ایسے فیاض تھے حضرت عثمانؓ

محمد عثمان حنفی

”بھائی مجھے تھوڑا سا شہد دے دیں…….. مجھے شدید ضرورت ہے، مجھے ایک مرض لاحق ہے…….. اس کاعلاج شہد سے ممکن ہے۔“
”افسوس! میرے پاس اس وقت شہد نہیں ہے…….. ویسے شہد آپ کو مل سکتا ہے…….. لیکن آپ کو کچھ دور جانا پڑے گا، ملک شام سے اےک بڑے تاجر کا تجارتی قافلہ آرہا ہے…….. تاجر بہت اچھے انسان ہے…. مجھے امید ہے ، وہ آپ کی ضرورت کے لیے شہد ضرور دے دےںگے۔“
ضرورت مند نے ان کا شکریہ ادا کیا اور شہر سے باہر نکل آیا تاکہ قافلہ وہاں پہنچے تو تاجر سے شہد کے لیے درخواست کرسکے۔
آخر قافلہ آتا نظر آیا۔ وہ فوراً اٹھا اور اس کے نزدیک پہنچ گیا۔ اس قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک خوب صورت اور بارونق چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کردیا۔ اب وہ وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا:
”حضرت! میں ایک مرض میں مبتلاہوں ۔ اس کے علاج کے لیے مجھے تھوڑے سے شہد کی ضرورت ہے۔“
انہوں نے فوراً اپنے غلام سے فرمایا:
”جس اونٹ پر شہد کے دو مٹکے لدے ہیں، ان میں ایک مٹکا اس بھائی کو دے دیں۔“
غلام نے یہ سن کر کہا:
”آقا! اگر ایک مٹکا اسے دے دیا تو اونٹ پر وزن برابر نہیں رہ جائے گا۔“
یہ سن کر انہوں نے فرمایا:
”تب پھر دونوں مٹکے انہیں دے دیں۔“
یہ سن کر غلام گھبرا گیا اور بولا:
”آقا! یہ اتنا وزن کیسے اٹھائے گا۔“
اس پر آقا نے کہا :
”تو پھر اونٹ بھی اسے دے دو۔“
غلام فوراً دوڑا اور وہ اونٹ مٹکوں سمیت اس کے حوالے کیے۔ وہ ضرورت مند ان کا شکریہ ادا کرکے اونٹ کے رسی تھام کر چلا گیا۔
وہ حیران بھی تھا اور دل سے بے تحاشہ دعائیں بھی دے رہا تھا۔ یہ شخص کس قدر سخی ہے، میں نے اس سے تھوڑا سا شہد مانگا۔ اس نے مجھے دو مٹکے دے دیئے۔ مٹکے ہی نہیں ،و ہ اونٹ بھی دے دیا جس پر مٹکے لدے ہوئے تھے۔
ادھر غلام اپنے آقا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آقا نے غلام سے کہا ” جب میں نے تم سے کہا اسے ایک مٹکا دے دو تو تم نہیں گئے۔ دوسرا مٹکا دینے کے لیے تو بھی تم نہیں گئے، پھر جب میں نے یہ کہا اونٹ بھی اےس دے دو تو دوڑتے ہوئے چلے گئے ۔ اس کی کیا وجہ تھی۔“
غلام نے جواب دیا:
”آقا! جب میں نے یہ کہا کہ ایک پورا مٹکا دینے سے اونٹ پر وزن برابر نہیں رہ جائے گا۔ آپ نے دوسرا مٹکا بھی دینے کا حکم فرمایا، جب میں نے کہا کہ وہ دونوں مٹکے کیسے اٹھائے گا تو آپ نے فرمایا، اونٹ بھی اسے دے دو۔ اب میں ڈرا کہ اگر اب میں نے اعتراض کیا تو آپ مجھے بھی اس کے ساتھ جانے کا حکم فرمادیں گے۔ اس لیے میں نے دوڑ لگادی۔“
اس پر آقا نے کہا:
”اگر تم اس کے ساتھ چلے جاتے تو اس غلامی سے آزاد ہوجاتے۔ یہ تو اور اچھا ہوتا۔“
جواب میں غلام نے کہا:
”آقا! میں آزادی نہیں چاہتا، اس لیے کہ آپ کو تو مجھ جیسے سیکڑوں غلام مل جائیںگے، لیکن مجھے آپ جیسا آقا نہیں ملے گا۔ میں آپ کی غلامی کو آزادی سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔“
آپ کو معلوم ہے۔یہ آقا کون تھے۔یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Uthman the third khalifa of the muslims in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News

Leave a Reply