بِہار کے سارن ڈویژن میں اردو زبان و ادب پر دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد

چھپرہ، بہار: (پریس ریلیز)گذشتہ دنوںجے پرکاش یو نی ورسٹی، چھپرہ کے شعبہ اردو کے زیر اہتام دو روزہ قومی سیمینار منعقد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کے مدعوئین میں پروفیسر سید رفیق اعظم (پرو وائس چانسلر، مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یو نی ورسٹی، پٹنہ) بحیثیت مہمان خصوصی، پروفیسر شہناز نبی (سابق صدر شعبہ اردو، کلکتہ یو نی ورسٹی، کولکتہ) بحیثیت مہمان اعزازی اور پروفیسر مولا بخش ( شعبہ اردو، علیگڈھ مسلم یو نی ورسٹی، علیگڈھ) بحیثیت مہمان مقر شامل تھے جبکہ صد راجلاس پروفیسر حسین الحق (سابق صدر، شعبہ اردو، مگدھ یونی ورسٹی، بودھ گیا) تھے۔

پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی، صدر شعبہ اردو نے مہمانوں کا استقبال کر تے ہوئے مدعو کیے گئے تمام ماہرین کا تعارف پیش کیا اور سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بہار کا سارن ڈویژن اردو زبان و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ اس نے اردو دنیا کو کئی ایسے نامور ادیب و شاعردیئے جن کے ذکر کے بغیر بیسویں صدی کے اردو شعر و ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہاں کے ادیبوں میں قومی رہنماؤں کے ساتھ ہی بلند پایہ معماران قوم بھی شامل ہیں۔ لیکن ان کے سلسلے میں ایسی کوئی مربوط اور منظم تصنیف یا تالیف کا فقدان ہے جو ان کی متنوع لسانی، ادبی نیز معاشرتی خدمات کا جائزہ پیش کرتی ہو۔ دو چار ادیب و شاعر پر برائے نام کتابیں لکھی گئی ہیں اور چند ایسے ادیب و شاعر بھی ہیں جن پہ لکھے گئے مضامین و مقالات کی فراوانی ہے۔ چند تذکرے بھی ہیں۔ تاہم ان کی مدد سے اس ڈویژن کی مجموعی ادبی خدمات منظر عام پر نہیں آسکتیں۔ اس سیمینار کے انعقاد کا بنیادی مقصد معلوم کے ساتھ ہی گمنام گوشوں کی تلاش و جستجو ہے کہ جن کی وجہ سے یہاں کی ادبی وراثت کو مرتب کیا جا سکے۔

پروفیسر ہاشمی کے استقبالیہ کے بعد شمع افروزی کے ذریعہ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ہری کیش سنگھ نے سیمینار کا افتتاح کیا اور اپنے افتتاحی کلمات میں اردو کو مشترکہ قومی وراثت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سارن کمشنری ہر دور میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے معاملے میں زرخیز رہی ہے۔ یہاں بھی اس نے قومی تحریکوں میں اپنی بھرپور نمائندگی کی اور ایسے ادب کو بھی جنم دیا جو علاقائی اثرات کے با وجود ہمہ گیر اپیل رکھتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی زبان بھوجپوری پر اردو کے بے پناہ اثرات ہیں اور بھوجپوری ادب میں اردو کے اثرات پر تحقیق کہ ضرورت بھی ہے۔ انھوں نے اظہار خیال کیا کہ اردو ہندوؤں اور مسلمانوں کی ساجھی وراثت ہے۔ جے پرکاش یو نی ورسٹی کے شعبہ اردو کی کار کردگی پر اپنے اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وائس چانسلر نے سیمینار کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔اس اجلاس کی نظامت کے فرائض شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر مظہر کبریا نے بحسن و خوبی ادا کیے۔

وائس چانسلر کی افتتاحی تقریر کے بعد شعبہ اردو کے ذو لسانی (اردو۔انگریزی) کتابی سلسلہ ’اردو اسٹڈیز‘ کا اجرا تمام مہمانوں کے ذریعہ عمل میں آیا۔ بعد ازاں پروفیسر رفیق اعظم نے سارن کمشنری سے اپنے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کے ادبی اور علمی ماحول پر سیر حاصل روشنی ڈالی جبکہ پروفیسر شہناز نبی نے علاقائی ادب کی اہمیت اور اس کی آفاقیت کے عناصر کو اپنا موضوع گفتگو بنایا۔ کلیدی خطبہ کے دوران پروفیسر مولا بخش نے سارن کی ادبی وراثت کی تصویر کشی کرتے ہوئے اس سرزمین سے کسی نہ کسی صورت میں وابستہ موجودہ دور کے شاعروں، فکشن نگاروں اور تنقید نگاروں کی ادبی قدروقیمت پر روشنی ڈالی اور اس حقیقت کی نشاندہی بھی کہ اردو ادب کو صرف اردو زبان کے دائرہ میں محدود کرتے ہوئے نہیں پرکھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے ان تمام علاقائی ادبی سرگرمیوں کا احاطہ بھی ضروری ہے جن کے شانہ بہ شانہ اردو ادب کی تخلیق ہوتی رہی ہے۔ پروفیسر حسین الحق نے بھی اپنے صدارتی خطبہ میں اس امر پہ زور دیا کہ اردو زبان و ادب کا مطالعہ مقامی ادبی و لسانی سرگرمیوں سے قطع تعلق کر کے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کے فروغ میں وہ سبھی عوامل ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں جو کسی علاقے کی پہچان ہیں۔
سیمینار کے پہلے تکنیکی اجلاس میں ڈاکٹر عبدالمالک کی صدارت میں پروفیسر شہناز نبی، پروفیسر محمد حامد علی خان(سدر شعبہ اردو، بہار یونیورسٹی، مظفرپور)، ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری(صدر شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ)، ڈاکٹر ہمایوں اشرف(شعبہ اردو، ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ) اور ڈاکٹر کفیل احمد نسیم (صدر شعبہ اردو، ساؤتھ بہار سنٹرل یونیورسٹی، گیا)نے اپنے پر مغز مقالات پیش کیے اور سارن کمشنری سے وابستہ مختلف ادبی پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ دوسرے تکنیکی اجلاس میں پروفیسر محمد توقیر عالم کی صدارت میں ڈاکٹر مشرف علی (بنارس ہندو یونیورسٹی) اور ڈاکٹر ریاض احمد (کالج آف ایجوکیشن،سنبھل) کے علاوہ شعبہ اردو کے ریسرچ اسکالرزنے اپنے مقالات پیش کیے۔
سیمینار کے دوسرے دن تیسرے تکنیکی اجلاس میں پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی صدارت میں پروفیسر رضی الرحمن(گورکھپور یونیورسٹی)، پروفیسر نبی احمد (جے پرکاش یونیورسٹی)، ڈاکٹر تنویر اختر نور (ڈی اے وی کالج، سیوان) ، ڈاکٹر مظہر کبریا (جے پرکاش یونیورسٹی) اور تین ریسرچ اسکالرز نے اپنے مقالات پیش کیے جبکہ چوتھے اجلاس میں پروفیسر رضی الرحمن کی صدارت میں ڈاکٹر سید رضا (سابق رجسٹرار، جے پرکاش یونیورسٹی) اور ریسرچ اسکالرز کے مقالات شامل تھے۔ ڈاکٹر سید رضا نے مولانا مظہرالحق کی شاعری کے سلسلے میں بعض اہم امور کی نشاندہی کی۔

سیمینار کا اختتامی اجلاس پروفیسر فاروق احمد صدیقی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پروفیسر رضی الرحمن مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل تھے۔ ڈاکٹر مظہر کبریا نے سیمینار کی رپورٹ پیش کی اور ڈاکٹر عبدالمالک نے رسم شکریہ ادا کرتے ہوئے سیمینار کی کامیابی کے لیے تمام مہمانوں اور ریسرچ اسکالرز کے تئیں اظہار تشکر کیا۔

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Seminar on urdu language literature in saran bihar in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.