نیاز جیراجپوری نئی اختراع کا بھرپور شاعر

غلام نبی کمار

اُردو زبان کے نمائندہ اور شہرت یافتہ شعراءمیں نیاز جیراجپوری کا نام بھی شامل ہے۔ جو تقریباً پچھلی چاردہائیوں سے شعرو ادب میں اپنی منفرد شناخت اور پہچان قائم کرنے میں بے حد کامیاب ہوئے ہیں۔ جس زمانے میں انھوں نے آنکھیں کھولیں۔ اُس زمانے میں اردو میں نامور اور مقبول شاعروں کی کمی نہ تھی۔اس فہرست میں کچھ سینئر اور تجربہ کار شاعر بھی شامل تھے اور کچھ بالکل نئے اوران کے معاصر ہم پایہ شاعر بھی۔جن میں اکثر و بیشتر شاعر حضرات آج بھی ان کے دوش بہ دوش اور پہلو بہ پہلو فنِ شاعری میں اپنی جولانی طبع کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔
نیاز جیراجپوری کی پیدائش ریاست اترپردیش میں ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤںجیراجپور میں21 مئی 1960میں ہوئی۔اس سرزمین سے بڑے بڑے عالم،فاضل، اسلامی اسکالر،دانشور،ادیب، شاعر اور زندگی کے مختلف شعبہ جات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کئی اشخاص جنمے ہیں۔ مولوی عبداللہ جیراجپوری جیسے باکمال استاد کو بَھلا کو کون بُھلاسکتا ہے جوشمس العلماءعلامہ شبلی نعمانی کے بنیادی اُستاد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پروفےسرشمیم جیراجپوری بھی اسی سرزمین کی دین ہے۔جنہیں علمی میدان میں نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونی ورسٹی کے بانی وائس چانسلر بننے کا اعزازی فخر حاصل ہے۔ مشہور اسلامی اسکالر حافظ اسلم جیراجپوری کی جنم بھومی بھی جیراجپور ہی ہے جنھوں نے کئی گراں قدر تصانیف سے نوازا ہے۔علاوہ ازیںاسلم جیراجپوری رسالہ ’جامعہ ‘ کے اولین مدیران میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔اگر نامورانِ جےراجپوری کے بارے میں مزید لکھا جائے تو صفحات درکار ہو ںگے۔نیاز جیراجپوری بھی عصرِ حاضر اور نمائندہ شاعروں کی نسل کے ایک اہم شاعرتصور کیے جاتے ہیں۔ان کی ابتدائی تعلیم جیراجپور میں ہوئی۔ پھر ثانوی درجات کی تعلیم شبلی انٹر کالج اعظم گڑھ سے حاصل کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کا رخ کیا۔ جہاں انھوں نے پی۔یو۔سی۔،بی۔اے،ایم۔اے۔(معاشیات)،ایل ایل۔بی۔ اور ایل ایل۔ایم۔ کی ڈگریاں حاصل کیں۔آخر میں جب پی۔ایچ۔ڈی میں ان کی رجسٹریشن کا وقت آیا توان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ جس کی وجہ سے فیملی کی پوری ذمہ داری کابوجھ انہی کے کاندھوں پر آن پڑا۔غرض کہ گھریلوذمہ داریوں کے سبب ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے سے قاصررہ گئے۔ موصوف کی تعلیمی اسناد کا جائزہ لیا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ انھوں نے اُردو کے دوسرے شعراءجیسے پنڈت بِرج نرائن چکبست،فانی بدایونی،اکبر الہ آبادی وغیرہ کی طرح وکالت کی تعلیم کو اپنی زندگی کا مشغلہ حیات سمجھا تھا تاہم تعلیم تو حاصل کی لیکن وکالت کو اپنا نہ سکے جبکہ مذکورہ شاعروںنے باضاطہ طور پر وکالت کرنا شروع کی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ فانی کا اس کام میں بعد میں جی نہ لگا ، اکبر الہ آبادی تومستعفی ہونے تک جج کے فرائض انجام دیتے رہے اور شعر و شاعری کے بال و پر بھی سنوارتے رہے۔

نیاز جیراجپوری ایک کثیر الجہت شخصیت کے مالک ہیں۔ انہیں بیک وقت اردو شاعری کی ہر صنف ِ سخن میں طبع آزمائی کا شرف حاصل ہوا ہے۔حمد،نعت،غزل،نظم، قطعہ،دوہے، گیت ، سانیٹ وغیرہ میں موصوف کے فنی جواہر کُھلتے اور کِھلتے نظر آتے ہیں۔شعرو شاعری کا شغف انہیں بچپن سے ہی تھا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے والد عظیم اللہ عبدالرشید شعروادب کے شوقین اور دلدادہ تھے۔صرف 19سال کی عمر میں ان کی پہلی غزل شائع ہوئی۔انھوں نے کچھ کہانیاں بھی لکھیں،لیکن بعد میں نہ جانے کیوں اس صنف سے کنارہ کشی اختیار کی۔زمانہ طالبِ علمی اور دورانِ تعلیم علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں کہانیوں کے مقابلے میں ان کی کہانی’مسافر کی دستک‘ کو شعبہ اُردو ، علی گڑھ سے پہلے انعام سے سرفراز کیا گیا۔ان کی دیگر کہانیاں کتاب نما،انشا،شیرازہ،گلفام،فلمی ستارے وغیرہ جیسے رسائل میں شائع ہوئیںہیں۔ملک اور بیرون ملک کے مقتدر رسائل و جرائد اور کئی اخبارات کے ادبی ایڈیشنوںمیں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں جس میں آجکل، ایوان اردو، جہان نما، کتاب نما،شاعر،گلفام،بازگشت،تحریک،مریخ،پرواز، چارسو،عالمی سہارا،قومی تنظیم، شمع،گواہ، ہماری زبان،گلبن، بیسویں صدی وغیرہ وغیرہ قابل ذکررسائل اور اخبارات ہیں۔انھوں نے ریڈیو پر کئی پروگرام کیے۔انھوں نے مشاعروں میں کم شرکت کی ہے لیکن جتنے بھی مشاعروں میں اپنے کلام کو گُنگنایا اور پیش کیا،اس میں سامعین سے بہت داد پائی۔ان کی نظموں اور گیتوں کا مجموعہ’بہاروں کی اداسی‘ دیوناگری رسم الخط میں 1994میں شائع ہو ا۔نیاز جیراجپوری نے اردو زبان کو جامعیت اور ہمہ گیریت بخشنے کی خاطراور اپنے آپ کو اردو زبان کا حقیقی خدمت گذار ثابت کرنے کے لئے ایک شاندار اور معیاری ادبی جریدہ ماہنامہ’شاندار‘ اعظم گڑھ کے نام سے نومبر2003میں جاری کیا۔جس کو اس کی انفرادیت کے سبب ادبی حلقے میں بہت پسند کیا گیا۔’شاندار‘ کے اب تک کم و بیش تیس پنتیس شمارے شائع ہوئے ہیں۔ اس رسالے میں اردو کی کئی اہم شخصیات پر خصوصی گوشے شائع کیے گئے۔لیکن اگست 2015سے اس رسالے کا کوئی شمارہ منظر عام پر نہیں آسکاہے ۔ ’شاندار‘ کے تعطل کا شکار ہونے کی وجہ مدیر نیاز جیراجپوری کی اہلیہ محترمہ کا انتقال اور خود ان کا آپریشن تھا۔لیکن اللہ نے انہیں اب صحت یاب فرمایا ہے اس لئے ہم پُرامید ہےںکہ اس رسالے کی اشاعت بہت جلد دوبارہ عمل میں لائی جائے گی اوریہ رسالہ پھر ایک نئی آب و تاب کے ساتھ ادبی دنیامیں جلوہ گر ہوگا۔یہ بات یہاں پر باور کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ نیاز جیراجپوری نے فلموں کے لئے بھی گانے لکھے ہیں ۔جب ان کی شعری تخلیقات رسالہ’شمع‘ دہلی میں شائع ہوتی تھیں ۔تو وہیں سے فلم ہدایت کار اوراداکار منوج کمار نے ان کی فنکاری سے متاثر ہوکر انہیں فلموں میں کام کرنے کی دعوت پیش کی۔ انھوں نے’انگار وادی ‘ نام کی فلم کے سات گانے لکھے ہیں ۔اس فلم میں کرن کمار، قادر خان، مصطفی حیدر اور رجنی جیسے اداکاروں نے کام کیا تھا۔یہ فلم 1998 میں رلیز ہوئی تھی۔کچھ فلموں کے لئے ڈائلاک بھی تیار کیے اورکچھ کے ڈائریکشن میں بھی حصہ لیا۔لیکن چھ سات سال ممبئی میں رہنے کے بعد اپنے آبائی گاؤں جیراجپور میں واپس لوٹ آئے، اور اپنی پشتنی وراثت کی دیکھ بال میں لگ گئے۔شایداس میں کچھ اپنے مادرِ وطن کی یاد اور کشش تھی اور کچھ گھریلو ذمہ داری ۔ جس نے انہیں واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔

کہیں بھی دفن کروا دےنا اے قسمت مجھے لیکن
کفن میں مےرے جیراجپور کی مِٹّی لگا دےنا

نیاز جیراجپوری جب ایک اُبھرتے ہوئے فنکار اور تخلیق کار کے روپ میں شاعری کے میدان میں وارد ہوئے تو کسی کو بھنک تک نہیں لگی اور کوئی محسوس تک نہیں کر سکا کہ شاعری کے میدان میں کوئی نو آموز تخلیق کار جلوہ افروز ہوا ہے یا کسی نئے شاعر کی آمد ہوئی ہے۔غرض کہ ان کی شاعری اُن تمام تر خوبیوں سے مزین اور مالال ہے، جو ایک تجربہ کار اور بلند پایہ شاعر کی شاعری کی جان اور پہچان ہوتی ہے۔ان کا کلام جدّت اور ندرت سے سرشار اور پُر ہے۔ انکی شاعری میں یہ فنی اختصاص ابتدا سے نظر آتا ہے۔شاعری میں انھوں نے اپنی ایک الگ شاہراہ متعین کی ہے۔ان کے کلام میں ان کی انفرادیت کا رنگ جھلکتا ہے۔لیکن اس کا مطلب روایت سے احتراز یا بغاوت نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری میں روایت اور جدیدیت کی آمیزش اور آمیختگی بھی ہے۔جو کہ ایک حقیقی اور کامیاب تخلیق کار کی عمدہ پہچان ہے۔نیاز جیراجپوری نے بے لوث ہوکر شاعری کی ہے، اس کو اپنا سرمایہ کُل اور اوڑھنا بچھونا تصور کیا اور اسی کو اپنے داخلی جذبات و خیالات اور فکرو احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ زندگی کے خوشگوار اور ناخوشگوار وا قعات کو قلم سے زبان بخشنے کا فن انہیں خوب آتا ہے۔ان کی شاعری کو جس طرح ابتداً پسند کیا جاتا تھا اسی قدر آج بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔کچھ شاعراپنی زندگی میں ترقی اور تنزلی دونوں کا دور دیکھتے ہیں لیکن نیاز جیراجپوری اُن خوش نصیب اور خوش فکر شاعروں میں شعراءمیں شمار کیے جاتے ہیں جنھیں اپنی پوری زندگی میں شاعری کے وصف پر عزت و وقار کے ساتھ یاد کیا گیا اور سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔یوں تو موصوف کا اتنا گراں مایہ اور گراں قدر کلام رسائل کے اوراق کی زینت بنا ہے کہ جسے اگر جمع کر کے تریب دیا جائے تو ان کی کئی کتابیں منظرِ عام پر آسکتی ہیں۔لیکن موصوف اس معنوں میں بد قسمتی کے شکار ہوئے ہیںکہ بعض اسباب و علل کی بنا وہ اپنے کلام کو جمع کرنے میں ناکام ہوئے۔جس کا انہیںخود بھی حد درجہ افسوس اور ملال کا اظہارہے۔جس کے سبب آج بیشتر قارئین اردواس صاحبِ فکر، صاحبِ علم، بسیار گو، شیریں کلام ،فصیح زبان اور علم پرور شاعر سے اتنے شناسا نہیں ہیں جتنے کہ ہونے چاہیے تھے۔

نیاز جیراجپوری کبھی گروہ بندی کے قائل نہیں رہے۔ادب کے مختلف گروہوں اورمخصوص دائروں میںرہ کر فن کو مقید رکھنا انہیں گوارا نہیں ہے۔انھوں نے ابتدا سے ہی الگ تھلگ رہ کر شاعری کی ہے۔جس انداز میں چاہا،اُس انداز میں قلم چلایا۔کہا جا سکتا ہے یہ چیز بھی ان کی ناموری میںتھوڑی بہت آڑھے آئی۔لیکن ان کا فن ہی جاندار شاعرکی عمدہ پہچان ہے۔ نیاز نے متنوع اور مختلف النوع موضوعات بے شمار نظمیں،غزلیں،دوہے،گیت اور قطعات وغیرہ لکھے ہیں۔انھوں نے ہر دور کے اثر کو قبول کیا اور اس کو اپنی شاعری میں خصوصی جگہ دی۔ عصری آگہی اور تخلیقی وجدان کا نیاز بے پناہ شعور رکھتے ہیں۔ہر اُس واقعے جس نے انسانی ذہنیت کو جنجھوڑ کر رکھ دیا موصوف نے تحریری شکل دے کر جاویدانی بخشی۔نیاز افراط کے ساتھ شعر کہتے ہیں ،اس لئے ان کی شاعری میں فراوانی ہے۔ان کی طبیعت میں سوزوگداز پایا جاتا ہے ،اس لئے ان کی شاعری میں شستگی اور پاکیزگی کا بہاؤ ہے۔ان کے قلم میں جولانی ہے ،اس لئے سچائی اور حقیقت کے کسی پہلو سے تشنہ نہیں رکھتے۔چونکہ فکر و آگہی، احساس و ادراک، قوّتِ تخیل،اندازِ فکر،شعوری پختگی رکھتے ہیں ، اس لئے سحر انگیزی اور فکر انگیزی کا رنگ ا ن کی شاعری کا خاصہ ہے۔

نیاز جیراجپوری کی تخلیقی اور ذہنی اُپچ کا اندازہ ان کی نظموں میں بظاہرکھل کر نظر آتا ہے۔انھوں نے اپنی نظموں میں ہر قسم کے موضوع کو چھیڑا ہے۔جن میں زندگی کی عصری حِسیّت، حالات و واقعات، افکارو خیالات، افعال و اعمال، شادمانی و کامرانی، شکستہ حالی و بدحالی، مسائل و امثال وغیرہ کی بھر پور رہنمائی اور ترجمانی کی گئی ہے۔ انھوں نے بہت ساری وطنی نظمیں بھی لکھی ہیں جو انسان دوستی،بھائی چارگی،رواداری،یگانگت،مساوات،قومی یکجہتی،اخوّت،امن و سلامتی، اتحاد و اتفاق،خوشحالی اور یکسوئی کا پیغام دیتی ہے۔مذہبی و نسلی بھید بھاؤ،تفریق،قتل و غارت گری،انتشار،افتراق،جعل سازی،فتنہ پروری،لوٹ مار،دہشت گردی وغیرہ پیدا کرنے والوں کی شدید لفظوں میں مذمت اور نکتہ چینی کی ہے۔’یہاں نفرت نہ پھیلاؤ‘،’چاروںاور‘،’زندہ باد‘،’سزا‘،’عزمِ نو‘،’آواز‘،’نئی تاریخ‘،’تعارض‘،’المیہ‘اور’لو جہاد‘وغیرہ نظمیں ان کی شخصیت کی آئینہ دار ہے۔نیاز فرقہ پرستوں اورایکتا میں پھوٹ ڈالنے والوں کی ہجو بھی کرتے ہیں اوراس سے باز آنے کی التجا بھی کرتے ہیں۔نیاز لکھتے ہیں کہ یہاں اَن ایکتا میں یکتا کی رسم زندہ ہے۔یہ سرزمین گنگا جمنی تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے اور یہ دھرتی چشتی، نانک، رام،گوتم بدھ کی دھرتی ہے ،اس میں نفرت کی آگ پھیلانے سے خود ہی جھلس جاؤگے۔’یہاں نفرت نہ پھیلاؤ‘ نظم سے ایک بند ملاحظہ فرمائیے:

ہوا میں تیر جو تم چھوڑتے رہتے ہو رہ رہ کر
نشانے پر کسی کو رکھ کے بے سرپیر کی کہہ کر

تم اپنے خلفشار و شور و شر سے باز آجاؤ
یہاں نفرت نہ پھیلاؤ

نیاز مادرِ ہند سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں ۔ اسی جذبے کے تحت انھوں نے ہندوستانی تہذیب اور یہاں کی روایت کو گنگا جمنی تہذیب کی سب سے بڑی علامت قرار دیا ہے۔ اس کو پراگندہ کرنے والوں سے انہیں سخت نفرت ہے۔ ہندوستانی مٹی کی بوباس سے انہیں شدید لگاؤ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف اپنی نظموںاورقطعات میںیہاںکے قومی تہواروں،قومی دنوں،قومی نشانات، قومی زبانوں،تاریخی عمارتوں،ویر شہیدوں اور مذاہب کاتذکرہ بھی بڑی عمدگی سے کرتے ہیں۔’ہولی ‘،’ہولی کے بعد‘،’عید کے دن‘،’رنگ ہولی کے‘،’تحفہ عید‘،’اردو اور اردو والے‘،’اردو زبان‘،’تاج محل‘،’یوم اساتذہ‘،’ہندی دیوس پر‘،’بیادِ شہدائے وطن‘،’بیادِ شہید بھگت سنگھ‘،’دشہرا‘وغیرہ ان کی عقیدت مندی کا اعلیٰ ثبوت پیش کرتے ہیں۔کچھ نظموں سے چند بند پیشِ خدمت ہیں:

پانی صابُن سے لڑ رہی ہو کیا
اپنا چہرہ رگڑ رہی ہو کیا
رنگ میں نے مَلے جو گالوں پر
ہنس کے اُن سے جھگڑ رہی ہو کیا
(قطعہ: ہولی کے بعد)
عید پیغامِ مسّرت لے کے ہیں آئی ہوئی
آج بھی تیری کمی کا ہی مجھے احساس ہے
تو نہیں ہے صرف تیری یاد میرے پاس ہے
اک اُداسی میرے ذہن و دل پہ ہے چھائی ہوئی
(سانےٹ نظم: عید کے دن)
نیاز جیراجپوری شیریں اور قومی یکجہتی کی علمبردار زبان اُردو کے اوصاف اور خصوصیات کو اپنی نظم’اردو زبان‘ میں یوں بیان کرتے ہیں:
شہد ہے شبنم ہے اور شہنائی ہے اُردو زبان
شیریں ہے شفاف ہے سُکھ دائی ہے اُردو زبان
ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی کی ہم نشیں
سب اسے اور سب کو ہی راس آئی ہے اُردو زباں

نیازہندوستان کے میلوں ٹھیلوں،موسموں،پرندوںچرندوں ،ندی نالوں،جھیلوں جھرنوں،پھولوں پھلوں،وادیوں گھاٹھیوں،کھیت کھلیانوں،رسوم و رواج،ماحول،حسین مناظر وغیرہ کی منظر کشی بہت خوبی سے بیان کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ہندوستانی گلوکاروں، ادیبوں، شاعروں،سنگیت کاروں و غیرہ کا ذکر جس بیباکی اور ہنرمندی سے کیا ہے،وہ ان کے زورِ قلم کا ہی نتیجہ ہے۔مذکورہ عناصر کی تصویر کشی کرتی ہوئی ان کی ایسی نظموں اور قطعات میں’موسم سرما‘،’اے میرے کشمیر‘،’کلینڈر نامہ‘،’ساونی‘،’گاؤں میں‘،’گاؤں کی یاد‘،’ساونی‘،’روپ سنگاڑ ’اے لتا منگیشکر‘،’جگجیت سنگھ‘،’سرسید احمد خان‘،’ماحول‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ’گاؤں میں ‘ نظم سے کچھ اشعار ملاحظہ کیجئے:

سوندھی سوندھی خوشبو دیتی ذہن و دل کو تازگی
جب بھی برسے کھیت کھلیانوں میں پانی گاؤں میں
کیوں کوئی اُلجھے نئی سڑکوں کے پھیلے جال میں
دے مزہ چلنے کا پگڈنڈی پرانی گاؤں میں

نیاز نے اپنی کچھ نظموں اور قطعات میں معاصر ادیبوں کو بھی یاد کیا ہے جو ان کا ساتھ چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔جنھوں نے ان کے ذہن و دل کو جنجھوڑ کر رکھ دیا اور لکھنے پر آمادہ کیا۔گویا کہ ان کے جانے کا انھوں نے بے حد رنج و ملال اور تاسف کااظہار کیا ہے۔ایک حساس شاعر کی اس سے بڑھکر اور کیا مثال پیش کی جا سکتی ہے۔’آہ! کشمیری لال ذاکر‘،’آہ !پیغام آفاقی‘،’آہ! معراج فیض آبادی‘،’آہ! مظہر سلیم ‘ اور ’آہ!خلیق انجم‘وغیرہ اس کی شاندار مثالیں ہیں۔

ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوریت نواز ملک ہے اور اس میں ہر انسان کو اس کی مذہب کی آازادی، حقوق کی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی، مساوات کی آزادی وغیرہ حاصل ہے۔لیکن کچھ بدکار اور شر پسند لوگ مختلف حربے آزما کرملک کی سا لمیت میں تفرق پیدا کرنے کی کو شش کرتے ہیں اور کچھ بد افعال اور بد اعمال سیاسی لوگ سیاست کا سہارا لے کر معصوم اور بھلے عوام کو انتخابات میں سبز باغ دکھا کر اور بہلا پھسلا کرووٹ حاصل کرکے ان کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہندوستانی آئین کی تو ہین کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔خود غرض سیاسی رہنما کالا دھن جمع کرنے میں مصروف ہے۔غرض کہ ہر حال میں بھلی عوام کو ہی مصیبت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔نیازجیراجپوری نظم’جمہوریت کی لاش‘،’ان دنوں‘،’چاروں اور،‘’کالے چور‘،’انتخابی جنگ‘ میںکچھ اسی صورتِ حال کی ترجمانی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آخرالذکرنظم سے کچھ اشعار قارئین کی نظر کیے جاتے ہیں:

ہوگیا اعلان جب سے انتخابی جنگ کا
چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا
چھل کپٹ کی عادی جنتا کو لُبھانے کے لئے
دُم ہلاتے دیکھے جائیں گے سیاسی بھیڑئے
شور اب گونجے گا وعدوں کے رباب اور چنگ کا
چھا گیا موسم سیاسی ہُو تُتُو ہُڑ دنگ کا

نیاز جیراجپوری ہندوستانی جمہوریت کے سرخیل شاعر قرار دیے جا سکتے ہیں۔انھوں نے ہندوستان کی علمبردار جمہوریت کو ہر وقت یاد کیا ہے اور اسے اپنے قلم کی زینت بھی عطا کی ہے۔موصوف ہندوستان کی جشنِ آزادی کے عظیم پرستاروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں،کیونکہ انھوں ہندوستانی یوم آزادی کے ترانے اور کئی گیت لکھے ہیں،جن میں اخلاص مندی،دوستی،ہم آہنگی،بھائی چارگی،قومی یکجہتی کا درس ملتا ہے۔’یومِ جمہوریہ‘،’یومِ آزادی‘،’جشنِ آزادی‘،’صدائے جمہور‘ اسی ذمرے میںرکھی جانے والی کچھ نظمیں ہیں۔جن کی بنیاد پر انہیں وطنی شاعر تسلیم کرنے میں کوئی شبہ نہیں۔ان کی رنگا رنگ شخصیت میں ہندوستانیت کا رنگ یہی پر ختم نہیں ہوتا۔بلکہ نوجوانوں کے شعور کی بیداری میں نیاز پیش پیش ہیں۔نظم’ہندوستان کے نوجوانوں سے‘میں کچھ یہی رنگ نمایاں نظر آتا ہے:

سنو اے نوجوانوں ! آج ہم تم سے مخاطب ہیں
چلو تصویر ہم تم کو دکھلائیں اُجڑے بھارت کی
بہت ممکن ہے ذمہ داریوں کا احساس ہو تم کو
بہت ممکن ہے تم کو فکر ہو کچھ اپنے بھارت کی

متذکرہ بالا نظم میں انھوں نے ملک دشمن عناصر، نفرت کی دیوار کھڑی کرنے والوں، خون کی ہولی کھیلنے والوں،گھروں کے چراغ بجھانے والوں،باغ و بہار ملک میں بے رونقی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں،ایک لاڈلے بیٹے کو بوڑھے ماں باپ ، بھائی بہنوںسے جدا کرنے والوں،ملک کو بربادی کی طرف لے جانے والوں اورملک و قوم کے دشمنوں کے خلاف نوجوان نسل کومتحرک ہو کر علم بلند کرنے کی اپیل کرتے ہیں تاکہ ان سب کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے اور ان کے برے افعال کو ناکام بنایا جا سکیں۔۶دسمبر ۲۹۹۱ءکے ممبئی فسادات پر مشتمل ان کی نظم’کالی یادیں‘ کے عنوان سے ہیں۔جس کا اگر مطالعہ کیا جائے تواس واقعے کا پورا ہولناک پسِ منظر آنکھوں میں رقص کرنے لگتا ہے۔اس نظم کے حوالے سے شاعر نیاز جیراجپوری مدیریونس دہلوی سے یوں رقمطراز ہوتے ہیں:

”کسی بھی سیکولر اور حساس ہندوستانی کے لئے کلنک میں ڈوبے چھ دسمبر بانوے کی کالی یادوں سے مفر ناگزیر ہے۔ہمیں اس دن کے حوالے سے اپنی آنے والی نسلوں پر واضح کرتے رہنا چاہئے کہ فرقہ پرستی نے مذہب اور دھرم کی اوٹ سے مادرِ ہند کو کس کس طرح سے زخمی اور بے جان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاکہ وہ ان فرقہ پرستوں کا منہ توڑ جواب دینے اور ان کے حوصلے پست کرتے ہوئے انہیں کچلنے کے لئے سینہ سپر ہوجائیں۔“(رسالہ ماہنامہ’شمع‘ دہلی،دسمبر1995ص 29)
ایک ذی شعور اور حساس شاعر کی یہی پہچان ہے کہ ماضی،حال اور مستقبل کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور نیاز جیراجپوری میں یہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انھوں نے ’یادِ ماضی‘ اور’گاؤں کی یاد‘کے عنوان سے بھی نظمیں قلم بند کی ہےں۔ انہیں ماضی کی یاد اس قدرستاتی ہے کہ جس کوبھولنا ان کے بس میںنہیں ، اس لئے غزل ،نظم، قطعہ،گیت وغیرہ کی صورت میں اس کودوامِ زیست بخش کر اطمینان حاصل کرتے ہیں۔حال ہی میں ہندوپاک کے درمیان تناؤ اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا، جنگ کی ہاہاکار مچ گئی،جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ پیدا ہوا،نیاز جیراجپوری ایک متفکراور با حسّاس شاعر ہیں اس لئے لکھے اور اثر قبول کیے بغیر نہیںرہ سکتے تھے ۔ جی ہاں!’جنگ‘ کے عنوان سے ایک اثر انگیز سانیٹ رقم کر ہی دیا۔موصوف کے مطابق جنگ اقوام کی تباہی ہے۔اس سے ہمارا کل تاراج ہوتا ہے،آئندہ نسلیں بھی خراج لیتی ہیں،جنگ خاک و خون کی آندھی کا امکان ہے وغیرہ۔موصوف عالمی سطح پر مسلم اقوام کے ساتھ ہورہی زیادتی،ظلم و جبراور بد سلوکی کو شگفتگی سے رقم کرتے ہیں’آہ! فلسطین‘ میں فلسطین کی مظلومیت،بے کس،بے یارو مددگار اورمرعوب عوام ،اسرائیل کی حیوانیت ،وحشت اور درندگی کی شکار عوام کا رونا رویا ہے۔موصوف امن و امان کے متلاشی اور متمنی ہے۔اس لئے’سوال‘ کے نام سے نظم رقم کر کے کہتے ہیں:

جنگ ہے خود مسئلہ یہ مسئلے کا حل نہیں
اشک و خوں کی بارشوں سے سوکھتے دلدل نہیں
میرے ہم سائے، مِرے بھائی ، مِرے دشمن بتا
کب ملے گا ہم کو پہلے جیسا اپنا پن بتا

نیاز جیراجپوری نے اپنی نظموں میں اعظم گڑھ کو خصوصی اہمیت دی ہے ۔’اعظم گڑھ‘،’اہلِ اعظم گڑھ‘ میں اعظم گڑھ کے تئیں اپنی عقیدت اور محبت کے پھول کھلاتے ہیں۔موصوف اعظم گڑھ کو دیارِ علم و فن،شعروادب کی انجمن،علم و عرفان ،گنگ و جمنی تہذیب ، خدمت گارِ فن، شبلی، فراحی،سہیل، اسلم، خلیل،کیفی، ہری اودھ اور راہُل کا وطن،قومی یکجہتی اور اخوت و پیار کا بانکپن اور علم و آگہی کا موجزن قرار دیتے ہیں۔اعظم گڑھ کے ساتھ ان کی دلچسپی کا اندازہ ان کے درج ذیل شعر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے :

آشنا اِس کی چمک سے سارا عالم ہے نیاز
خاکِ اعظم گڑھ کا ہر ذرّہ سِتارہ خیز ہے

نیازجیراجپوری نے گوری،سانولی،چنچل، نٹ کھٹ لڑکیوںکے بارے میں بھی لکھنے سے گریز نہیں کیا ہے۔انھوںنے’لڑکیاں‘،’علی گڑھ کی لڑکیاں‘ اور ’یادیں‘ نظمیں لکھ کر لڑکیوں کی نازو ادا ،حُسن وفطرت،خوبصورتی وخوب سیرتی،ان کی شوخیوں اور شرمیلے پن کو بڑی خوبصورتی سے نظم کر دیا ہے۔ انھوںنے ’کچے مکان والے‘ اور’ چراغ‘جیسی نظموں میں غریبوں کے رہن سہن، کھان پان،ان کی مذہبی سوچ،سیدھی سادھی زندگی،لاچاری،مفلسی،بے کسی،پژمردگی،درد بھری زندگی کا پورا خاکہ کھینچا ہے۔نیاز کی شاعری میںعشقیہ پن بھی جابجا نظر آتاہے ۔جس میں محبت و حرمت،جدائی و غم، درد و کسک،ہجر و وصال،بے بسی و تنہائی،رنج و غم،بے چینی و بے قراری وغیرہ داستانِ زیست رقم کی ہے۔’روشن اندھیرے‘،’غم کی شبنم‘،’آخری خط‘اور’مجھے خط لکھنا‘ وغیرہ میں عشقیہ پن کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔انھوں نے چھوٹی بڑی سب قسم کی نظمیں لکھی ہیں۔جن میں آزاد نظموں کے ساتھ ساتھ طویل نظمیں بھی ہیں اور مختصر نظمیں بھی۔انھوں نے حمد اور نعت بھی لکھے۔چھوٹی اور بڑی دونوں بحروں میں خامہ فرسائی کی۔ان کی دیگر نظموں میں’ناچ اے تنہائی ناچ‘،’مجبوری‘،’ان دنوں‘،’آس‘’حقیقت‘،’تضاد‘،’ناراضگی‘،’کیا کیا میرا دل مانگے‘،’ماں‘وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔حمد میں’اے رب العالمین‘،’اللہ‘،’دعا‘وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ نعت میں’لولاک‘قابلِ ذکر ہیں۔

نیاز جیراجپوری کوغزل گوئی میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ان کی غزلیہ شاعری کسی اعلیٰ پایہ شاعر سے کم نہیں۔ان کا اسلوب رنگِ تغزل دیگر شعراءکرام سے بالکل منفرد ہے۔انھوں نے غزل کو اپنے رنگ میں رنگا۔اس کو اپنی زندگی کے تجربات سے مزین کیا۔ انہیں زندگی میں مشاہدہ اور مطالعہ کا گہرا ادراک حاصل ہے اور پھر اس تجربے کو سپردِ قلم کرنے میں بخیلی نہیں کرتے بلکہ اس کے متعلق فوراً اپنا تاثر پیش کرتے ہیں۔جیسا کہ مذکور ہوا ہے کہ انھوں نے کسی مکتبہ فکر کے دائرے میں رہ شاعری کو ترجیح نہیں دی۔ لیکن ان کی شاعری اردو کے ہر مکتبہ فکر کو اثر انداز کرتی ہے۔ان کی شاعری انسانی رشتوں کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ انھوں نے وقت کے بدلتے حالات و نظریات کو سمجھا اور اس کو اپنی شاعری میں پرویا۔موصوف سیاسی،سماجی،معاشرتی،اخلاقی اور مذہبی سطح پرہو رہے استحصال اور قدروں کی پامالی کو ایک حساس فنکار کی حیثیت سے زبان و بیان عطا کر کے اپنی تمام تر خوبیو ں کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں:

خیر ہو یارب! لگتا ہے پھر ہوا بدلنے والی ہے
کئی دنوں سے شہر میں اپنے ایک عجب سناٹا ہے
ہیں جن آبادیوں کے بیچ ویرانے بھی جنگل بھی
وہاں انسان کیسے اور کیوں رہتا ہے سوچو تو
کوئی صورت کوئی تدبیر نہ نکالی نہ گئی
ہم سے دستار بزرگوں کی سنبھالی نہ گئی

ٓ نیاز جیراجپوری نے اخلاقی پستی، ظلم و ستم،تعصب پرستی،معاشرتی برائیوں اور کینہ پروری سے جھوجھتے سماج کے حوالے سے دردناک شاعری کی ہے۔ نظموں کی طرح ان کی غزلوں میں سیاست کی نفرتوں کا غلبہ صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔سیاست اور سیاسی لوگوں نے اپنے بُرے افعال سے ان کے دل پر گہری چوٹ کی ہے۔ان کی غزلوں میں سیاست کا گھنوناروپ نمایاں ہے۔ انھوں نے سیاست چلانے والوں کو کیڑے مکوڑے اور بھڑئیے سے تعبیر کیا ہے:

ہونے لگی ہے دُشواری پڑھنے میں اس کو روانی سے
ایکتا کا شہکار سیاسی کیڑوں نے یوں چاٹا ہے
جہاں یہ رینگ جاتے ہیں وہاں ہو جاتے پھوڑے ہیں
سیاست میں نیاز ایسے بھی کچھ کیڑے مکوڑے ہیں
تمہارا دل اگر ہے صاف ستھرا
نظر مجھ سے ملاتے کیوں نہیں ہو
سکھ شانتی تھی شہر میں امن و امان تھا
لیکن ہوا میں تیر کوئی چھوڑتا رہا

نیاز سکھ شانتی اور امن و مان کے پروردہ ہیں اور اس میں رخنہ ڈالنے والوں سے انہیں سخت نفرت ہے۔ ان کو کسی سے بیر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اپنے دشمن کے لئے بھی عمردرازی کی دعا مانگتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ گلدستہ پیش کرنے کے خواہاں ہے۔ان کی شاعری انسانی حوصلوں میں عزم و ولولہ پیدا کرتی ہے،عزائم کی ڈھارس باندھتی ہے۔ ان کا دل موجودہ شاعروں کی شاعری سے اچٹ گیا ہے۔جو غالب کے خانوادے سے اپنے آپ کو منسوب کر کے اپنی شاعرانہ پہچان بنوانے میں لگے ہیں۔رشتوں میں دراریں،الجھنیں اوربچھڑنے کے غم کا انہیں شدید کرب ہے اور دوبارہ ملنے کے آس میں رستے پر اپنی نظریں بچھائے ہوئے ہیں۔نیاز کی شاعری عشق سے سرشار اور پُر ہے۔ان کے دل میں عشق کے شعلے اور وسوے پھوٹتے ہیں۔انہیں اس میں بھی کوئی خطر محسوس نہیں ہوتا کہ لوگوں کے کانوں تک یہ خبر پہنچے۔ان کے ذہن و دل میںپیار و محبت رچا بسا ہے۔ جس کے لئے انتظار اور جدائی کے موسم بھی جھیلے ہیں،لیکن پھر بھی انہیں یہ موسم پیارا ہے۔شاعر پہلے عشق کی افواہ اُڑاتے ہیں،پھر محبت ہوتی ہے، بعد میں جدائی کا غم اُٹھانا پڑتا ہے ۔آخر میں عشق کی یہ جدائی جس کا درد دل میں تھا ،آنکھوں میں آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔آخر پر اس عشق میں تیز طراری اور شوخی نظر آتی ہے۔نیاز کی شاعری سے چند اشعار ملاحطہ فرمائیے۔جن سے مذکورہ بالا کے تاثرات کی نشاندہی کی جا تی ہے:

حوصلہ جینے کا مجھ کو دینے والا ہے یہی
اے خدا دشمن کو میرے موت نہ آئے کبھی
ہے یقیں ہم کو سراہا جائے گا یہ تجربہ
پیش اپنے دُشمنوں کو ہم کیا کرتے ہیں گل
اُجالے اوروں سے مانگو کے کب تک
چراغ از خود جلاتے کیوں نہیں ہو
گھٹن سی ہوتی ہے شعر و سخن کی محفل میں
ہر ایرا غیرا ہی غالب کا خانوادہ ہے
وہ بھی شاید گزرے گا اس رستے سے
بیٹھے ہیں آنکھوں کو بچھائے سب کے سب
درو دیوار کے بھی کان یہاں بجتے ہیں
دیارِ عشق سے تُو بھی گزر سلیقے سے
شدتِ احساسِ تنہائی نے نیندوں کے عوض
میری آنکھوں میں کسی سائے کا پیکر رکھ دیا

متذکرہ بالا اشعار کے علاوہ کئی غزلوں میں مذکورہ عنوانات پر تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔نیاز جیراجپوی جدید دور کی ٹکنالوجی سے بھی آگاہی رکھتے ہیں،یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مکمل طور پربہرہ ور ہے۔ موصوف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بُک کا استعمال بھی کرتے ہیں،جس پر ان کے چاہنے والے قارئینِ اردو کی اچھی خاصی تعداد ہے۔فیس بُک پر موصوف کی حالاتِ حاضرہ اورکئی اہم دیگر واقعات پر ان کی تخلیقات نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔اس مضمون میں کچھ اشعار ان کی فیس بُک سائٹ سے بھی لئے گئے۔جن کا اندراج ان کی بیاض میں نہیں ہوگا۔جدید ٹکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ، اور وقت کے ساتھ اپنے آپ ڈھالنے میں ہی ایک انسان کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔جبکہ نیاز اس بات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔اردو ادیبوں،شاعروں، تنقید نگاروں،عالموں ،فاضلوں، دانشوروں،سوانح نگاروں، سفرنامہ نگاروں، محققوں وغیرہ پرمبنی سائٹBio-Bibliography پر نیاز جیراجپوری کا مختصر تعارف پیش کیاگیا ہے۔اس سائٹ پر اُردو کے مختلف شعبہ ہائے جات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کی سوانح اوران کی مجموعی ادبی خدمات کا مختصر سا تعارف شامل ہے۔بیو۔ببلیوگرافی سائٹ کے ایڈمن میاں محمد سعید صاحب نے نیاز جیراجپوری کابحیثیتِ شاعر تعاف درج ذیل شعر کے ساتھ پیش کیا ہے:

میرے مولیٰ مجھ کو یہ وردان کیسا دے دیا
جیب چھوٹی دی مجھے اور ہاتھ لمبا دے دیا

نیاز نے نہایت ہی سادہ ، شستہ اور برجستہ زبان میں شاعری کی ہے، سادگی، شگفتگی،صفائی اور فصاحت کا رنگِ سخن ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔ انھوں نے گیت نما غزلیں بھی رقم کی ہیں۔موصوف نے گیت بھی لکھے ہیں، جو کہ ان کی تخلیقی فنکاری کا عمدہ نمونہ پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے قطعات بھی ان کی شعری پہچان کی بہترین مثال ہے۔نیاز جیراجپوری نرم و نازک طبیعت کے پارسائی ہے، سچائی اور حقیقت شناسی ان کی شخصیت کا ایک خاص پہلو ہے اوراس طرح یہ وصف ان کی شاعری میں بھی در آیا ہے۔کہیں کہیں ہندی اور اردو لفظوں کے میل نے ان کی شاعری میں حلاوت ،گھلاوٹ اور چاشنی بھر دی ہے۔لفظوں کی ان کے پاس کمی نہیں ہے اور ان کے شعری موضوعات قارئین کے دلوں کی بہت حد تک پیاس بجھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔موصوف کا ذہن اختراعی ہے اس لئے تراکیب،تشبیہات اوراستعارات کا ان کی شاعری میں برملا اظہار ہوا ہے۔جو شعر کے قالب میں ڈھل کر اپنی جگہ خود متعین کرتے ہیں۔اپنے مترنم شعری لہجے اور آہنگ کی بنیاد پران کا درجہ عہد حاضر کے شعراءمیں بالکل منفرد اور قابلِ قدر ہے۔

kumarnabi.gnk@gmail.com

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Niaz jairajpuri a great scholar poetry in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News
What do you think? Write Your Comment