مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کا ایک یادگار سفر

سہیل انجم

گزشتہ دنوں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ سفر صحافی اور شاعر پنڈت ہری چند اختر پر منعقد ہونے والے ایک دو روزہ قومی سمینار کی مناسبت سے تھا۔ سمینار کا انعقاد مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، آئیڈیا کمونی کیشن اور مجلس فخر بحرین کے اشتراک سے ہوا۔ ایک طرح سے سمینار کے روح رواں تین شخصیات رہیں۔ یعنی آئیڈیا کموینی کیشن کے سربراہ جناب آصف اعظمی، مولانا آزاد یونیورسٹی کے مشیر اعلیٰ جناب انیس اعظمی اور مجلس فخر بحرین کے صدر جناب شکیل صبرحدی۔ 30-31 اکتوبر کو ہونے والے اس سمینار میں شرکت کے لیے راقم الحروف 29 کی شب میں MANUU پہنچ گیا۔ اگلے روز یعنی 30 کی صبح کو ہم نے یونیورسٹی کیمپس دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ انیس اعظمی نے ایک نوجوان اسکالر اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں استاد جرار احمد کو ہماری خدمت میں بھیج دیا۔ وہ بڑی محبت سے پیش آئے اور اپنی موٹر بائیک پر پورے کیمپس میں گھمایا۔ نہ صرف یہ کہ ایک ایک شعبے کو دکھایا اور اس کے بارے میں بتایا بلکہ کیمپس کے اہم اور خوبصورت مقامات پر ہماری تصاویر بھی اتاریں۔ کیمپس کو دیکھ کر طبیعت خوش ہوئی۔ کافی بڑے علاقے میں یونیورسٹی قائم کی گئی ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ یہ شور و ہنگامے سے دور انتہائی پرفضا مقام ہے اور اس کو دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ یہاں مستقل سکونت اختیار کی جائے۔

ان کے ساتھ ہم جا رہے تھے کہ ہمیں مرکز ذرائع ابلاغ برائے درس و تدریس کی خوبصورت عمارت نظر آئی۔ ہم نے اپنے نوجوان میزبان سے کہا کہ ارے یہ تو ہمارا شعبہ ہے اس کو ہم نہ صرف یہ کہ اندر سے دیکھیں گے بلکہ تصویر بھی کھنچوائیں گے۔ ہم جیسے ہی اس کے صدر دروازے پر پہنچے کہ ایک استاد باہر آتے ہوئے نظر آگئے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ پروفیسر محمد فریاد ہیں اور اسی شعبے میں استاد ہیں۔ ان کے ساتھ تصاویر لی گئیں۔ انھوں نے جاتے وقت مشورہ دیا کہ شعبے کے ڈین جناب پروفیسر احتشام احمد خاں سے ضرور ملیے۔ بہت اچھے آدمی اور بہت اچھے استاد ہیں۔ ہم ان کے کمرے میں پہنچے۔ علیک سلیک کے بعد انھوں نے بتایا کہ انھوں نے مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں شعبہ ماس میڈیا کے صدر پروفیسر شافع قدوائی کو مدعو کیا ہے کہ وہ آئیں اور طلبا سے خطاب کریں۔ آپ بھی رک جائیں، آپ بھی طلبا کو مفید مشوروں سے نوازیں۔ پروفیسر شافع قدوائی اور مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے ایک استاد ڈاکٹر پنکج پراشر بھی سمینار میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں اور ہم لوگوں نے ساتھ ہی ناشتہ کیا ہے۔

بہر حال تھوڑی دیر کے بعد پروفیسر احتشام احمد خاں ہم لوگوں کو لے کر کانفرنس روم میں گئے جو کہ طلبا اور اساتذہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے انھوں نے ہم تینوں مہمانوں کا طلبا سے تعارف کرایا اور یہ بھی بتایا کہ پروفیسر شافع قدوائی ان کے استاد رہے ہیں۔ پروفیسر شافع قدوائی نے میڈیا اور اردو صحافت کے موضوع پر بہت عمدہ لیکچر دیا۔ اس کے بعد خاکسار کو بولنے کا موقع ملا۔ ہم نے طلبا کو اردو صحافت میں زبان و بیان کی درستگی پر کچھ مشورے دیے۔ ڈاکٹر پنکج پراشر نے روزنامہ اخبارات میں ڈیڈ لائن کے دباؤ پر بات کی۔ اس طرح ایک خوبصورت پروگرام کا اختتام ہوا۔ اس کے بعد پروفیسر احتشام نے شعبے کی دیگر سرگرمیوں سے ہم لوگوں کو باخبر کیا اور مختلف شعبے دکھائے جن میں اسٹوڈیو کے علاوہ فوٹوگرافی، ایڈیٹنگ اور دیگر متعلقات شامل تھے۔ انھوں نے طلبا کے ذریعے شائع کیے جانے والا ایک سالانہ اخبار ”اظہار“ بھی پیش کیا جو اردو، انگریزی اور ہندی میں نکلتا ہے۔ اس میں بہت اچھے مضامین پڑھنے کو ملے اور طلبا کی استعداد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ یوں تو ہم لوگوں نے اس کے بعد سمینار میں شرکت کی لیکن یہ پروگرام حاصل سفر رہا۔

دوپہر بعد سمینار کا افتتاح ہوا جس میں پنڈر ہری چند اختر کی شاعری، صحافت اور ان کی بذلہ سنجی و لطیفہ گوئی پر کھل کر اظہار خیال کیا گیا۔ ساڑھے چار بجے حیدرآباد کی شناخت چار مینار اور اس سے متصل مکہ مسجد دیکھنے کا پلان بنا۔ بذریعہ کار ایک ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم لوگ نماز مغرب کے وقت وہاں پہنچے۔ لیکن چار مینار کے بارے میں جو تصور ذہن میں تھا وہ اسے دیکھنے کے بعد مٹ گیا۔ ہم نے سوچا تھا کہ جس طرح ممبئی کا گیٹ وے آف انڈیا ہے یعنی وہاں صفائی ستھرائی تو ہے ہی، اس کے آس پاس کا علاقہ خالی ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو خوب لطف آتا ہے۔ لیکن چار مینار تک پہنچنے کے لیے جس زبردست ٹریفک، بازاروں اور لوگوں کی بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا اس کا تصور تک ہمیں نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم پرانی دہلی کی کسی گنجان آبادی اور بازار سے گزر رہے ہیں۔ بلکہ ایک صاحب نے لقمہ دیا کہ ہم چاوڑی بازار میں آگئے ہیں۔ کئی فرلانگ قبل سے ہی دکانوں کا ایسا سلسلہ تھا کہ ٹریفک بند تھا۔ کاروں کو کہیں اور پارک کروایا گیا۔

چار مینار کے آس پاس نہ تو چلنے کی جگہ تھی اور نہ ہی صفائی ستھرائی تھی۔ عارضی دکانوں کا جم گھٹا تھا جہاں بیشتر خواتین اور بچیوں کی دلچسپی کی اشیا فروخت ہو رہی تھیں جن میں موتیوں کی مالا کی بھر مار تھی۔ جس کو دیکھو وہی موتیوں کی مالا لیے ہم لوگوں کے پاس آرہا ہے اور خریدنے کی پیشکش کر رہا ہے۔ چار مینار کی ایک جانب طبیہ کالج ہے۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ دیکھیے چار مینار کی ایک جانب بالکل اسی سے سٹا ہوا یعنی اس کی دیوار سے لگا ہوا ایک مندر تعمیر کر دیا گیا ہے جہاں شردھالووں کی بھیڑ ہے۔ بعد میں ایک مقامی شخص اور ہمارے دوست اور معروف شاعر و ادیب رؤف خیر نے بتایا کہ چار مینار کی عمارت کو ٹھوکروں سے بچانے کے لیے کونے پر ایک پتھر نصب کر کر دیا گیا تھا۔ جب طبیہ کالج سے زچگی کراکے ہندو خواتین نکلتی تھیں تو وہ اس پتھر پر سیندور وغیرہ لگا کر پوجا جیسا عمل کرنے لگیں۔ کچھ دنوں کے بعد وہ پتھر کسی ٹھوکر سے ٹوٹ گیا تو اس کی جگہ پر ہندووں نے ایک بڑا پتھر لگا دیا اور پھر اس کی پوجا ہونے لگی۔ اور اب باضابطہ طور پر ایک مندر تعمیر کر دیا گیا ہے۔ چار مینار کے پاس مکہ مسجد ہے جہاں کئی سال قبل بم دھماکہ ہوا تھا اور اس میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقامی مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو بعد میں رہا ہوئے۔ وہاں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ مکہ مسجد کے صحن میں بیٹھنے کے لیے ایک پتھر بینچ کی مانند نصب ہے جس پر بیٹھنے والا شخص بار بار حیدرآباد آتا ہے۔ جب ہم لوگوں کو معلوم ہوا تو ہم نے کہا کہ ہم ضرور اس پر بیٹھیں گے۔ جب وہاں پہنچے تو سیاہ پتھر کا بینچ بالکل صاف شفاف نظر آیا۔ کسی نے بتایا کہ بم دھماکے میں یہاں نصب پتھر ٹوٹ گیا تھا اور اب ایک نیا پتھر لگا دیا گیا ہے۔ اس میں وہ تاثیر نہیں ہے جو سابقہ پتھر میں تھی۔ بہر حال ہم لوگوں نے مکہ مسجد کا دیدار کیا اور ایک بار پھر اظہار افسوس کرنا پڑا۔ وہاں کافی بھیڑ تھی۔ مردوخواتین بڑی تعداد میں ادھر ادھر بیٹھے ہوئے یا چلتے پھرتے نظر آئے۔ افسوس اس لیے ہوا کہ وہاں بھی کوئی صفائی ستھرائی نہیں ہے۔ بہت گندگی سی نظر آئی۔ اللہ کے گھر کو تو کم از کم صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔ اس کے صدر دروازے کی مرمت ہو رہی ہے۔ بغل سے وہاں فی الحال آمد و رفت جاری ہے۔ ممکن ہے کہ صدر دروازے کی مرمت کے بعد وہاں صفائی وغیرہ کا بھی انتظام کیا جائے۔

معروف اردو روزنامہ سیاست کے مالک و مدیر جناب زاہد علی خاں نے مہمانوں کو عشائیے پر مدعو کیا تھا۔ لہٰذا چار مینار کے بعد ہم لوگ سیاست کے دفتر پہنچے۔ اسے دیکھ کر جی خوش ہو گیا۔ وہاں جس طرح سماجی خدمات انجام دی جا رہی ہیں وہ قابل قدر ہے۔ اس ادارے سے صرف اخبار ہی نہیں نکالا جا رہا ہے بلکہ فلاحی کام بھی کیے جا رہے ہیں۔ جیسے کہ غریب لڑکیوں کی شادی کا ایک شعبہ ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیمی استعداد کی مناسبت سے فائلیں بنائیں گئی ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ یومیہ سیکڑوں افراد رشتوں کی تلاش کے لیے آتے ہیں اور اپنی پسند کے رشتے پاکر خوش ہوتے ہیں۔ ذمہ داروں نے بتایا کہ اب تک یہاں سے کئی ہزار شادیاں ہو چکی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو غریب ہیں اور جو جہیز نہیں دے سکتے۔ اردو عربی خطاطی اور پینٹنگ کا بھی شعبہ ہے اور دیگر کئی شعبے ہیں جہاں خدمت خلق کا کام کیا جا رہا ہے۔ عشائیہ کے بعد ہم لوگ یونیورسٹی لوٹ آئے۔

اب چند باتیں سمینار کے تعلق سے۔ پنڈت ہری چند اختر بنیادی طور پر ایک صحافی تھے۔ وہ شاعر بھی تھے اور ان کا ایک پتلا سا شعری مجموعہ ”کفر وایماں“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ وہ 1901 میں پنجاب میں ہوشیار پور ضلع میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے کم عمر پائی۔ 1958 میں دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ انھوں نے لاہور کے ہفت روزہ پارس اور پرتاپ میں اور بعض دوسرے اخبارات و رسائل میں بھی کام کیا تھا۔ تقسیم ملک کے بعد دہلی آگئے تھے اور یہیں آخری سانس لی۔ ان کے بارے میں لوگوں کو زیادہ نہیں معلوم۔ آصف اعظمی نے ان پر سمینار کا انعقاد کرکے ایک بڑا کام کیا ہے۔ امید ہے کہ جو مقالے پیش کیے گئے تھے وہ کتابی صورت میں شائع ہوں گے تو لوگوں کو پنڈت ہری چند اختر کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی۔ آئڈیا کمیونی کیشن کی جانب سے جو بھی سمینار ہوتے ہیں، بعد میں پانچ چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب بھی شائع کی جاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب بھی شائع ہوگی جو اردو ادب و صحافت میں گراں قدر اضافہ ہوگا۔ آخر میں ہری چند اختر کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں جو سمینار میں بار بار پڑھا گیا:
ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہوگا
بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا۔

sanjumdelhi@gmail.com-9818195929

Read all Latest literature news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from literature and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A trip to maulana azad national urdu university hyderabad telangana in Urdu | In Category: ادبیات Literature Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.