اور سکنڈری ٹیچر ہوں یا کالج میں لیکچرر یا مدارس میں اساتذہ، سرکاری دفاتر میں ٹرانسلیٹر، بی پی ایس سی اور یو پی ایس سی کے ذریعہ منتخب افسران، صحافی اور اخبار نویس، مصنف، ادیب، شاعر، ڈرامہ نگار، مکالمہ نگار اور بالی ووڈ میں کامیاب ایکٹر اور ایکٹریس ان کی اکثریت اردو کی وجہ سے ہی اپنے اپنے میدان میں کامیاب ہیں اور اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ لہٰذا حالات حوصلہ افزا نہیں تو مایوس کن بھی نہیں ہیں۔

حل:

ان صورتحال کے میری نظر میں چند حل ہیں جو آپ کے سامنے نہایت اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہوں گا۔
(1) اردو اگرچہ ہندوستان کی مشترکہ زبان ہے اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے۔ مگر آزادی کے بعد ہندوستان کے تمام دیگر طبقات نے جو روایتی طور پر اردو آبادی مانے جاتے رہے ہیں، انھوںنے اردو کا ساتھ چھوڑ دیا اور اب یہ زبان چند مستثنیات کو چھوڑ کر نارتھ انڈیا کے مسلمانوں کی زبان رہ گئی ہے۔ جس میں سب سے بڑی آبادی بہار اور یوپی کے مسلمانوں کی ہے۔ یوپی میں جب سے پرائمری درجات میں اردو تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا گیا ہے ہر دس سالہ مردم شماری میں اردو جاننے اور بولنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ اس صورتحال کا حل یہ ہے کہ ہم اردو تعلیم کی تحریک شروع کریں اور اپنی ماؤں کو ٹرینڈ کریں اور گھر میں اردو تعلیم کو رواج دینے کی تحریک چلائیں تاکہ بچے اردو حروف تہجی اور تلفظ نیز رسم الخط سے آگاہ ہوجائیں۔ اور ساتھ ہی اپنے محلے میں، مسجدوں اور دینی درسگاہوں میں شبینہ اور صباحی مکاتب کے ذریعہ اردو سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام کریں۔

(2) ہمارے جو اردو اساتذہ ہیں جو پرائمری، سکنڈری اور اعلیٰ درجات میں اردو پڑھاتے ہیں وہ خود صحیح اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے کا اہتمام کریں اور اپنے تھوڑی سی ایمانداری پیدا کریں۔ خود محنت کریں اور بچوں سے محنت کرائیں۔ جس وقت بچوں میں زبان سے دلچسپی پیدا ہوجائے گی اس وقت خود ان کے اندر محنت کرکے پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔ اس وقت چونکہ ہمارے اسکول اور کالج میں کلاس روم ٹیچنگ قریب قریب ختم ہوچکی ہے۔ لہٰذا پورا تعلیمی نظام پٹری سے اترا ہوا ہے، حکومت، ایڈمنسٹرین اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس جانب توجہ دے اور حالات کو بہتر بنانے کا اہتمام کرے، ورنہ بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔

(3) اردو زبان میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو خود بخود اس زبان کو پڑھنے اور سیکھنے کا شوق پیدا ہوگا اور تقرری میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جو لوگ صاحبِ صلاحیت ہیں ان کی ہی بحالی ہو ورنہ ایک جاہل استاد بالفاظ دیگر کوالی فائیڈ جاہل تیس پینتیس سال تک کند چھری سے نہ معلوم کتنی نسلوں کا قتل کرتا رہے گا۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرنی چاہےے کہ ہم انفرادی فائدے کی خاطر اجتماعی نقصان کا جوکھم نہیں اٹھاسکتے ہیں۔

(4) ضلع ایڈمنسٹریشن سے ہماری درخواست ہوگی کہ وہ اردو اسکولوں کے نظام پر خصوصی توجہ دیں، جہاں اردو اساتذہ نہیں ہیں وہاں اردو اساتذہ بحال کریں۔ اردو یونٹ پر اردو استاد ہی جائے کوئی دوسرا نہ جائے۔ بچوں کو اردو کی نصابی کتابیں وقت پر دستیاب ہوں۔ سوالات اردو میں دےے جائیں اور اردو کا پیاں اردو ممتحن سے جانچ کرائی جائیں، اردو اساتذہ کی ٹریننگ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لےے ڈیپارٹمنٹل جانچ کا اہتمام کیا جائے۔ اسکولوں کی مانی ٹیرنگ ٹھیک ڈھنگ سے کی جائے اور صرف مڈ ڈے میل، پوشاک، سائیکل، اور اسٹائپنڈ کے حساب کتاب تک جانچ کو محدود نہ رکھا جائے بلکہ پڑھائی کس انداز سے ہورہی ہے اس کو بھی دیکھا جائے۔

یہ چند موٹے موٹے امور ہیں اگر ان پر توجہ دی جائے تو امید کی جاتی ہے کہ اردو تعلیم و تعلّم کا نظام بہتر ہوگا اور اردو سے عوامی دلچسپی بڑھے گی۔

ای میل:dr.abuzarkamaluddin@gmail.com

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The decline and fall of urdu language in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.