بچوں کے چند نمائندہ غزل گو شعرا :اکیسویں صدی میں

غلام نبی کمار،نئی دہلی

بچوں کے ادب میں نظم اور کہانی دوایسی اصناف ہیں جن پر سب سے زیادہ خامہ فرسائی کی جاتی رہی ہے۔اس کے بعد مضمون نگاری کی طرف ادیبوں کا زیادہ رجحان رہا ہے اور جس کے چند معروف ابتدائی مضمون نگاروں کی شکل میں خاطر خواہ نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔چنانچہ جب ہمیںادب ِ اطفال کے موضوع پر بحث کرنی ہوتی ہے تو ہماری توجہ عموماً نظم اورکہانی پر ہی مرکوز رہتی ہے۔جس کے سبب اردو کی دوسری مقبول عام اصناف غزل،ڈرامہ،رباعی وغیرہ موضوعِ بحث بننے سے قاصر رہی ہیں۔جبکہ اردو کے ادبِ اطفال میں ان اصناف کی خدمات کم سہی لیکن وہ دیرپا نقوش ثبت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔جس کا ثبوت اسکولی سطح کے نصاب میں کئی دہائیوں سے شامل میر،غالب،درد،مومن،ذوق،سودا،داغ،فانی،شاد وغیرہ کی وہ لافانی سادہ فہم غزلیں ہیں جو بچوں کو بہ آسانی ازبر بھی ہوتی ہیں اور ان کے عقل و شعوراور تخئیل کی اونچی پرواز کا باعث بھی بنتی ہیں۔ اگر مذکورہ شعرا کی شاعری میں ادبِ اطفالی خصوصیات نہ ہوتیں تو بچوں کے ساتھ ان کا تعلق نہ جوڑا جاتا۔بچوں کے میر،بچوں کے غالب،بچوں کے درد،بچوں کے فانی وغیرہ جیسی کتابیںاس کا جیتا جاگتا ثبوت کہی جا سکتی ہیں۔اس ضمن میں اردو کے کئی اہم ادارے متحرک ہوئے ہیں جن کے توسط سے کئی کتابیں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہیں۔حالانکہ مذکورہ شعرا کا شعری رجحان بالکل منفرد تھا اور انھوںنے بچوں کے حوالے سے شعوری یا دانستہ طور پر کوئی غزل تخلیق نہیں کی تھی۔یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ میر،غالب،درد،ذوق،مومن،داغ ،حسرت وغیرہ اردو شاعری کی آبرو کہلاتے ہیں اور وہ ارود کے ابتدائی زمانے میں شاعری کے افق پر چمکنے والے تابندہ و پائندہ ستارے کہے جا سکتے ہیں نیز یہ بات بھی اپنی جگہ انفرادیت کی حامل ہیں کہ ابھی تک اردو شاعری میں ان کا کوئی نقش ثانی پیدا نہیں ہوا۔یہی ایک وجہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے اردو کے نصاب میں تبدیلی کی گنجائش پیدا نہیں ہوئی یا جس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔البتہ ماضی یا روایت کی اعلیٰ اقدار کوفراموش کیے بغیرزمانے کے عصری تقاضوں کے مطابق چلنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔کیونکہ ہر زمانے میں حالات بدلتے رہتے ہیں،قدریں بدلتی رہتی ہیں،رجحانات بدلتے ہیں،تہذیب و ثقافت اثر انداز ہوتی ہے،رسوم و رواج بدلتے ہیں،انسان کا مزاج اور اس کی سوچ بدل جاتی ہے،یہاں تک کہ زبانیں بھی زمانے کا اثر قبول کرتی ہیں۔ان سب چیزوں کا بدلنا ادب کی ناگزیر تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ایک زمانہ تھا جب شاعری کی ایک اہم صنف غزل میں عشق و عاشقی کے موضوع کو اکثر و بیشتر شعرا نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا تھا۔حالانکہ وہ شاعری کا ابتدائی دور تصور کیا جاتا ہے اور جب کہ غزل کے لغوی معنی بھی ”عورتوں سے باتیں کرنا “کے ہیں۔سو اسی کے مترادف شاعری بھی ہورہی تھی اور پسند بھی کی جا رہی تھی۔اس طرح اس موضوع کے حصار سے نکلنے میںاردو شعرا کو ایک اچھا خاصا وقت لگ گیا۔رفتہ رفتہ غزل میں اصلاحی،سیاسی،سماجی،مذہبی،اخلاقی،معاشی موضوعات کو بھی برتاگیا۔جس سے غزل کادامن وسیع سے وسع تر ہوگیا اور آج اس کے ذریعے سے متنوع قسم کے مضامین و مسائل اجاگر کیے جا رہے ہیں۔غرض کہ غزل انسانی زندگی سے پوری طرح جڑی ہوئی ہے۔بچوں کے ادب میں جس طرح نظم اور کہانی کو اہمیت حاصل ہے اسی طرح غزل کی معنویت اور افادیت سے انکار کی گنجائش ممکن نہیں۔ماہر ین ادبِ اطفال نے شاید نظم اور کہانی کوبچوں کی ذہنی،اخلاقی اور اصلاحی تربیت کا موزوںو مناسب اور موثر ذریعہ سمجھا۔اس کی دوسری بڑی وجہ نظم میں ان کے تقلیدی رجحان کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک سبب ہوسکتا ہے کہ غزل کے ایک مصرعے میں ایک موضوع کو باندھنے میںبعض شعرادِقت محسوس کر رہے ہو ںجب کہ برعکس اس کے وہ اسی موضوع کو نظم میں برت کر پوری نظم کہہ دیتے ہیں۔ اس میں شعرا ایک ہی موضوع کو بہت مفصل انداز میں سمجھانے کی سعی بھی کرتے ہیںجسے وہ اپنے اور بچوں کے لیے بہت سود مند تصور کرتے ہیں۔جو کسی حد تک درست بھی ہے ۔تاہم وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ غزل ہی وہ صنف ہے جو تمام اصناف سے زیادہ رواج پاچکی ہے نیز خاص و عام میں مروّج بھی ہے۔نظم کے برعکس غزل کے اشعار بچوں کو ذہن نشین کرانا بہت آسان ہے۔یہ شاعر پر انحصار کرتا ہے کہ وہ غزل کس قدر سلیس،شستہ اوردلچسپ کہتا ہے علاوہ ازیںاس کا موضوع بچوں کی نفسیات سے کس قدر مناسبت رکھتا ہے۔بچوں کے ادب میں کہانی اور نظم کے اس رجحان نے یقینا صنف غزل پر نقصان دہ اثرات مرتب کیے ہیں۔ادیبوں کا بچوں کے لئے غزلیں تخلیق نہ کرنا انہیں اردو کی ایک اہم اور باوقار صنف سے محروم رکھنے کے برابر ہے۔اگر آج اسکولی سطح کے نصاب کی نظر ثانی کی جائے یا اس کی تبدیلی کے بارے میں سوچا جائے تو اس میں ادب ِاطفال کے عصری غزل گو شعرا کی شمولیت پر بہت سوچ بچار کی ضرورت محسوس ہوگی۔جس کی وجہ بچوں کے لیے غزلیہ تخلیقات کا سرمایہ بہت کم اور نایاب ہونا ہے۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انسانی ذہن ارتقا ءپذیر ہے ،اس میں عمر کی کوئی قید نہیں۔بدلتے وقت کے ساتھ بچے کا شعور،اس کا ذہن،اس کی سوچ اوراس کے کردارو افعال پر بھی اثر پڑتا ہے۔آج کے بچوں کی ذہنی نشوونما اور شعوری بیداری کے لئے ہم دو سو سال پہلے دہرائی ہوئی چیزیں پیش کر کے ان کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔شعرا و ادبا کو عصری ماحول،حالات اورمسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ضروریاتی چیزیں بھی بچوں کو پیش کرنی چاہیے۔ عہد حاضر کے بچوں میں پروازِ تخیل کے لیے غزلیہ تخلیقات بھی اتنی ہی اہم ہےںجتنی کی نظمیہ شاعری اور کہانیاں۔موجودہ دور کے بچوں کی ذہنی انفرادیت ، فکری شعور اور قوتِ ادراکیہ میں حیران کن تجربے دیکھنے کو مل رہے ہیں اس ضمن میں ان کی فکری وسعت اورذہنی پختگی کوزیر غور رکھتے ہوئے غزل کے ساتھ ان کے رشتے کو استوارکرنا بھی دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے۔جب ہم اکیسویں صدی میں بچوں کے غزل گو شعراکی تلاش میں نکلتے ہیں تو ہمارے ہاتھ صرف مایوسی آتی ہے۔اردو کے بہت سے شعرا حضرات نے بچوں کے لیے غزلیں کہی ہیں مگر اس صنف میں وہ بچوں کا زیادہ مضبوط اور دور تک ساتھ دیتے نظر نہیں آتے بلکہ کچھ غزلوں پر ہی اکتفا کرکے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔بعض شعرا تو ایسے ہیں جنہیں اپنی شائع شدہ غزلوں پر ہی اعتبار نہیں ہے اس لیے انھوں اپنی غزلوں کو تصانیف میں شامل کرنے سے بے اعتنائی برتی۔البتہ عصر حاضر میں بچوں کے چندشاعر ایسے ہیںجنھوں نے بچوں کے لیے غزلیں لکھ کر اس صنف کی نہ صرف ساکھ رکھی بلکہ ان کے تئیں فرض شناسی بھی ادا کی۔یہ غزل گو حضرات بچوں کے لیے غزل لکھنے کی روایت کو آگے بڑھانے میں مفید و معاون رول ادا کر رہے ہیں۔ادب اطفال کے ان غزل گو شعرا میں امجد حسین حافظ کرناٹکی،مظفر حنفی،نذیر فتح پوری،ابولفیض عزم سہریاوی،ظفر کمالی،فروغ روہوی،قیصر صدیقی،آصف ثاقب،شمسی قریشی،ظفر گورکھپوری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

امجد حسین حافظ کرناٹکی کو اکیسویں صدی میں ادب اطفال کا امام کہا جا ئے توبے جا نہ ہوگا۔جنھوں نے بچوں کے لیے کم و بیش ستّر کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔جن میں مختلف موضوعات مثلاً غزل،نظم،کہانی،رباعی،قطعے،دوہے ،گیت،نعت و منقبت اور مضامین وغیرہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔حافظ کرناٹکی نے بچوں کے لیے وافر تعداد میں غزلیں کہی ہیں۔بچوں پر ان کی غزلیہ کتابوں میں”معصوم غزلیں“، ”بچوں کی غزلیں“اور ”ننھی منی غزلیں“خاص طور پر شامل ہے ۔یہ تینوں کتابیںاکیسویں صدی میں ہی شائع ہوئی ہیں۔حافظ کرناٹکی سے پہلے اردو کا کوئی شاعر ایسا نہیں گزرا ہے جس نے بچوں کے لیے غزلوں کا کوئی مجموعہ یادگار چھوڑا ہو۔اس میدان میں حافظ صاحب پہلے شاعر واقع ہوئے ہیںجنھوں نے تجربہ کیا تو کامیاب بھی ہوئے۔موصوف شاعر نے نہ محض لکھنے کا تجربہ کیا بلکہ ایک نیا فارمولہ اپناتے ہوئے بچوں سے اپنی غزلوں کی قرات کروائی اوراس کے ساتھ ساتھ ترنم سے پڑھوائی بھی۔جب انہیں اپنی غزلیں بچوں کے لیے مانوس لگنے لگیں تو انھوں نے مزید تجربہ کرتے ہوئے دو اور مجموعے شائع کروائے۔اس طرح ان کی غزلیں بچوں کو راس آ گئیں ۔اس کے علاوہ اساتذہ سخن اور دیگر شعرائے کرام نے بھی ان کی غزلوں کوبے حد پسند کیا ہے۔حافظ کرناٹکی اپنی غزل گوئی کے حوالے سے یوں رقطراز ہوتے ہیں:

”میں جانتا ہوں کہ میری تمام غزلیں غزلیہ شاعری کی رعنائی اور شعریت کی حامل نہیں ہیں۔ایسا ممکن بھی نہیں تھا کہ اس طرف توجہ کرنے سے غزل غزل تو بن جاتی مگر وہ بچوں کی غزل نہیں رہ پاتی۔“
۱
امجد حسین حافظ کرناٹکی ادبِ اطفال کے معمار تصور کیے جاتے ہیں ۔بچوں کے ادب میں ان کی خدمات قابل قدر ہیں ۔اسی خصوص نے انہیں ادب میں ایک اہم مقام عطا کیا ہے۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ حافظ صاحب بچوں کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے اردو غزلوں کا جو گرانقدر سرمایہ تحریر کیاہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ان کی غزلیں جہاںبچوں کی ذہنی بیداری کرتی ہیں وہیں بالغ ذہنوں کی بھی افزائش و بالیدگی کا عنصر پیدا کرتی ہیں۔اس جدیدسائنس و ٹکنالوجی کے ترقی یافتہ دور میں بھی بعض شعرا غزل کے معنی”عورتوں سے باتیں کرنا“ہی مراد لیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب غزل کے لغوی معنی”عورتوں سے باتیں کرنا“کے ہیں تو شاعر بچوں سے کیسے باتیں کرسکتا ہے۔اسے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری شاعری کس موڑ پر کھڑی ہے۔ایسے شعرا کے لیے حافظ کرناٹکی کا غزلیہ کلام نمونہ حیات ہے اور زندہ جاوید مثال بھی۔بچے تو بچے یہاں تک کہ بڑے بھی ان کے غزلیہ کلام سے حظ اٹھاتے ہیں۔ان کے کلام میں وہ ہر چیز ہے جس سے بچوں کی اصلاح ہوتی ہے۔حافظ صاحب نے عام فہم زبان میں نہایت سادہ،سلیس،شستہ،رواںاور پہلودار غزلیں کہی ہیں۔جو چاشنی اور لطافت و فطانت سے بھرپور ہیں، فصیح و بلیغ ہےں اور جوفن کی کسوٹی پرپوری طرح کھری بھی اترتی ہیں۔حافظ صاحب کی کتاب”بچوں کی غزلیں“سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

یہ عہدِ نَو کے شریر بچّے
ہیں آپ اپنی نظیر بچّے

دور جن سے کتاب ہوتی ہے
ان کی قسمت خراب ہوتی ہے

ایک چھوٹی سی لغزش بھی
عمر بھر کا عذاب ہوتی ہے

بنائی ہے عورت نے قدرت کی خاطر
حیا کی حویلی ، حجابوں کی دنیا

موجوں کی طرح مل کر جھرنوں کی طرح رہئے
اک پیڑ کی شاخوں پہ پھول کی طرح رہئے

ہر اک سائے سے افضل
ماں اور باپ کا سایہ ہے
٭٭٭
حافظ کرناٹکی نے بچوں کی نفسیات اور فطری تقاضوںکو ملحوظ رکھتے ہوئے متنوع اور بوقلمونی انداز کی سینکڑوںغزلیں کہی ہیں۔یہ سب غزلیں چاشنی،روانی اورمتانت جیسی ہر خوبی سے مملوہےں۔ان کی چھوٹی بحر اور بالکل آسان لفظوں میں پیش کی گئی غزلوںبے شمار موضوعات پنہاں ہوئے ہیں اور غزل میںاسی عنصر کوبنیادی خصوصیت حاصل ہوتی ہے۔غزل میں عموماً اشاروں کنایوں میں بات ہوتی ہے۔جس کے لیے علامتوں ،استعاروں،ترکیبوںاورتشبیہوں سے کام لیاجاتا ہے۔جس کی اہل علم حضرات اپنے اپنے طور پر تشریح و تفہیم کرتے ہےں ۔غالب اور اقبال کے کلام کی شرحوں سے بھی میری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ لیکن جب شاعر بچوں کے لیے غزل تخلیق کر رہا ہو تب اس کو ان کی ذہنی سطح پر آنا ہوتا ہے۔بچوں کا ذہن اور دل جن چیزوں کی طرف مانوس ہوتا ہے غزل میں ان چیز کو پیش کرنا بہت لازمی ہے۔اتنا ہی نہیں بچوں کے شعور کو کیسے بالیدہ کیا جائے،ان کی ذہنی اپچ کو کیسے ابھارا جائے،اچھائی اور برائی میں کیسے تمیز کی جائے،صحیح اور غلط کی نشاندہی کیسے کی جائے،دنیاوی حقیقت سے کیسے روشناس کیا جائے،رشتوں کا احساس کیسے کرایا جائے،بھائی چارگی اور قومی یکجہتی کا درس کیسے دیا جائے،دین و مذہب کی حقیقت سے کیسے آگاہ کیا جائے،انسان کی اصلی دولت کیا ہے،علم و عمل اوراچھے اخلاق و عادات کے کیا فائدے ہیں،سچائی کی عَلم کیسے بلند کی جا سکتی ہے،انسانیت کی حفاظت اور اس کی بقا کیسے ممکن ہے،بلند عزائم کے کیا فوائد ہیں،حوصلوں کو پروان کیسے چڑھایا جائے،مشکل حالات کا سامنا کیسے کریں،محبت و اخوت اور بھائی چارگی کی روشنی کیسے پھیلائےں،زندگی کے حوادثات کا سامنا کیسے کریں،اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کیسے کی جائے،قوم کی ترقی اور وطن کی بھلائی کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے،،حقوق کے گماں کو کیسے برقرار رکھا جائے،دوستی کیسے نبھائی جائے،جھوٹے دوستوں کی پہچان کیا ہے،بڑوں کی قدر اور ان کی خدمت کس قدر ضروری ہے،روایتی اقدار سے فراموشی کس قدر نقصان دہ ہے،نظم و ضبط کیسے پیدا کیا جائے،نفرت،دشمنی اور پیار،محبت وشفقت میں فرق کیسے کیا جائے،نئی نئی ایجادات کی معلومات بہم پہنچانا وغیرہ کو ابھی تک شعرا جس طرح صنف نظم میں پیش کرتے آرہے ہےں اسی طرح حافظ صاحب نے بھی ان موضوعات کو بڑی شگفتگی کے ساتھ پیش کرکے غزل کی انفرادیت واہمیت واضح کر دی ہے ۔جس سے ان کی تخلیقی صلاحیت کااندازہ بھی بخوبی ہوجاتا ہے۔جس طرح نظم نگار شعرا نے بچوں کے لیے اپنی تخلیق کردہ نظموں میںمیلوں،ٹھیلوں،تہواروں،پھلوں،پھولوں،چرندوپرند،جانوروں،سمندروں ،ندی ونالوں، قومی دنوں،عظیم سیاسی رہنماؤں،تاریخی عمارتوں،عالموں،دانشوروں،مفکروں،دلچسپ تاریخی واقعات کے علاوہ تعلیمی،ادبی،سیاسی،سماجی،معاشرتی،اخلاقی،مذہبی ،اصلاحی اورزندگی کے مختلف النوع امور کو موضوع بحث بنایا ہے اسی طرح حافظ کرناٹکی کی غزلیں بھی ان میں بیشتر پہلوؤں کی بے حد خوبصورت تصویر کشی کرتی نظر آتی ہیں ۔

حافظ کرناٹکی کا پہلا مجموعہ کلام”معصوم غزلیں“ باوّن غزلوں، دوسرا مجموعہ’ ’بچوں کی غزلیں“ایک سو چھیالیس غزلوں ، اور تیسرا مجموعہ ”ننھی منھی غزلیں“ اڑتالیس غزلوں پر مشتمل ہے۔حافظ صاحب کی باقی ماندہ مجموعوں کی غزلیں بھی بڑی دلنشین ہےں جن میں بچوںکی ذہنی،اخلاقی ،اصلاحی اورسماجی نشوونما کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ان کے ہر شعر میں فکر انگیز معنی پوشیدہ ہے۔ان کی غزلیں الجھاتی نہیں بلکہ وہ براہ راست بچوں کے فہم و دسترس میں ہیں۔ان میں کچھ غزلیں سبق آموز ہیں اورکچھ فکرو شعور کی آگہی سے پُر۔ حافظ صاحب کی ان غزلوں میں بچوں کے معصوم جذبوں اورامنگوں کی فضا سموئی ہوئی ہے نیز اس میںبچوںکے لطیف جذبات،احساسات و خیالات اورنازک خواہشات کی قدر پائی جاتی ہے۔”بچوں کی غزلیں“اور”ننھی منی غزلیں“سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

پھول کھلے انگاروں میں
آگ لگی گلزاروں میں

محنت یا مزدوری کر
ظاہر مت مجبوری کر

بھول نہ اپنے بچپن کو
بچوں کی ضد پوری کر

کانٹے نکھرے سوکھے پھول
اب کے کھلے ہیں کیسے پھول

اُس کی آمد سے روشن
گھر کا کونا کونا ہے

پیڑ لگایا کرتا ہوں
سر پہ سایہ کرتا ہوں

بھر بھر کے بھی خالی ہوں
میں اک ٹوٹی پیالی ہوں
٭٭٭
حافظ کرناٹکی کی ہی شعری سعادت مندی دیکھئے کہ انھوں نے کس طرح پھولوں سے طرح طرح کے معنی و مفاہیم پیدا کیے ہیں،کس کس نوعیت کے گل بوٹے کھلائے ہیں۔جس میں ایک تو بچوں کی شگفتہ مزاجی ہے تو وہیں دوسری جانب اس کے درپردہ فکرمندی اور تجسس آمیز کیفیت کی سرشاری بھی موجود ہے۔ان کی غزلوں میں اخلاقیات کا درس ہے اورنصیحت و سبق آموزباتیںبھی۔انھوں نے اپنی غزلوںمیںدوستی،دشمنی،حق،باطل،سچائی،نفرت،عداوت،بغاوت،جرات،انسان کی عظمت،والدین کی بچوں کے تئیں قربانی،دین کی آگہی،دن اور رات کی حقیقت،سورج اور چاند کی جاذبیت،محنت و مزدوری کی اجرت،فرقہ و تعصب پرستی کی نشانیاں،برائیوں سے بچنے کی تدبیریں،امن و امان کی مثالیں،پیڑوں کی اہمیت،عورتوں کی بے پردگی،دھوپ چھاؤں کا احساس،نیکیوں کا صلہ،اپنوں کی بیگانگی اور دوستوں کی فرقت،ظالموں اور جابرانسانوں کی تصویریں دکھائی ہیں اور ان سب کا بہت خوبصورت احساس کرایا ہے۔اگر تکنیکی اعتبار سے دیکھیں یا پرکھیں تو تو حافظ صاحب کی غزلیں مطلع و مقطع سے زیب تن ہیں۔جن میں ردیف و قوافی کے التزام کو برتا گیا ہے اور اس کے علاوہ دو مصروں میں بات مکمل کرنے کااختصاص بھی موجود ہے۔بہت سے شعر رمزو ایمائیت کے ہنر سے پُر ہیں۔لیکن وہ بچوں پر بار نہیں ہو سکتے۔بلکہ ان میں سیدھے سادے انداز میں مفہوم جھلکتا ہے۔ یہ غزلیں سہلِ ممتنع کی بہترین مثال ہیں۔حافظ صاحب بچوں کے لیے تن اور من سے لکھ رہے ہیں انھوں نے اردو کی بیشتر اصناف میں لکھ کر بچوں کے ادب میں اپنی انفرادیت قائم کرکے ایک خاص شناخت بنائی ہے۔موصوف پچوں کے ادب میں پہلے غزل گو شاعر ہیں جنھوں نے باضابطہ طور پر اس صنف کے شعری مجموعوں کی بنیاد ڈالی ہے۔المختصر حافظ کرناٹکی کی غزلیہ شاعری ادبِ اطفال کے سرمایے میں ایک خوشگوار اضافہ کہا جا سکتا ہے۔

پروفیسر مظفر حنفی اردو ادب میں ادب اطفال کا ایک معتبر نام ہے۔جنھوں نے بچوں کے لیے چھ سے زائد کتابیں لکھی ہیں۔ان کے لکھنے کا سلسلہ اکیسویں صدی میں بھی جاری و ساری ہے۔بچوں کے ادب میں ان کا رجحان زیادہ تر نظم نگاری کی طرف رہا ہے۔تاہم ان کی تخلیقات میں کچھ غزلیں بھی شامل ہیںجو انھوں نے مختلف اوقات میں بچوں کے لیے لکھی ہیں۔ ان غزلوں کو پڑھ کرایک قاری کو محسوس ہی نہیں ہوسکتا کہ ان کی نظمیں معنی و مفاہیم ،بچوں کی ذہنی ساخت اورتربیت و کردارسازی میں برتر ہیں یا ان کی غزلیں۔چونکہ بچوں پر لکھتے وقت مصنف کے پسِ پشت محض ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے ان کی اخلاق و کردار سازی ،چاہے وہ صنف نظم ہو یا صنف غزل وغیرہ۔مظفر حنفی بھی بچوں پر لکھتے وقت اس پہلو کو خاص طورپر ملحوظ رکھتے نظر آتے ہیں۔انھوںنے نظمیں بھی وقیع لکھی ہیں اور غزلیں بھی شستہ و رواں و فہم۔کچھ شعرآپ حضرات کی ذوقِ نذرکرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

بچّے لائے انوکھی تتلی اور نرالے پھول
خوشبو دینے والی تتلی اور نرالے پھول

جس دن گلشن میں نفرت کی آندھی چلتی ہے
شاخوں پر اُگنے لگتے ہیں کالے کالے پھول

میری گود میں پوتی ہے تو پوتا کندھے پر
جیسے جھِلمل جھِلمل جگنو بھولے بھالے پھول

میاں کی جیب میں کل تو بھرے ہوئے تھے چنے
اب ان کی جیب سے نکلے مٹر تو کیا ہوگا

ساری جھیلیں سرینگر کی باغ بغچے دلی کے
بابا میرے گاؤں میں کیوں ہے اتنا کیچڑ اتنی دھول

جو ہم کو اخروٹ نہ دیں گے
ہم ان کو ووٹ نہ دیں گے

بچّے نے سکہ ایسی ادا سے بڑھایا ہے
جیسے وہ خرید رہا ہو دکان تمام
٭٭٭
مظفر حنفی نے جہاںاپنی غزلوں سے بچوں کے دلوں کو لبھانے کا کام کیا ہے وہیں ان کے لیے ایک دلچسپ سبق بھی چھوڑ گئے ہیں۔مذکورہ بالا اشعار سے اس کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہ ہوگا کہ کس طرح انھوں نے پھول کو موضوع بنا کر پیار و محبت کاگلشن آباد کیاہے۔مظفر حنفی نے اپنی غزلیہ شاعری میں بچوں کے معصوم جذبات اور لطیف احساسات کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔انھوں نے بچوں کی پسندیدگی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تتلیوں،پھولوں،بغیچوں،جھیلوں،جگنوؤں،سکوں،بڑوں کی بچوں سے قربت اور ماحول وغیرہ کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔جس سے وہ ایک تو بچے کا دل بھی بہلا رہے ہےں اور دوسری طرف اس میں شعوری بیداری کا وسیلہ بھی پیدا کر رہے ہیں۔موصوف شاعر رمزو ایماکو بھی بڑی مہارت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں اور اس طرح برتتے ہیں کہ بچہ بھی بھار محسوس نہیں کر سکتا۔ اس طرح شاعر علامتی رنگ میں بچوں کو نقصان دہ عنا صر سے آگاہ بھی کرتا ہے۔ مظفر حنفی بچوں کے افعال و حرکات کو بھی شاعری کا موضوع بناتے ہیں کیونکہ ہر انسان کی زندگی میں بچپن کا مرحلہ آتا ہے ۔اس لیے شاعر کوبچپن کے تجربے سے آگہی بخوبی حاصل ہوتی ہے۔مظفر حنفی کی غزلیں بچوں کو حظ پہنچانے کے ساتھ ساتھ اخلاقی درس بھی دیتی ہیں۔ان کی غزلیں بچوں کو تفریح و طبع کا بھرپور سامان فراہم کرتی ہیں۔

ساحل مرتضیٰ تسلیمی ادب اطفال کے معماروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔کیونکہ انھوں نے بچوں کے لیے پینتالیس کتابوں کا ایک بیش قیمت سرمایہ تخلیق کیا ہے۔جس میں چالیس کتابیں شاعری اور چار کتابیں کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ساحل مرتضی بچوں کے لیے غزلیں بھی تخلیق کرتے رہے ہیں۔اگرچہ ان کی نظمیہ شاعری غزلوں پر بھاری پڑتی ہے تاہم غزل گوئی میں ان کو خصوصی اختصاص حاصل ہے۔جن کو وہ شائع بھی کراتے ہیں اور اپنی کتابوں میں نظموں کے ہم پہلو فخر کے ساتھ جگہ بھی دیتے ہیں۔وہ اپنی غزلوںمیں بچوں کے لیے اخلاقی ،دینی و مذہبی ، ذہنی و جسمانی اور روحانی تعلیم نظم کرتے ہیں۔ان کی شگفتہ بیانی اور مسحور کن تخلیقی انداز بچوں کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔آسان الفاظ،چھوٹی بحر،سیدھی سادی تحریر اوردلچسپ موضوعات ان کی غزلوں کا خاصا ہے۔ساحل کی غزلوں کی قرات کرتے کرتے بچّے دین و دنیا کی بے شمار حقیقتوں سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔ان کی نظموں کی طرح بچوں کے لیے کہی گئی غزلوں میں بھی وہ چاشنی اور دل آویزی موجود ہے جو بچے کی فکر ی نشوونما اور افزائش کا مکمل ضامن بن سکتی ہیں۔ذیل میںساحل مرتضی کے کچھ غزلیہ شعر کی قرات کیجیے:
خدمتِ خلق ، خدمت اسلام
ہو یہی کام روز و شب میرا

میرے کردار کو سراہیں لوگ
ذکر محفل میں آئے جب میرا

تکبر نہ کر ، ظلم کرنے سے بچ
خدا کی زمین پر خدائی نہ کر

جس کو چھوٹوں سے پیار ہوتا ہے
وہ بڑا باوقار ہوتا ہے

بے ادب ہر جگہ ہے بے عزّت
با ادب باوقار ہوتا ہے

اُس کو اچھا کوئی نہیں کہتا
جو بار بار فیل ہوتا ہے

ہر کام محنت سے کریں ، کاہل نہ ہوں کاہل نہ ہوں
ہم دوستی اُن سے کریں پڑھنے کے جو شوقین ہوں

قبل اس کے ، کوئی حساب کرے
آدمی خود ہی احتساب کرے
٭٭٭
ساحل مرتضیٰ تسلیمی کی غزلوں میں رنگا رنگی سموئی ہوئی ہے۔ان غزلوں سے جہاں بچوں کی ذہنی آبیاری ہوتی ہے وہیں ان میں سچائی،ایمانداری،مخلصی،اچھائیوں کی نشاندہی،خدا کی خداوندی،عزم و استقلالی،وفا شعاری،دین کی عظمت،کام اور محنت کی افادیت،کاہلی اور بے ادب لوگوں سے بچنے کی تلقین،ظالموں سے نجات،کِبر سے پناہ، برائیوں کا پچھتا وااور غلطیوں کے اعتراف کا حوصلہ ،حقوقِ انسانی کی پاسداری،راہِ راست پر چلنے کی التجا،علم حاصل کرنے اور اس کی شمع جلانے کا عزم،اعتبار و اعتماد رکھنے،اپنے اندر جذبہ ایمان کی حرارت پیدا کرنے وغیرہ سے متعلق بہت ہی مفید مطلب باتیں ہوئی ہیں۔جو نصیحت آموز ہیں اور حقیقت پر مبنی بھی۔ان غزلوںسے مصنف کی روشن خیالی اجاگر ہوتی ہے اور اسی روشن خیالی کا درس انھوں نے بچوں کو بھی دینے کی ایک جاندارسعی کی ہے۔ان کی غزلیہ شاعری نہ محض بچوں بلکہ بڑوں کے لیے باعث تقلید ہیں۔باتیں وہی ہیں جو چھوٹے بڑے ہر عمر کے انسان پر صادق آتی ہےں۔ساحل صاحب کی غزلوں میں بچوں کی رہنمائی اور درس و عبرت کے بیکراں معنی پنہاں ہیں۔

ادب اطفال کے موضوع پر لکھنے والوں میں نذیر فتح پوری کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہیں جنھوں نے بچوںکے لیے اردو کی بہت ساری اصناف میں لکھا ہے جس میں شاعری بھی شامل ہیں۔انھوں نے شاعری میں غزل کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے۔پندرہ سال قبل ساہتیہ اکادمی سے مناظر عاشق ہرگانوی کی مرتب کردہ کتاب’اردو میں بچوں کے ادب کی اینتھولوجی“شائع ہوئی ۔جس میں اردو میں بچوں کے تعلق سے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنے والوں کی تخلیقات پیش کی گئیں۔اس کتاب میں بچوں کے لئے غزل لکھنے والوں میں خواجہ میر درد،میر تقی میر،مومن خاں مومن،شاد عظیم آبادی اور فانی کے ساتھ نذیر فتح پوری کانام بھی باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے اور نمونے کے طور پر ان کی غزل بھی شامل کی گئی ہے جو کسی سند سے کم نہیں ۔اس غزل کے تین شعر قارئین کے نذر ،ملاحظ کیجیے:

محنت کو جہاں میں کبھی رسوا نہیں کرنا
ہاتھوں کی لکیروں پہ بھروسہ نہیں کرنا

مالک کے بنائے ہوئے انسان ہیں سارے
نفرت سے کسی کو کبھی دیکھا نہیں کرنا

ہر شعر میں اخلاص و مروّت کا سبق ہے
پڑھ کر جسے بچو! کبھی بھولا نہیں کرنا
٭٭٭
نذیر فتح پوری کی اس غزل کے تمام شعر واضح ہےں اور ہر شعر بچوں کی صحیح و معاون رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔اس غزل کے تمام شعر شاعر نے بے ساختگی کے ساتھ کہے ہیں یہی وجہ کہ ان میں روانی اور فطری حسن نمایاں ہوا ہے۔نذیر فتح پوری اس غزل میں بچوں کو محنت کی اہمیت سے روشناس کراتے ہیں،خود اعتمادی کا جوش پیدا کرتے ہیں،عالموں کی قدر و منزلت کو کہتے ہیں اورظالموں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ولولہ پیداکرتے ہیں،انسانیت کی عظمت بتاتے ہیں اور اس کا پرچم بلند کرنے کو کہتے ہیں،بھائی چارگی اور انسان دوستی کا پیغام دیتے ہیں،جاہ و حشمت کی رسوائی سے گریز کا پیغام دیتے ہیں اور ایماں و ایقاں کا راستہ اپنانے کو کہتے ہیں،اخلاص و مروّت کا سبق پڑھاتے ہیں اور تاحیات اسی سبق پر پابند رہنے کو کہتے ہیں۔یہ پوری غزل بچوں کے لیے کس قدر موثر ثابت ہوسکتی ہے ،مجھے نہیں لگتااس کی مزید وضاحت ملزوم ہے۔نذیر فتح پوری کی غزلوں سے نمونے کے طور پر کچھ اور شعر ملاحظہ فرمائیں :
یہ جو سر پر بادل ہے
جیسے ماں کا آنچل ہے

بھائی چارے کی بات جب ہوگی
آپ کو بھائی جان لکھوں گا

جب وہ پوچھیں گے پیار کی بولی
تب میں اردو زبان لکھوں گا

ماں کے قدموں ، میں جنت ہے
باپ اسی جنت ، کا ہے در
٭٭٭
نذیر فتح پوری کی یہ غزلیں ادب اطفال میں ایک اہم اضافہ ہے۔ان غزلوں میں نذیر فتح پوری آسان زبان،آسان الفاظ اورموزوں بحر کا استعمال کرکے بچوں کو فائدہ بخش موضوعات،فرحت بخش معلومات اور لطف و انبساط کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ یہ غزلیں بچوں کے لئے کارگر ثابت ہوں گی اوریقینا رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیں گی۔

ابوالفیض عزم سہریاوی میدانِ ادبِ اطفال کے ایک باکمال شاعر ہیں۔جن کے ابھی تک چار سے زائد شعری مجموعے شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔اس کے علاوہ کئی شعری مجموعے زیر طبع ہیں جس میں نظموں اور غزلوں کاایک مجموعہ صرف بچوں کی شاعری پر مشتمل ہے۔ا سے پہلے ان کی کئی نظمیں اور غزلیں مختلف رسائل و جرائد میں چھپ چکی ہیں۔ان کی غزلیں بڑی دلفریب ہیں اور معنی آفرین بھی۔عزم سہریاوی کو بچوں کا چہرہ پڑھنا اچھی طرح آتا ہے،بچے کیا محسوس کرتے ہیں،ان کی خواہشیں کیا ہیں اِس کااِنہیں بخوبی علم ہے بلکہ ایک غزل میں تو اس کا رنگ پوری طرح نکھر کر آگیا ہے۔جس گھر میں چھوٹے چھوٹے بچّے ہوںاور حسن ِاتفاق سے وہ گھرشاعر کا ہوتو بھلا وہ شاعر کب تک اپنے آپ کو بچوں پر قلم اٹھانے سے روک سکتا ہے۔یہی نہیںانسان ہر عمر اپنے بچپن کے سہانے دنوں کو یاد کرتا رہتا ہے۔اس لئے کل کا بچپن اور آج کا بچپن دونوں کی تصویریںاس کی آنکھوں کے سامنے رقص کرتی رہتی ہےں۔جس سے قلم میں زورِ قوت پیدا ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہےں۔یہی زورِ قوت عزم سہرویاوی کی درج ذیل غزلیہ اشعار میں نظر آتا ہے۔آئیے کچھ اشعار سے لطف اٹھائیں:
سویرے کا موسم ہے کتنا سہانا
سویرے ہی اُٹھ کر ہے اسکول جانا

بڑوں سے یہ کرتے ہیں بے حد محبت
بڑوں سے ہے اُلفت اِنہیں والہانہ

کبھی جو اداسی ہو چہرے پہ ان کے
نہ اسکول جانے کا ہے یہ بہانا

اگر نرم خو نرم گفتار ہوگی
یہی ہاتھ میں تیرے تلوار ہوگی

تجھے امن کرنا ہے قائم جہاں میں
وگرنہ ڈگر تیری دشوار ہوگی

یقین ہے تو منزل پہ پہنچے گا آخر
اگر تیز تیری رفتار ہوگی
٭٭٭
عزم سہریاوی نے اپنی غزلیہ شاعری میںبچوں کے جذبات و احساسات کو بے حد خوبی سے نظم کیا ہے۔یہ بچّے کی فطرت میں ہے کہ بچپن میں جسے اس کو سب سے زیادہ پیار اورشفقت ملتی ہے۔وہ اسی کے سب سے زیادہ زیادہ قریب جاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ قربت پائیدا ر و مستحکم ہوتی جاتی ہے۔ عزم سہریاوی نے جہاں بچوں میں ایسی قربت دیکھی ہے وہیں ان میں فکر مندی بھی پائی ہے مثلاً صبح سویرے اسکول جانے کی فکر کرناوغیرہ۔بچّے دل کے سچے ہوتے ہیں ۔دنیا کے مسائل و مصائب سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔یہ دل کی پاکی اور دنیا سے بے فکری انہیں ہمیشہ خوش رکھتی ہے کیونکہ ان کے دل میں کوئی میل نہیں ہوتا اور دنیا سے بے پروا ہوکر وہ ہنسنے ہنسانے میں لگے رہتے ہیں اور ان کا ہنستا کھِلتا چہرہ دیکھ کر دوسرا بھی (اگر کوئی غمزدہ بھی ہو)مسکرانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔عزم سہریاوی ان سب چیزوں کے علاوہ بچوں کو امن آتشی کا پیمبر بننے ،زندگی کے گام پر پھرتیلا پن پیدا کرنے،بڑوں سے کچھ حاصل کرنے اوریقین و اعتماد کی بحالی کا سبق دیتے ہیں۔

ظفر کمالی اس صدی میںبچوں کے ایک جانے مانے ادیب ہیں۔انھوں نے بھی بچوں کے لیے نظموں اور غزلوں کا اچھا خاصا ذخیرہ چھوڑا ہے جس میں وہ آج بھی مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔بچوں کے ادب پر انہیں بھر پور عبور حاصل ہے۔نظموں کو اہمیت دیتے ہوئے انھوں نے غزلوں کی طرف بھی توجہ دی ہے اور اچھی خاصی تعداد میں بچوں کے لیے غزلیں تخلیق کی ہیں۔بچوں پر ان کی کتاب”بچوں کا باغ“قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع ہوئی ہے۔ان کی غزلیں فطانت و متانت اور معنی آفرینی کی عمدہ مثالیں ہیں۔جو لطف اندوزی سے لبا لب ہیں اور فنی و فطری نزاکت سے شرابور بھی۔ظفر کمالی اپنی غزلوں میں بچوں کی معمولی سے معمولی اور بڑی سے بڑی خواہش کا خیال رکھتے ہیں ۔وہ بچوںکے معمول کی زندگی سے جڑی چیزوں کو غزلوں میں نہایت سادگی کے ساتھ پیش کرکے ان کا دل جیتنے کی ہم ممکن کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ان کی غزلوں میں وہ تمام فنی خصوصیات پائی جاتی ہیں جوبچوں کے ذوق و شوق کوابھارتی ہیں۔ظفر کمالی اپنی غزلوں کے ذریعے بچوں کو ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ اخلاقی درس بھی دیتے ہیں۔ان کے کچھ شعر ملاحظہ فرمائیے:

دعا مجھ کو دیتے ہیں چاچو میرے
تمہاری پٹائی سلامت رہے

بڑا ہو کے لکھوں گا میں بھی کتاب
قلم روشنائی سلامت رہے

پھِسل کر اگر دم سے گر جائے کوئی
تو ایسے میں تالی بجانا برا ہے

نظر آئے بچھو تو فوراً ہی مارو
بہادر ہو تم تھرتھرانا برا ہے

محلّہ تمہارا ”نرالا نگر“
وہاں ہر بشر ہی نرالا رہے

پڑھنے کو جب بھی گھر پر کہتے تھے میرے بھائی
کرتا تھا دردِ سر کا اکثر ہی میں بہانا
٭٭٭
مذکورہ بالا اشعار کے انتخاب سے ظفر کمالی کی شعری ہنر مندی کا اندازہ بہ آسانی ہوجاتا ہے کہ کس طرح انھوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں بچوں کو خوبیوں اور خرابیوں سے آشنا کرایا ہے۔کہیں کہیں انھوں نے طنزومزاح بھی پیدا کیا ہے۔مظفر حنفی کے بعض غزلیہ اشعار میں بھی یہ عنصر دیکھنے کو ملا تھا اور ظفر کے یہاں بھی اس چیز کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔وہ لوگ ناداں ہیں جو یہ کہتے بچوں کی سطح کی غزل کہہ کر غزل کا حسن زائل ہوجاتا ہے۔جو اشعار اس پورے مضمون میں شامل کیے گئے وہ ان کے لیے زندہ مثال ہے ۔

بچوں کے لیے لکھنے والوں میں ایک نام فراغ روہوی کا ہے۔بچوں پر ان کی کتاب”ہم بچے ہیں پڑھنے والے“مغربی بنگال اردو اکادمی سے شائع ہوئی ہے۔انھوں نے نظم،غزل،رباعی وغیرہ اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔اس ضمن میں ان کی کئی تصانیف بھی شائع ہو چکی ہیں۔بچوں سے رغبت اور لگاؤ کا اندازہ ان کی تخلیقات سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔فراغ روہوی نے بچوں کے لیے غزلیں اور نظمیں دونوں تخلیق کی ہیں۔انھوں نے مذکورہ دونوں اصناف میں بچوں کی دلچسپی اور طبیعت کو ملحوظ رکھا ہے۔ایک غزل کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں:
دل کی صفائی کی ہے
اپنی بھلائی کی ہے

جب ہم نے کی شرارت
ماں نے پٹائی کی ہے

یاروں نے پیٹھ پیچھے
میری برائی کی ہے

ٹیچر نے دھوپی جیسی
میری دھلائی کی ہے

حق کے لیے ہمیشہ
ہم نے لڑائی کی ہے
٭٭٭
دیکھئے یہ غزل کتنی صفائی کے ساتھ کہی گئی ہے۔جس کے سبھی شعر مفہوم سے پُر ہےں نیزچارچارپانچ پانچ لفظوں کو ایک موزوں بحر میں برت کر وزن کی لذت و حلاوت اور قافیہ و ردیف کی یکسانیت کے ساتھ خوبصورت ڈھنگ سے شعری جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس غزل میں بچوں کے نٹ کھٹ پن،شوخی،شرارت،دل کی صفائی،دیانت داری،حق پرستی کے علاوہ مشقت پرذور دیا گیا ہے۔فروغ روہوی کی غزلیں بھی باقی شاعروں کی طرح بچوں کواچھائی اور بھلائی کی راہ پرچلنے کا عزم و حوصلہ عطا کرتی ہیں۔

ادبِ اطفال کے موضوع پر ان دنوں کوئی خاطر خواہ توجہ نہیںدی جارہی ہے ۔اردو ادب کی تاریخی کتابوں میں کہیں ادبِ اطفال کا موضوع ہی نہیں ہے۔البتہ کچھ رسائل جیسے ”امنگ“،”بچوں کی دنیا“،”پیام تعلیم“،”نیا کھلونا“ وغیرہ ابھی تک اس کی ساکھ بچائے ہوئے ہیں۔وگرنہ ناقدین کب کے اس موضوع کو فراموش کر بیٹھے ہیں یہی وجہ ہے کہ شاعر حضرات ادبِ اطفالی موضوع کی طرف توجہ مبذول نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کی پذیرائی کے لیے کوئی سامنے نہیں آتا ہے۔بچوں میں یوں تو نظم نگار شاعر بہت ہیں لیکن غزلیہ شاعر کی تعداد نہایت قلیل ہیں پھر بھی بعض شعرانے کم و بیش غزلیں تخلیق کر کے بچوں کے ادب میں صنفِ غزل کی آبرو رکھی ہے۔جن شعرا نے اکیسویں صدی میں بچوں کے لیے غزلیں لکھی ہیں ان میں ظفر گورکھپوری،شبنم کمالی،ڈاکٹر محمد شفیق اعظمی،متین اچل پوری،عادل حیات ،سالک جمیل براڈ،شمس قریشی،قیصر صدیقی،آصف ثاقب، وغیرہ شامل ہیں۔بعض لوگوں نے غیر دانستہ طور پر ایسی غزلیں لکھی ہیں جو بچوں کے ذمرے میں آتی ہیں ایسی غزلیں اگر تلاش کی جائے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کے ادب میں صنف غزل بہت جلد رواج پاجائے گی۔

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Poetry and rhymes for kids in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News
Tags: , , ,

Leave a Reply