محمدﷺکی ازدواجی زندگی

ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا ، مغربی بنگال

ارشاد باری تعالیٰ ہے ”: اللہ تعالیٰ نے تمہارے جنس سے بیویاں پیدا کردیں تاکہ تمہیں ان سے تسکین حاصل ہو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و شفقت پیدا کردی“۔ ایک دوسری جگہ فرمایا ہے ۔عورتوں کے مردوں پر ایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر اچھے سلوک کے ساتھ۔ (سورہ بقرہ، رکوع 28)
ان آیات کی روشنی میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں اور عورتوں کو نہ صرف یہ کہ تسکین حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا بلکہ ان سے اچھا سلوک کرنے اور ان سے محبت و شفقت سے پیش آنے کی تلقین بھی کی اور مردوں عورتوں دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق بھی واضح کردیئے۔

اللہ کے اس واضح فرمان کے بعد جب ہم نبی کریم ا کی حیاتِ طیبہ میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی عملی تعبیر ہمیں وہاں نظر آتی ہے۔ نبی کریم ا فرماتے ہیں۔ ”تم میں اچھے لوگ وہ ہیں جو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں“ (مشکوٰة شریف، جلد 2، صفحہ:28)۔ ایک دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں۔”جس شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور اُس نے اُن کے درمیان عدل اور برابری کا برتاﺅ نہیں کیا تو قیامت کے دن میدانِ حشر میں اس حالت میں اٹھایا جائے گاکہ اس کا آدھا بدن مفلوج ہوگا۔“ (جامع ترمذی، جلد1، صفحہ: 136)۔ عدل، انصاف، انسانیت، حسنِ سلوک کا حکم صرف مردوں کو ہی نہیں دیا گیا بلکہ عورتوں کے بارے میں بھی فرماتے ہیں ”جس عورت کی موت ایسی حالت میں آئے کہ مرتے وقت اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ عورت جنت میں جائے گی۔“ گویا کہیں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ سبحان اللہ! قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ اور اس طرح کی نہ صرف سیکڑوں حدیثیں ملتی ہیں بلکہ اُن کا عملی نمونہ بھی رسولِ پاک کی زندگی میں صد فیصد ملتا ہے۔ کسی کی بھی ازدواجی زندگی کی شروعات نکاح سے ہوتی ہے ۔

پیارے نبی ا کی ازدواجی زندگی کی شروعات اس وقت ہوئی جب آپ کی عمر مبارک صرف 25 سال تھی اور آپ ﷺ کے پاس خاندان قریش کی ایک معزز بیوہ خاتون حضرت خدیجہؓ کا پیغام نکاح آیا اور اُن کی شرافت، نیک نفسی اور پاک دامنی کی بنا پر رسولِ پاک ﷺ نے یہ رشتہ قبول کرلیا جبکہ وہ آپ سے عمر میں 15 سال بڑی تھیں۔ آپ ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ کی تمام اولادیں سوائے حضرت ابراہیمؓ کے اُن ہی کے بطن سے تھیں۔ حضرت خدیجة الکبریٰؓ کے ساتھ نبی کریم ا کی ازدواجی زندگی 25 برسوں پر محیط تھی۔ ان برسوں کا تجزیہ کرنے سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عرصہ نبی پاک کے لئے سب سے زیادہ آزمائش کا تھا۔ 40 سال کی عمر میں آپ ا کو نبوت ملی اور اس کے ساتھ ہی قریش اور اہلِ مکہ آپ کے خونخوار دشمن بن گئے۔ حالانکہ آپ کفارِ مکہ کی نگاہ میں حلیم، صادق، امین، حکیم، بامروت، خوش اخلاق، صالح، عادل سب کچھ تھے لیکن اللہ کی وحدانیت اور آپ کی نبوت پر ایمان لانا انہیں منظور نہیں تھا۔

نبوت کے اعلان کے ساتھ ہی آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔ ایسے مشکل اور صبر آزما وقت میں حضرت خدیجہؓ آپ کی ہمت اور طاقت بنی رہیں۔ سب سے پہلے آپ کی نبوت پر ایمان لائیں اور مسلسل آپ کی تسلی و دلجوئی میں لگی رہیں۔ ایک اچھی بیوہ کی طرح آپ کی خدمت گزاری اور بچوں کی پرورش میں کوئی کمی نہ ہونے دی۔ آپ بھی اپنی تمام کیفیات اُن سے بیان فرماتے، اُن سے مشورہ مانگتے، اُن کے مشوروں پر عمل کرتے، گھر کے کاموں میں اُن کا ہاتھ بٹاتے، اُن کا خیال رکھتے، غرض ایک اچھے شوہر کی تمام خوبیوں سے مزین آپ کی ذات بابرکات تھی۔ انہیں بیوی بھی ایسی ملی تھیں جن کا لقب ہی ’طاہرہ‘ تھا، جنہیں خود ربِ کریم نے سلام کہلوایا تھا، خود جبرئیل امینؑ نے اُن کے لئے اپنا اور اپنے رب کے سلام کا پیغام بارگاہِ نبوت میں دیا تھا، جنہیں خود دربارِ نبوت سے دنیا کی چار باکمال اور نیک بیویوں (حضرت مریمؓ، حضرت آسیہؓ [فرعون کی بیوی]، حضرت خدیجہؓ اور حضرت فاطمہؓ) میں سے ایک ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ نے اُنؓ کی حیات میں کوئی دوسرا نکاح نہ کیا۔آپ کی گیارہ ازواج مطہرات میں آپ کی سب سے طویل رفاقت حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ہی رہی۔ ہجرت سے تین سال قبل ماہِ رمضان میں 65 سال کی عمر میں حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا۔ اسی سال چند روز قبل آپ کے چچا حضرت ابوطالب کا بھی انتقال ہوا تھا۔ ان غموں نے آپ کو نڈھال کردیا تھا اور آپ نے اس سال کو غم کا سال یا ”عام الحزن“ قرار دیا۔ آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنے ہاتھوں سے آپؓ کو قبر انور میں اتارا۔ (اس وقت تک جنازہ کا حکم نہیں ہوا تھا) اور اُن کی محبت اس طرح سے پیارے نبی کے دل میں بسی رہی کہ وہ ساری عمر انہیںیاد کرتے رہے اور اُن کے انتقال کے بعد بھی اگر بکری ذبح کرتے تو اُن کی سہیلیوں کے گھر گوشت بھجوا دیا کرتے۔

حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی زندگی میں ہی اُن کی درخواست پر آپ نے اپنا گھر چھوڑ کر اُن کے گھر میں سکونت اختیار کرلی تھی لیکن اب اُن کا وہی گھر خالی ہوچکا تھا۔ وہ کافی اداس اور ملول رہنے لگے تھے۔ ایسے میں حضرت خولہ بنت حکیمؓ کے مخلصانہ مشورے پرایک بیوہ خاتون حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے آپ کا نکاح ہوا۔ اس وقت آپ دونوں کی عمریں ایک جیسی یعنی پچاس پچاس سال تھیں۔ یہ ایسی مومنہ تھیں جو ابتدائے نبوت میں ہی اسلام قبول کرچکی تھیں اور کفارِ مکہ کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کو اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کرگئی تھیں۔ بعد ازاں وہاں سے واپسی کے بعد اُن کے شوہر سکران بن عمرو کے انتقال کے بعد آپ پیارے نبی کی زوجیت میں آئیں اور اپنی حد درجہ دیانت داری، وفاشعاری اور خدمت گزاری سے آپ کا دل جیت لیا۔ آپؓ نہ صرف یہ کہ تمام امہات المومنین میں سب سے بلند قامت تھیں بلکہ بڑے دل والی بھی تھیں۔ پیارے نبی کی حضرت عائشہ صدیقہؓ کے تئیں محبت کو دیکھتے ہوئے اپنی باری کا دن حضرت عائشہؓ کو دے دیا تھا، جن کے بارے میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ”میںنے کسی عورت کو جذبہ رقابت سے خالی نہ دیکھا سوائے اُن کے۔“ وہ مزید کہتی ہیں۔ ”سوائے اُن کے کسی عورت کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خواہش پیدا نہ ہوئی کہ اُس کے جسم میں میری روح ہوتی۔“ ہجرت سے قبل اُن ہی حضرتِ عائشہؓ بنت ابوبکر صدیقؓ سے آپ کا نکاح ہوا، جن کی رخصتی شوال 2 ہجری میں مدینہ منورہ ہوئی۔ نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک 54 سال اور حضرتِ عائشہ صدیقہؓ کی عمر 9 سال یا ایک روایت کے مطابق 14 سال تھی۔ آپ ؓ فقہ کی ماہر، بہت بڑی عالمہ اور خطیبہ تھیں۔ آپؓ سے 2210 حدیثیں منقول ہیں۔ پیارے نبی ا کی ازواج میں صرف یہی سب سے کم عمر او رکنواری تھیں۔ پیارے نبی ان کے ساتھ وقت نکال کر مختلف کھیل بھی کھیلا کرتے تھے۔ ایک بار پیارے نبی کے کندھے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر مسجد نبوی میں حبشیوں کے کھیل سے لطف اندوز بھی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ رات کو سفر میں اِن ہی کے اونٹ پر سفر کرتے۔ ایک بار پیار ے نبی ا ام المومنین حضرت صفیہؓ سے ناراض ہوگئے تھے تو حضرت صفیہؓ نے اپنی باری کا دن حضرتِ عائشہؓ کو دے کر اُن سے اپنے لئے سفارش کروائی تھی کہ وہ حضور ا کو اُن سے راضی کردیں۔ آپؓ ہی کی گود میں سر رکھے آپ کا وصال ہوا اور گنبد خضریٰ بھی آپؓ ہی کے حجرہ مبارکہ پر بنا ہے لیکن اتنی چہیتی ہونے کے باوجود جب ایک بار حضرت عائشہؓ نے حضرت صفیہؓ کو کوتاہ قد کہا تھا تو آپ نے ناراض ہوکر فرمایا تھا کہ ”عائشہ تم نے ایسی بات کہہ دی ہے کہ اگر اسے سمندر میں چھوڑ دیا جائے تو اس کی کڑواہٹ بڑھ جائے۔ یہی نہیں حضرت صفیہؓ کو یہودیہ کہنے پر بھی آپ ا نے انہیں ٹوکتے ہوئے فرمایا تھا ”یہ نہ کہو، وہ مسلمان ہوگئی اور اس کا اسلام اچھا اور بہتر ہے۔

رقابت کا جذبہ فطری ہے لیکن اس جذبے کے تحت کسی کی تحقیر کرنا پیارے نبی ا کو گوارا نہ تھا۔ وہ اپنی تمام زوجات سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے لیکن عدل کے ساتھ۔ عدل کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹا۔ وہ شرعی حدود میں اُن کی دلداری بھی کرتے، اُن کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے، ہنسی مذاق کرتے۔ اُن کے مذاق اور شوق کا خیال رکھتے، انہیں اپنے رازوں کا امین بناتے، اُن کے رنج و راحت میں شریک ہوتے مگر اُن کی نادانیوںپر انہیں ٹوکا بھی کرتے۔ اُن سے ناراضگی کا اظہار بھی کرتے۔ پیارے نبی کی اس چہیتی بیوی حضرت عائشہ صدیقہؓ کا انتقال 17 رمضان 57 یا 58 ہجری کو مدینہ منورہ میں 63 سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہؓ نے آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپؓ جنة البقیع میں مدفون ہوئیں۔

حضرت حفصہؓ بنت حضرت عمرؓ کے پہلے شوہر جنگ احد میں زخمی ہوکر وفات پاگئے تو 3 ہجری میں اُن کا نکاح آپ سے ہوا۔ اُس وقت آپ کی عمر 55 سال اور حضرت حفصہؓ کی عمر 22 سال تھی۔ یہ بہت ہی بلند ہمت، سخی، حق گو، حاضر جواب اور بیحد عبادت گزار تھیں اور اکثر روزہ رہا کرتی تھیں۔ اُن کے لئے حضرت جبرئیل امین نے فرمایا تھا کہ ”وہ بہت عبادت کرنے والی ہیں، بہت روزہ رکھنے والی ہیں۔ (اے محمد ا) وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں۔“ سبحان اللہ! ایسی بشارت صرف نبی کی بیویوں کو ہی مل سکتی تھی۔ آپؓ کا انتقال 59 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ حاکم مدینہ ”مروان بن حکم“ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حضرت عائشہؓ کی طرح آپؓ بھی حافظہ تھیں اور اُن ہی کے پاس پہلی بار لکھی ہوئی صورت میں قرآن مجید کو رکھوایا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو وصیت کی تھی کہ اُن کی جائیداد کو صدقہ کرکے وقف کردیں۔

نبی کریم کی ازدواجی زندگی میں پانچویں نمبر پر حضرت زینب بنت خدیجہؓ آتی ہیں جو ”ام المساکین“ کہلاتی تھیں پھر ام المومنین بنیں۔اُن کا نکاح بھی آپ سے 3 ہجری میں ہوا۔ اُس وقت آپ کی عمر 55 سال اور حضرت زینبؓ کی عمر 30 سال تھی۔ یہ آپ سے نکاح سے قبل تین بار بیوہ ہوچکی تھیں۔ پیارے نبی سے اُن کی رفاقت صرف تین ماہ تک رہی۔ تین ہجری کے آخر یا ربیع الاول چار ہجری میں اُن کا انتقال ہوا۔ حضرت خدیجہؓ کی طرح اُن سے بھی کسی حدیث کی روایت نہیں ملتی۔ آپ اُن کی وفات تک اُن سے بیحد خوش رہے اور اُن کی وفات کا آپ ا کو بہت دکھ ہوا۔ تمام امہات المومنین میں سب سے کم عمری میں یعنی 30 سال کی عمر میں ہی اُن کی وفات ہوگئی۔ صرف اُن ہی کی نمازِ جنازہ خود رسولِ پاک ا نے پڑھائی تھی۔

رسولِ اکرم ا کی چھٹی زوجہ حضرتِ اُم سلمہ ہندؓ بنت ابی امیہ تھیں۔ اُن کا اصل نام ہندؓ بنت سہیل تھا۔ آپؓ کا نکاح شوال چار ہجری میں 26 سال کی عمر میں حضور ا کے ساتھ ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 56 سال تھی۔ انہوں نے تمام امہات المومنین میں سب سے طویل 84 سال کی عمر پائی۔ انہوں نے بھی اپنے شوہر کے ساتھ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ دوبارہ بڑی مشقتوں کے بعد تنہا اپنی بچی کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچیں جبکہ اُن کے شوہر حضرت ابو سلمہؓ پہلے ہی وہاں پہنچ گئے تھے۔ حضرت ابو سلمہؓ کے انتقال کے بعد آپؓ کے تمام بچوں کی کفالت کی ذمہ داری نبی کریم ا نے حضرت ام سلمہؓ سے نکاح کے ساتھ ہی اپنے ذمہ لے لی۔ آپؓ کی پوری زندگی مجاہدانہ و زاہدانہ اور صبر و استقامت سے بھرپور ہے۔ آپ فقہ و حدیث کی ماہر تھیں اور تقریباً 378 حدیثیں آپؓ سے منقول ہیں۔آپؓ کے پہلے شوہر حضرت ابو سلمہؓ کی نمازِ جنازہ آپ نے نو تکبیروں کے ساتھ پڑھائی تھی اور لوگوں کے سوال پر یہ کہا تھا کہ وہ ہزار تکبیروں کے مستحق تھے۔ آپ حضرتِ ام سلمہؓ سے بہت پیار کرتے تھے اور نمازِ عصر کے بعد اپنی ازواجِ مطہرات کے یہاں تشریف لاتے تو سب سے پہلے اُن ہی کے گھر میں قدم رنجہ فرماتے تھے۔ آپؓ نے پیارے نبی سے اپنے نکاح کے پہلے دن ہی اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کیا تھا۔ پیارے نبی نے نکاح کے بعد انہیں خرمے کی چھال سے بھرا ہوا ایک چرمی تکیہ، دو مشکیزے اور دو چکیاں عنایت کی تھیں اور حضرتِ عائشہؓ کے مطابق رسولِ پاک ا کی نگاہ میں اُن کے بعد حضرت زینبؓ بنت حجش اور حضرتِ ام سلمہؓ ہی عزیز تھیں۔ پیارے نبی ا نہ صرف اپنی بیویوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے بلکہ اُن کے مخلصانہ مشوروں کی قدر بھی کرتے اوراُن پر عمل بھی کرتے۔ صلح حدیبیہ لکھے جانے کے بعد جب آپ نے مومنین کو حلق کرانے (سر منڈوانے) اور قربانی کرنے کا حکم دیا اور وہ چونکہ ملول تھے، بے حس و حرکت بیٹھے رہے تو آپؓ کے مشورے پر ہی سب سے پہلے آپ نے خود حلق کرایا اور اُن کے بعد تمام مومنین جیسے چونک پڑے پھر سبھوں نے اُن کی پیروی کی۔

پیارے نبی صلعم کی چھ زوجات کے باوجود بیک وقت چار ازواج ہی آپ کے نکاح میں تھیں اور اِن ہی چاروں یعنی حضرتِ سودہؓ، حضرتِ عائشہؓ، حضرتِ حفصہؓ اور حضرتِ ام سلمہؓ نے جنگِ احزاب کے زمانہ میں پیارے نبی ا سے زیادہ خرچ مانگا تھا کیونکہ مالِ غنیمت زیادہ پانے کی وجہ سے عام مسلمان تو خوشحال ہوجاتے تھے لیکن امہات المومنین کو کچھ بھی حصہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی تنگ دستی دور نہ ہوتی تھی۔ اس مطالبہ سے پیارے نبی ا نے ناراض ہوکر اپنی تمام ازواج سے ایک مہینہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ اسی زمانے میں حضرت عائشہؓ اور حضرتِ حفصہؓ کو اپنے اپنے والد یعنی حضرتِ ابوبکرؓ اور حضرتِ عمرؓ سے ڈانٹ بھی پڑی تھی اور ناراضگی کا زمانہ گزار کر آپ نے چاروں ازواجِ مطہرہ سے جب یہ سوال کیا کہ تم اللہ اور اُس کے رسول ا کو چاہتی ہو یا دنیا کی زینت کو، تو انہوں نے کہا کہ ہم اللہ اور رسول ا کو چاہتے ہیں۔ یہی واقعہ ”تحنییر“ کہلاتا ہے اور نبی ا کی ناراضگی کا واقعہ ”ایلا“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سورہ احزاب کی آیت نمبر 29 کے نزول کے بعد ہی آپ نے اپنی ازواج سے یہ سوال کیا تھا کیونکہ اس میں امہات المومنین کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دنیا اور اُس کی زینت کے لئے علیحدگی کرلیں یا آپ کے ساتھ رہیں۔ اس آیت کے بعد آپ سب سے پہلے حضرتِ عائشہؓ کے حجرے میں تشریف لے گئے اور اپنی گفتگو کا آغاز ان ہی سے کیا۔سورہ احزاب میں ہی اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کے لئے خصوصی احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی سورہ میں امہات المومنین کے لئے معاشرتی قانون اور پردہ کے احکام بھی نازل ہوئے۔ اسی سورہ سے انہیں ’امہات المومنین‘ کا اعزاز بھی ملا اور پھر اسی سورہ کے ذریعہ آپ کے لئے پانچویں بیوی حلال کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چند مصلحتوں کی بنا پر کچھ مخصوص قسم کی خواتین سے نکاح کی بھی اجازت دے دی۔ اسی سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ: جب زید نے حجت پوری کردی اور طلاق دے دی اور عدت گزر گئی تو ہم نے (زینت کا) تمہارے ساتھ نکاح کردیا اور اس طرح گنتی کے اعتبار سے ساتویں مگر آپ کی پانچویں باحیات ازواج میں سے ایک حضرتِ زینبؓ بنت حجش تھیں جن کا نکاح خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے پڑھایا دیا تھا۔ حضرتِ زینبؓ بنت حجش آپ کی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں جن کا نکاح آپ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرتِ زیدؓ بن حارثہ کے ساتھ ہوا تھا۔ اُن سے نکاح کے بعد آپ ا پر منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے اورپانچویں بیوی سے نکاح پر اعتراضات ہوئے تھے جن کا جواب اللہ پاک نے سورہ احزاب میں ہی دے دیا تھا۔

آپ کو اپنی یہ زوجہ بہت عزیز تھیں۔ اُن کے نکاح کی خوش خبری جس لونڈی نے حضرتِ زینبؓ بنت حجش کو سنائی تھی اُس کو انہوں نے اپنے زیورات اتار کر دے دیئے تھے اور خود اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ میں گر پڑیں۔ اس نکاح کے بعد آپ نے ولیمہ کی ایک بڑی دعوت کی۔ یہ نکاح پانچ ہجری میں ہوا تھا اور اس نکاح کے وقت آپ کی عمر شریف 57 سال اور حضرتِ زینبؓ کی عمر 26 سال تھی۔

صرف پیارے نبی ا کی یہی زوجہ محترمہ تھیں جن کو حضرتِ عائشہؓ سے ہمسری کا دعویٰ تھا۔ اُن کی ایک بے مثال خصوصیت یہ تھی کہ اپنے ہاتھ سے کچھ دستکاری کرکے اس کی آمدنی فقراءو مساکین میں بانٹ دیا کرتی تھیں۔ اُن کی اسی خصوصیت کی بنا پر پیارے نبی ا نے یہ فرمایا تھا کہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے وفات پانے والی بیوی وہ ہوگی جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہوں گے (یعنی جو سخاوت میں سب سے آگے ہوگی)۔ آخر آپ ا کے وصال کے بعد سب سے پہلے حضرت زینبؓ کا ہی 20 ہجری میں انتقال ہوا۔ حضرت عمرؓ نے جنازے کی نماز پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔

حضرت زینبؓ بنت حجش سے گیارہ احادیث مروی ہیں۔ حضرت عائشہؓ کی عفت و عصمت کی اولین گواہوں میں سے ام المومنین حضرت زینبؓ بھی تھیں۔ اُن کے بارے میں حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ”ازواج میں سے وہی رسول اللہ ا کی نگاہ میں عزت و رتبہ میں میرا مقابلہ کرتی تھیں۔

حضرتِ جویریہؓ بنت حارث آپ ا کی ازواج مطہرات میں شعبان پانچ ہجری میں شامل ہوئیں۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 57 سال تھی۔ یہ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار اعظم حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں اور غزوہ مربسیع میں اپنے قبیلہ کے ساتھ گرفتار ہوکر رسولِ پاک کی خدمت میں پیش ہوئیں تو آپ نے انہیں آزاد کراکے اُن سے نکاح کرلیا۔ اِس نکاح کے بارے میں حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ”دنیا میں کسی عورت کا نکاح حضرتِ جویریہؓ کے نکاح سے زیادہ مبارک ثابت نہیں ہوا۔“ دراصل اُن سے نکاح کے بعد تمام مسلمانوں نے رسولِ پاک کے رشتہ دار ہونے کی وجہ سے قبیلہ بنی مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کردیا تھا۔ اس لئے یہ کہا گیا کہ حضرتِ جویریہؓ اپنے قبیلہ کے لئے بہت ہی مبارک ثابت ہوئیں۔ آپؓ سے سات احادیث مروی ہیں۔ آپؓ فجر سے چاشت تک عبادت میں مصروف رہتیں۔ آپؓ نہایت ہی عبادت گزار تھیں۔ آپؓ حسین صورت اور جاذب نظر تھیں۔ آپؓ کا پرانا نام برّہ تھا جسے نبی کریم ا نے بدل کر جویریہ رکھ دیا تھا۔ ربیع الاول 56 ہجری میں 65 سال کی عمر میں آپؓ کا انتقال ہوا۔ حاکم مدینہ مروان نے جنازے کی نماز پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔

آپؓ کے بعد سیدہ ام حبیبہؓ بنت ابوسفیانؓ سے آپ کا نکاح سات ہجری میں نجاشی بادشاہ نے آپ کی درخواست پر پڑھایا اور مہر کی رقم بھی اپنے پاس سے ادا کردی۔ حضرت ام حبیبہؓ نے اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی لیکن وہاں پہنچ کر اُن کا شوہر مرتد ہوگیا اور سیدہ بے یارومددگار کسمپرسی کے عالم میں اپنے ایمان کو سنبھالے زندگی گزارتی رہیں۔ اُن کی حالتِ زار پر رسولِ پاک ا کو رحم آگیا اور آپ نے انہیں اپنی زوجیت میں لے لیا۔

حضرت ام حبیبہؓ ایمان میں اتنی سخت تھیںکہ قبولِ اسلام سے پہلے جب ابو سفیان اپنی بیٹی سے ملنے آئے توام حبیبہؓ نے اپنے مشرک باپ کو پیارے نبی ا کے بستر مبارکہ پر بیٹھنے تک نہیں دیا اور کہا کہ ”میں یہ ہرگز گوارا نہیں کرسکتی کہ ایک ناپاک مشرک رسول اللہ ا کے بستر پر بیٹھے۔“ آپؓ سے 15 حدیثیں مروی ہیں۔ آپؓ پابندی سے آخری وقت تک 12 نفل روزانہ پڑھا کرتی تھیں۔ آپؓ اپنے حقیقی بھائی حضرت امیر معاویہؓ کے عہدِ خلافت 44 ہجری میں 74 سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔

اُن کے بعد آپ کی حیاتِ طیبہ میں حضرت صفیہؓ بنت حئی بن اخطب آئیں جن کا سات ہجری میں نبی پاک سے نکاح ہوا۔ اُس وقت آپ کی عمر مبارک 59 سال اور حضرت صفیہؓ کی عمر 17 سال تھی۔ یہ خیبر کے سردار اعظم کی بیٹی اور قبیلہ بنو نصیر کے رئیس کنانہ بن الحقیق کی بیوی تھیں جو جنگ خیبر میں مارا گیا تو نبی کریم ا نے ان کے عزت و وقار کا خیال رکھتے ہوئے انہیں ازواجِ مطہرات میں شامل کرلیا۔ پیارے نبی ا اُن کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دفعہ انہیں اونٹ پر سوار کرنے کے لئے آپ نے اپنا دایاں گھٹنا آگے بڑھا دیا تھا تاکہ وہ اُس پر اپنے پاﺅں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوجائیں۔ ایک دفعہ دورانِ سفر پاﺅں پھسلنے پر آپ اور حضرتِ صفیہؓ گر پڑیں تو آپ نے ابوطلحہؓ سے کہا کہ پہلے خاتون کی طرف توجہ کرو۔“ ایک دفعہ حضرتِ صفیہؓ کو روتے دیکھ کر آپ کے استفسار کرنے پر جب حضرت صفیہؓ نے بتایا کہ حضرتِ عائشہؓ اور حضرتِ حفصہؓ اُن کو حقیر سمجھتی ہیں تو آپ ا نے اُن کی دلجوئی کرتے ہوئے اُن سے کہا ”تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہارون میرے باپ، موسیٰ میرے چچا اور محمد ا میرے شوہر ہیں، اس لئے تم مجھ سے کیونکر افضل ہوسکتی ہو۔

ام المومنین حضرتِ صفیہؓ قیدی بن کر آئیں، پیارے نبی نے انہیں آزاد کرکے یہ اختیار دے دیا کہ چاہیں تو اپنے گھر چلی جائیں اور اگر چاہیں تو رسولِ اکر سے نکاح کرلیں تو انہوں نے ام المومنین بننا پسند کیا اور آپ کو بستر علالت پر دیکھ کر نہایت ہی غمزدہ لہجہ میں کہا کہ ”کاش آپ کی بیماری مجھ کوہوجاتی۔“ اور جب تمام امہات المومنین نے اُن کی جانب دیکھا تو پیارے نبی ا نے فرمایا کہ ”یہ سچ کہہ رہی ہیں۔“ یہ تھیں امت کی مائیں جن کے لئے خود رسول پاک نے گواہی دی۔ آپؓ سے بھی دس حدیثوں کی روایت ہے۔ آپؓ کا انتقال 50 یا 52 سال ہجری میںہوا۔ یہ نہایت سخی تھیں۔ انہوں نے اپنی حیات ہی میں اپنا ذاتی مکان اللہ کی راہ میں دے دیا تھا۔

آخر میں نبی کریم ا کا نکاح جن سے ہوا وہ حضرتِ میمونہؓ بنت حارث تھیں۔ اُن سے بھی آپ کا نکاح سات ہجری میں پیارے نبی ا کے حالتِ احرام میں ہی مقام ”سرف“ پر عمرة القضاءکی واپسی میں ہوا اور 63 ہجری میں اسی مقام ”سرف“ پر اُن کا انتقال بھی ہوا اور اسی حجرہ میں دفن کی گئیں جہاں پہلی دفعہ نبی کریم ا کی قربت سے سرفراز ہوئی تھیں۔ حضرتِ میمونہؓ ایسی مومنہ تھیں جن کو پیارے نبی سے والہانہ عشق تھا اور وہ بغیر مہر کے حضور ا کے نکاح میں آنے کے لئے راضی تھیں لیکن رسولِ پاک ا نے اُن کا مہر بخوشی ادا کردیا تھا۔ اُن سے بھی 76 حدیثیں منقول ہیں۔ حضرت میمونہؓ آپ کی سگی چچی ام الفضل (زوجہ حضرتِ عباسؓ) کی حقیقی بہن تھیں جو بیوہ ہوچکی تھیں اور اُن کے نکاح کی سفارش حضرت عباسؓ نے خود کی تھی۔ اُن کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ”میمونہؓ ہم سے زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور صلائے رحم کا خیال رکھنے والی تھیں۔

ان تمام ازواج کے علاوہ مقوقش شاہِ مصر کی بھیجی ہوئی حضرتِ ماریہ قبطیہؓ آپ کی حرم تھیں۔ انہیں ا نے کنیز ہی رہنے دیا اور جن کے بطن سے آپ کے شاہزادے حضرتِ ابراہیمؓ پیدا ہوئے۔ آپؓ مدینہ شریف کی بستی عالیہ میں رہتی تھیں۔ آپؓ نہایت حسین و جمیل تھیں۔ آپؓ کے بارے میں حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے کسی عورت کا آنا اِس قدر ناگوار نہ ہوا جتنا اُن کا ہوا تھا کیونکہ وہ بہت حسین و جمیل تھیں اور حضور ا کو بہت پسند آئی تھیں۔

حضور ا کی بیویوں میں بھی جذبہ رقابت تھا لیکن اُن کے آپسی تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ ایک دوسرے کی عزت اور محبت اُن کا وطیرہ تھا۔ اگر کبھی کوئی ناراضگی ہو بھی جاتی تو بہت جلد دور کرلی جاتی تھی اور ایسا اس لئے ہوتا تھا کہ وہ سب خدا ترس اور خوفِ خدا رکھنے والی تھیں۔ دوسری طرف جہاں انہیں امتیازی شان حاصل ہوئی تھی وہیں اللہ پاک کی جانب سے اُن کے لئے واضح احکامات کا نزول وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا تھا۔

سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں سے گفتگو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔“ اسی طرح سے سورہ تحریم میں آپ کی دو ازواجِ مطہرات کو اس بات کے لئے تنبیہ کی گئی کہ وہ نبی کریم کی بتائی ہوئی راز کی بات کسی اور کو نہ بتایا کریں۔ حالانکہ افشائے راز کا یہ معاملہ دو ازواج کے درمیان ہی تھا لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ بات بھی پسند نہ آئی اور سخت الفاظ میں اُن کی تنبیہ کی گئی۔ ان ہی امہات المومنین کی امتیازی شان کے لئے اللہ پاک کا ارشاد ہے۔ ”مومنین پر نبی اُن کی جانوں سے بڑھ کر ہے اور نبی کی ازواج مومنوں کی مائیں ہیں۔ (سورہ احزاب)

لیکن اس امتیازی شان کے باوجود امہات المومنین نے کوئی شاہانہ زندگی بسر نہیں کی، محنت و مشقت کو اپنا وطیرہ بنایا اور جتنا بھی اُن کے پاس تھا اس سے بھی وہ برابر غربا و مساکین کی مدد کرتی رہیں۔ اُن کی رہائش کے حجرے تقریباً نو فٹ چوڑے اور پندرہ فٹ لمبے، کچی اینٹوں یا مٹی کے بنے ہوتے تھے جن کی چھت کھجور کی شاخوں اور پتوں سے بنی ہوئی تھی، جن کو چھت پر ڈال کر لپائی کردی گئی تھی، کوئی صحن بھی نہیں تھا اور ایک کمبل یا کواڑ کا دروازہ ہوتا تھا۔

نبی کریم ا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار ام المومنین حضرتِ حفصہؓ نے چار تہ کرکے بستر کو ذرا موٹا کرکے بچھا دیا تھا تاکہ آپ کو آرام ملے اور آپ وقت پر نماز کے لئے نہ اٹھ سکے تو صبح کے وقت بہت ہی ناگواری کا اظہار کیا۔ جن پر دونوں جہان کی نعمتیں قربان جانے کو تیار تھیں اُن کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے لئے کسی شان و شوکت کو پسند نہ فرمایا۔ مالِ غنیمت میں بھی اپنے اور اپنی ازواج کے لئے کوئی حصہ نہ رکھا جبکہ آپ ﷺ بہ نفسِ نفیس میدانِ جنگ میں موجود ہوتے تھے۔ اُن کی ازواج میں سے دو یعنی حضرتِ عائشہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کی بھی مختلف غزوات میں موجودگی کی روایت ہے۔

دراصل نبی کریم ا کی پوری زندگی، اُن کے تمام اعمال اللہ کی رضا کے لئے تھے یہاں تک کہ اُن کا نکاح بھی اللہ کی مرضی سے چند مصلحتوں کی بنا پر ہوا تھا۔ ان میں کہیں بھی پیارے نبی ا کی نفسانی خواہشات کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کا نکاح بیوہ اور مطلقہ عورتوں سے نہ ہوتا۔ ازواجِ مطہرات میں حضرت عائشہؓ کے علاوہ سبھی بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ یہاں تک کہ آپ کا پہلا نکاح بھی عین عالم جوانی میں ایک بیوہ خاتون سے ہی ہوا جن کے ساتھ آپ کی سب سے طویل 25 برسوں کی رفاقت رہی۔ سورہ احزاب کی آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مصلحتوں کی جانب بھی اشارہ کیا ہے اور پیارے نبی ا کو کچھ خاص قسم کی عورتوں سے نکاح کی اجازت بھی دی ہے۔ چند خاص قسم کی عورتوں کے زمرے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ملکیت میں آنے والی امة کی عطا کردہ لونڈیوں کو رکھا ہے اور ان خالہ زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور چچا زاد بہنوں کو رکھا جنہوں نے اسلام کی خاطر ہجرت کی اورصعوبتیں برداشت کیں اور اپنے آپ کو ہبہ کرنے والی مومنہ یعنی بغیر مہر کے پیارے نبی ا کے نکاح میں آنے کے لئے تیار مومن عورتوں کو بھی رکھا۔
اس کے علاوہ جو چند مصلحتیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے پیشِ نظر تھیں اُن میں سے ایک تو یہ تھا کہ تعلقات کو زیادہ گہرا، مستحکم اور دوستیوں کو زیادہ مضبوط بنایا جائے لہٰذا حضرتِ عائشہؓ و حضرتِ حفصہؓ سے نکاح کے بعد حضرتِ ابوبکرؓ و عمر فاروقؓ نے اپنے رشتہ کو مزید استحکام بخشا۔ ام المومنین حضرتِ ام سلمہؓ اور حضرتِ ام حبیبہؓ سے نکاح کے بعد ابوجہل اور ابو سفیان کے خاندان سے اپنی عداوتوں کو کم کیا یہاں تک کہ اس نکاح کے بعد ابو سفیان آپ کے مقابلے پر کبھی نہ آئے۔ ام المومنین حضرتِ جویریہؓ اور حضرتِ صفیہؓ سے نکاح کے بعد قبیلہ بنی مصطلق، خیبر اور بنو نضیر جیسے مضبوط قبیلوں کی سرگرمیاں و ریشہ دوانیاں بالکل ٹھنڈی پڑگئیں۔ ام المومنین حضرت زینبؓ بنت حجش آپ کی پھوپھی زادبھی تھیں اور آپ سے نکاح کے بعد اس جاہلانہ رسم کا خاتمہ ہوگیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ خود کو ہبہ کرنے والی میں حضرت میمونہؓ تھیں لیکن ان کا مہر بھی نبی کریم ا نے ادا کردیا تھا۔

ان سیاسی و سماجی مصلحتوں کے علاوہ عام مسلمانوں کی ازدواجی زندگی کے لئے بھی پیارے نبی کی ازدواجی زندگی کے عملی نمونوں کا سامنے رہنا بہت ضروری تھا کیونکہ پیشِ نظر نہ صرف ایک بگڑے ہوئے عرب سماج کی اصلاح تھی بلکہ سارے عالم انسانیت کی صحیح راہ نمائی تھی۔ اسی وجہ سے آپ نے نہ صرف اپنے خاندان میں بلکہ خاندان کے باہر بھی، نہ صرف کنواری بلکہ بیوہ اور مطلقہ، آزاد کردہ لونڈیوں، بے اولاد اور بچے والیوں، غریب و امیر، خوبصورت و قبول سیرت، دراز و کوتاہ قد، کم، درمیانہ اور زیادہ عمر کی، دیندار اور بالکل نو مسلم ہر طرح کی عورتوں سے نکاح کرکے رہتی دنیا تک کے لئے ایک مثال قائم کردی۔ ان مختلف قسموں اور مختلف عمروں کی بیویوں سے نکاح کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مذہب اسلام کے احکام و قوانین کو ہر درجے، ہر قسم، ہر عمر اور ہر قبیلہ و خاندان کی عورتوں کے درمیان عام کیا جائے، چونکہ فطری شرم و حیا کے باعث عورتیں مردوں سے اپنے مسائل کے لئے رجوع نہیں کرپاتی تھیں اس لئے رسولِ پاک ا کی یہ پاک بیویاں ان کی مشکلات کو آسان کردیتیں اور اُن کے سوالوں کے جوابات یا تو آپ سے پوچھ کر یاپھر آپ کی حدیثوں کی روشنی میں عورتوں کو دے کر انہیں مطمئن کردیتیں۔
ایام حیض کے تعلق سے ایک سوال کے جواب میں حضرتِ میمونہؓ نے فرمایا تھا کہ آپ برابر ہم لوگوں کے بچھونوں پر آرام فرماتے، ہماری گود میں سر رکھ کر لیٹتے اور قرآن پڑھتے تھے جب کہ ہم اس حالت میں ہوتی تھیں۔ پھر انہوں نے سمجھایا کہ عورتیں اس حالت میں ہوں تو اُن کے چھونے سے کوئی چیز ناپاک نہیں ہوجاتی۔

حضرتِ ام حبیبہؓ کی اس درخواست پر کہ آپ ا میری بہن عزہ سے نکاح کرلیں تو آپ نے منع کردیا اور انہیں یہ بات سمجھائی کہ بیوی کی زندگی میں اُس کی بہن سے نکاح جائز نہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرتِ ام حبیبہؓ کے ذریعہ یہ بھی پتہ چلا کہ تین دنوں سے زیادہ کسی کا سوگ جائز نہیں سوائے شوہر کے جس کے لئے چار ماہ اور دس دن کی مدت تک بیوی کو سوگ کرنا چاہئے۔

اسی طرح سے نکاح کے لئے فریقین کی رضامندی، مہر کی ادائیگی، ولیمہ کی دعوت، جہیز کی صورت، نصیحت، فرماں برداری، محبت، دلجوئی، رشتہ دارو احباب کے درمیان تحائف کا تبادلہ، دورانِ سفر اپنی تمام بیگمات کے آرام کا خیال، خوش اخلاقی، خندہ جبینی اور بے تکلفی کی تمام تر شہادتیں آپ کی ازدواجی زندگی سے ہمیں ملتی ہیں۔ پیارے نبی ا کے تعلق سے ام المومنین حضرتِ عائشہؓ فرماتی ہیں۔ ”ازواج یا خادموں میں سے نہ کبھی کسی کو مارا نہ کسی سے کوئی ذاتی انتقام لیا بجز اس کے کہ آپ خدا کے راستے میں جہاد کریں یا قانونِ الٰہی کے تحت اس کی مقرر کردہ حرمتوں کے تحفظ کے لئے کاروائی کریں۔

غرض آپ ا کی پوری ازدواجی زندگی کی مصلحتوں میں آپ ا کے پیش نظر ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں حسنِ سلوک، حسنِ انتظام اور عدل و انصاف کے علاوہ ازواج کے آپسی رویوں اور اُن کے تعلقات اور تمام عورتوں میں دینی تعلیم کی اشاعت ہی اولین ترجیحات تھیں جن میں آپ بلاشبہ کامیاب ترین ثابت ہوئے۔ اللہ رسولِ پاک ا اور اُن کی ازواجِ مطہرات کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

dr.saberahena@gmail.com

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The reasons behind the several marriages of the prophet saw in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.