عید میلاد النبی ﷺکی حقیقت

شاکر عادل عباس مدنی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے دن اور ماہ وسال تو ثابت ہیں کہ فیل والے واقعہ کے سال،ماہ ربیع الاول میں دوشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی، البتہ تاریخ پیدائش میں م¶رخین اور سیرت نگار کے یہاں شدید اختلاف ہےَ
بعض نے 8/ربیع الاول
بعض نے 9/ربیع الاول
بعض نے 12/ربیع الاول
لکھا ہے۔
اس طور پر علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایة والنہایة میں 6/اقوال ذکر کیے ہیں جن میں سے کسی کی سند صحت کو نہیں پہنچتی،البتہ جمہور اہل علم کے قول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش 12/ربیع الاول طے پاتی ہے
لیکن اس تاریخ کی سند بھی منقطع ہونے کی بنیاد پر ضعیف ہے،جیسا کہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں(البدایة: 3/109)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ میلاد کی تعیین مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
رہی بات تاریخ وفات کی تو وہ 12/ربیع الاول مشہور جیسا کہ ابن کثیرکی”السیرة النبویة “(4 / 509) اورابن حجر کی ” فتح الباری ” (8 / 1 )میں موجود ہے۔
اب جو لوگ 12/ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریب رچاتے ہیں وہ دراصل نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا دن ہے۔
بالفرض اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش ثابت بھی ہوجاتی پھر بھی جشن میلاد کا جواز نہیں نکالا جاسکتا،اس لیے کہ اس عید کا تصور نہ تو حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے اور نہ ہی حیات صحابہ میں اور بعد کے قرون بھی اس عمل سے خالی ہیں،بعد میں اس عمل کا ظہور یہی ثابت کرتا ہے کہ یہ امت اسلامیہ کے بعد میں رواج دی گئی بدعت ہے،جس کی تاریخ بہت ہی مشہور ہے،چناں چہ شیخ علی محفوظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ساتویں صدی ہجری میں سب سے پہلے ملک مظفر ابوسعید نے شہر ”اربل“کے میلادالنبی کی بدعت کو رائج کیا جوہنوز جاری ہے۔” البداع فی مضار الابتداع“ (ص 251)
اور جب یہ ثابت شدہ بدعت ہے پھر اسے کیوں کر اپنایا جاسکتا ہے،جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں اللہ رب العالمین کی حمدوثناءکے بعد فرماتے تھے:”’کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار“یہ روایت جابر رضی اللہ عنہ سے مسلم،نسائی،ابوداود،نسائی،ابن ماجہ احمد،دارمی وغیرہ میں مروی ہے۔تین اجزاءپر مشتمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری باتیں تین باتوں کو شامل ہیں:
1) بدعت کی تعریف
یعنی:دین کے اندر کسی بھی ایسی چیز کا داخل کرنا جو پہلے سے موجود نہ تھی وہ بدعت ہے۔
2)بدعت کا نقصان
یعنی:ہر قسم کی بدعت گمراہی اور ضلالت ہے۔
3)بدعتیوں کا انجام
یعنی:ہر طرح کی گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔
عید میلاد(النبی صلی اللہ علیہ وسلم)کے قائلین کا ماننا ہے کہ21ربیع الاول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتھ ڈے منانا یہ نعمت خداوندی کی شکرگزاری میں سے ہے۔چناں چہ وہ لوگ قرآن کی یہ آیت”الیوم ا¿کملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم السلام دینا”(مائدہ:3)کو بطور استدلال پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اس مشہور آیت کے اندر تکمیل نعمت کی بات کہی گئی ہے،اور اللہ تعالی کی بہت ساری نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بھی ہے۔اب جب کہ یہ ثابت ہوچکا کہ دیگر نعمتوں کی طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش بھی ایک نعمت ہے۔چناں چہ ہم جس طرح دوسری نعمتوں کی شکرگزاری کرتے ہیں اسی طرح ہم پر ضروری ہے کہ ولادت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم نعمت کا شکر بجا لائیں،اور اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش کو”عید میلاد النبی“کا انعقاد ہو۔
اس استدلال کے ضمن میں قائلین جواز پر چند ملاحظات ہیں:
1-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش متعین نہیں،جیسا کہ محققین کے اقوال گزرے۔
2-مذکورہ آیت میں”نعمت“کی تفسیر میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ یا سلف صالحین میں سے کسی سے بھی یہ مروی نہیں کہ اس سے مراد ولادت نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)بھی ہے۔ہاں عمومی نعمتوں میں اسے شمار کیا جاسکتا ہے،البتہ یہ قول بھی کسی مفسر کا نہیں۔اس سے دو خیار سامنے آئیں گے:
*یا تو صحابہ کرام نے ”نعمت“کا معنی مراد سمجھا ہی نہیں جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے حق میں تھا۔اور بعد کے نام نہاد تاویل فاسد کرنے والے مفسرین کرام اس مفہوم کو پہنچ گئے۔گویا ان کا علم صحابہ کرام کے بالمقابل پختہ ہوا۔حالاں کہ یہ بات ادنیٰ جاہل ان پڑھ کے حلق سے بھی نہیں اترسکتی کہ موجودہ عہد میں علم کا پہاڑ شخص بھی قرون مفضلہ کے ادنی طالب شرعی سے کتاب وسنت کی تفہیم میں سبقت لے جائے۔بلکہ دونوں ادوار کے لوگوں کے درمیان بھی کوئی مقابلہ نہیں کہ وہ خیر قرون سے تھے۔
*دوسرا خیار یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس“نعمت”کے مفہوم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو سمجھا تو،البتہ امت کو اس سے باخبر نہیں کیا اور چھپا لیا۔اسے کہتے ہیں“کتمان علم”یعنی علم کا چھپانا،جس کی سزا آگ کا لگام ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس کتمان کا تصور محال ہے۔
*اس سے ایک تیسرا خیار بھی سامنے آتا ہے کہ موجودہ عہد کے مسلمان اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے،جاں نثار صحابہ کرام کے مقابلے زیادہ محبت کرتے ہیں۔اگر ایسا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر انہوں نے جشن میلاد کیوں نہیں منایا؟؟!!
حالاں کہ صحابہ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا اثاثہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں قربان کردیتے ہیں،اور کہتے ہیں:”گھر میں اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیاہوں“۔دنیا کا کوئی شخص اپنے خلیل کے لیے ایسی قربانی نہیں دے سکتا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کو کھلی آنکھوں دیکھنا ہے تو سیرت رسول پڑھیں اور دیکھیں،کس طرح یہ پروانہ نبوت آپ کے وضو کے پانی کو نیچے نہیں گرنے دیتے اور بدن پر مَل لیتے ہیں۔مثالیں شمار نہیں کی جاسکتیں۔روئے زمین کی ایسی باکردار،شیشے جیسی صاف وشفاف شخصیات آپ کے اصحاب باصفا،کردار کے پیکروں پر یہ الزام ہی مانا جائے گا کہ انہوں نے یا تو اس خبر کو چھپایا یا پھر ان کی محبت شک کے دائرے میں ہے نعوذباللہ۔
حسن اتفاق تو دیکھیے کہ6صدی ہجری تک کے مسلمانان(جن میں قرون مفضلہ اور بعد کے تین ادوار شامل ہیں)”جشن میلاد“کی نعمت غیر مترقبہ سے بالکل انجان تھے اور موجودہ مسلمان کے مقابل یا تو وہ لوگ نعوذباللہ نرے قسم کے ناشکرے اور لاخیرے تھے،یا ان کو اس نعمت کی خبر ہی نہ تھی۔اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے جن کا کردار اور ان سے وجود پائی بدعتیں سنتوں کا خون کر رہی ہیں۔اللہ تعالی ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا کرے۔آمین
Adilshakir95@gmail.com

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The reality of celebrating eid milad un nabi saw in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.