’ماہِ صیام“ اضافی نیکیوں کا موسم

پورے عالمِ اسلام کے لیے یہ مہینہ رحمت، برکت اور مغفرت کے واسطے اللہ کی جانب سے ایک تحفہ ہے۔ ہم یہاں رمضان کی نیکیوں کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے۔ کیوں کہ اِس موضوع پر بے شمار مضامین اور مقالے انٹرنیٹ پر اورکتابی شکل میںموجود ہیں۔ہم یہاں اس موضوع پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں کہ کیا نیکیاں صرف وہی ہیں جو ہمارے معاشرے میں رائج ہیں؟ یا جسے ہم بچپن سے دیکھتے اور کرتے ا?ئے ہیں؟یا اصل نیکی یا کارِ ثواب عمل وہ ہے جو قومِ مسلم کو طریقہ محمدی سے ملتا ہے؟

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ اِس ماہ مبارک میں نیکیوں کا حجم اور پیمانہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ ہمیں نیکیوں کا ذخیرہ بڑھانے میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ اور بڑے پیمانے پر ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے بھی ہیں۔ لیکن ایک چھوٹی چیز ایسی ہے جو ہمارے دلوں کے اندر ہوتی ہے اور جس کے درست نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے سارے اعمال ضائع چلے جاتے ہیں یا ضائع ہو جائیں گے۔ جس کی خبر اور احساس ا?ج بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ اصل معاملہ کا پتا تو روزِ قیامت ہی معلوم ہوگا جب ہمارے اعمال تولے جائیں گے۔ اور وہ ہے ”نیت“۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پورے معاشرے میں اور عالمی پیمانے پرآمدنی کے ذرائع بڑھے ہیں۔ لوگ پہلے سے زیادہ مالدار اور خود کفیل ہوئے ہیں۔ دوسری قومیں اِس کا کتنا صحیح یا غلط استعمال کر رہی ہیں، اِس بارے میں عالمی پیمانے پر ریسرچ کرنے والے اصحاب زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔
ہم یہاں صرف اپنے معاشرے میں رائج غلطیوں کی جانب توجہ دلانا چاہتے ہیں تاکہ اِس سے احتیاط کریں اور اپنے اعمال ضائع ہونے سے بچالیں۔

متفق علیہ کی روایت مشکوٰة شریف کی پہلی حدیث ”انمال الاعمال بِالنِّیات، وانما لا مری مانوی ، فمن کانت ہجرتہ الی اللہ و رسولہ، فہجرتہ الی اللہ و رسولہ ومن من کاتب ہجرتہ الی دنیا یصیبھا، او امراہ یتزوجہا فہجرتہ الی ما ہاجر الیہ۔

سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کووہی ملے گا جس کی ان نیت کی، جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے اپنا گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے (ہی ) ہے۔(یعنی اسے ثواب ملے گا) اور جس شخص نے دنیا کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے گھر بار چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہے (یعنی اسے ثواب نہیں ملے گا)

نیت میں کتنی نیکی ہے اس کا اندازہ تو نیت کرنے والے پر منحصر ہے۔ البتہ اکثر میں معاملے میں ایک چیز کا احساس ہونے لگا ہے کہ اناپرستی نے ہمارے مابین دوری پیدا کردی ہے۔ اور یہ خود پسندی بھی ہماری نیکیوں کو بالکل ایسے ہی کھا جاتی ہے جس طرح سے دیمک کتابوں کو۔ تقریباً بیس بائیس سال پہلے کا واقعہ ہے جب ہمارے یہاں کی معاشی حالت بہتر ہونے لگی تھی اور عام لوگوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن کا چلن عام ہو چکا تھا، لوگ نئے نئے تعلیم یافتہ بھی ہونے لگے تھے، ٹی وی چینل کی تعداد بڑھنے لگی تھیں۔ اب وہ لوگ کچھ کریں نہ کریں، عالمی خبروں اور تبصروں میں ہی لگے رہتے تھے اور تبصرہ کرنے پر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ ٹی وی چینلز کی باڑھ نے ہمیں ایک طرف جہاں اخلاقی طور پر بے کار کر دیا دوسری طرف صحت کے اعتبار سے بھی ناکارہ کر دیا ہے۔

اخلاقی طور پر یوں کہ جب کبھی ان جیسے سے ملاقات کی غرض سے ان گھر جانا ہوتا تھا تو اکثر وہ ”ڈیوٹی آور“ کے بعد ٹی وی میں محو ہوتے تھے اور صرف ”السلام علیکم اور وعلیکم السلام “سے کا م چلا لیا کرتے تھے یا یہ سمجھ لیتے تھے کہ ملاقات ہو گئی۔ یا”السلام علیکم اور وعلیکم السلام “اور چند رسمی کلمات کے بعد ٹی وی آن اور ملاقاتی سے رابطہ گون۔ بالکل Enoکی طرح صرف چند سیکنڈوں میں۔ اور جب ملاقاتی کچھ انتظار کے بعد رخصت ہونے کا من بنا لے اور اجازت طلب کرے تو”ارے صاحب بیٹھیے! ابھی آئے ابھی جارہے ہیں، یہ کیا بات ہو گئی، ابھی تو ہماری ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ جناب آپ ابھی مصروف ہیں میں کسی اور فرصت کے وقت آﺅں گا۔
نا مناسب ہے خون کھولانا
پھر کسی اور وقت مولانا

اخلاقی طور پر ناکارہ ہونے اثرات آپ معاشرے میں جا بجا دیکھ رہے ہوں گے۔ مثلاً تمباکو، بیڑی، سگریٹ، گٹکا وغیرہ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ اکثر مسجدوں کے امام اور مو ذّن بھی اس سے الگ نہیں رہے۔ دیدہ دلیری یہ کہ ”یہ حرام تھوڑے ہی ہے، زیادہ سے زیادہ مکروہ کہہ سکتے ہیں“ اب اِ ن مولویوں اور اماموں کو کون سمجھائے؟

دوسری طرف صحت کے اعتبار سے بھی ناکارہ ہوتے جارہے ہیں۔ اکثر مسجدوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کرسیوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ گھٹنے اور کمر درد، ذیابیطس، بلڈ پریشر وغیرہ کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہیں۔ حالانکہ عمر کے حساب سے بھی ابھی صرف چالیس سال کو ہی پار کیا ہے۔ پچاس سال کے بعد والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ رمضان اور روزے کے بارے میں لوگ اپنوں میں اور دوسرے لوگوں سے ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے کہ یہ مہینہ ان کے لیے رحمت نہیں بلکہ زحمت بن کے ا?یا ہو۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اکثر لوگوں کے گیارہ مہینے کا لائحہ الگ ہوتا ہے اور اس ماہ کا الگ۔ حالاںکہ اس میں بہت ہی معمولی فرق آتا ہے۔ گراں اِس لیے گزرتا ہے کیوں کہ گیارہ مہینے ان کاانداز ہی نرالا ہوتا ہے۔ صوم کا جو مطلب ہے اور جو اللہ کو مطلوب ہے، (یعنی کھانے ،پینے ،جماع اور لغویات سے رکنے کا نام ہے) اگر اس کو تسلیم کرلیا جائے تو زندگی کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔ اگر باقی گیارہ مہینوں میں بھی اِن اعمال کو سنت کے مطابق اپنا لیا جائے اور لغویات سے پرہیز کرلیا جائے توہمیں یقین ہے کہ نا تو لوگ کوئی متعدی بیماری میں مبتلا ہوںگے اور نہ ہی اخلاقی اور ایمانی طور پربدتر اور کمزور۔

اِس ماہ میں اکثر افطار پارٹیوں کا رواج اورشوق ہے، جس میں کچھ لوگ بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔ حالاںکہ اکثر لوگ جو نئے نئے مالدار بنے ہیں وہ زکوٰة کے بارے میں نہیں جانتے۔ جمعہ کی نماز میںوہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں جب خطبہ ختم ہو چکا ہوتا ہے یا اکثر حصہ گزرچکا ہوتا ہے۔ نہ جمعہ کی اہمیت کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور نہ زکوٰةکے بارے میں سیکھتے یا پوچھتے ہیں۔ اور ایک طرح سے فرض ادا نہیں کر پاتے۔ مالدار بننے کے بعد کھانے کھلانے اور حج کرنے کو ہی کارِ ثواب سمجھ لیا گیا ہے۔ جب کہ کھانے کھلانے میں بھی طریقہ رسول موجود ہے اور اس کے بعد زکوٰة کے طور طریقے کو اپنا کر ادا کیا جائے۔ پہلے محلہ ، معاشرہ میں ضرورت مندوں کو دیکھا جائے جو مالی طور پر کمزور ہیں یا روزگار وغیرہ کے لیے محتاج ہیں ان کو روزگار کرایا جائے۔ حتی الامکان پہلے محلہ یا گاﺅںکے لوگوں کو خوشحال بنایا جائے۔ زکوٰة ادا کیا جائے پھر حج کیا جائے۔ اور اِن اعمال میں رِیا(نام و نمود)کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اب ایسے افراد بھی ہیں جو کئی بار حج کر چکے ہیں یا ایک سے زیادہ بار حج کرتے ہیں یا ارادہ کر چکے ہیں۔ پہلا حج جو انہوں نے کیا وہ تو فرض تھا لیکن بعد کا حج نفلی ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے نادار اورضرورت مند بھی ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرمایہ نہیں یا کسی متعدی بیماری میں مبتلا ہیں یا روزگار کرنا چاہتے ہیں لیکن سرمایہ نہیں ہے۔ یانوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں جو موجودہ معاشرہ کی بگاڑ کی وجہ سے وقت پر نکاح نہیں کر پارہے ہیں۔ اگر اس نفلی حج کی رقم کو اِس طرح کے ضرورت مندوں پر خرچ کیا جائے تو اجر تو اتنا ہی ملے گا جتنا کہ نفلی حج سے ملتا لیکن معاشرہ میں جو بہتری آئے گی اور ان ہی لوگوں کے ذریعہ مزید دوسرے لوگوں کو خود کفیل بنانے کا سلسلہ چلے گا تو یہ کہیں زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا۔ کیوں کہ ایک طرح سے یہ صدقہ جاریہ ہوگا۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ اِس معاملے میں ہمارا معاشرہ بہت پیچھے ہے۔ ہندوستان کے کچھ علاقہ کے لوگوں نے اِس موضوع پر خصوصی توجہ دی ہے جس کی وجہ سے وہ علاقہ (مہاراشٹر، کیرل، کرناٹک، آندھرا پردیش کے کچھ علاقے) اب علم و عمل کے اعتبار سے ممتاز بن گیا ہے۔

ایک معاشرتی بیماری اور ہے جس نے نسل در نسل تباہ کر رکھا ہے اور وہ ہے غصہ کی حالت میں طلاق۔ اِس کے پیچھے بھی egoیا ”انانیت“ کا عمل دخل ہے۔ اِس میں بھی مالدار گھرانوں کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اکثر خاندان نکاح کے بندھن میں بندھتے ہیںبعد کی زندگیوں کے بارے میں طریقہ محمدی (ﷺ) کو نہیں اپناتے بلکہ اکثر تو نہ جانتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی ایک معنی میں اِس طرح کے گھرانے اسلامی اقدار سے خالی ہوتے ہیں، حالاںکہ عصری تعلیم سے یہ خوب واقف ہوتے ہیں لیکن پتا نہیں اسلامی اصول کو سیکھنے میں کیوں لاپروائی برتتے ہیں۔ اِس طرح کے خاندانوں نے صرف مال کمانے کو ہی زندگی کا اہم حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ جب کہ سب سے زیادہ ضروری جسمانی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے”صحت یا تندرستی“ ہے۔ اخلاقی اعتبار سے صحت مند نہ ہونے کی وجہ سے ہی طلاق کے واقعات پیش ا?تے ہیں۔ اگر شادی پورٹل کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ مسلم گھرانے کے بھی بائیس تا پچاس سال عمر کی طلاق یافتہ خاتون دوبارہ نکاح کی خواہشمند ہیں۔جس میں کئی صاحبِ اولاد بھی ہیں۔ آخر کتنی بڑی بات ہوگئی یا بگاڑ میں کتنا آگے جاچکے ہوتے ہیں کہ انہیں لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے اور جس کی وجہ بچوں پر اس کا غلط اثر مرتب ہوتا ہے۔ میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ اِس میں ننانوے فیصد غلطیاں عورتوں کی ہوتی ہے۔

اور ان کی ماﺅں کی طرف سے کچھ ایسی ہدایتیں ہوتی ہیں جو آگ پر تیل کا کام کرتی ہیںاور پھر گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ جو کیس عدالتوں میں آتے ہیں وہاں سے بھی عورتوں کی جانب سے کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ صرف یہ کہ ”شوہر کفالت نہیں کرتا یعنی خرچہ نہیں دیتا یا کم دیتا ہے“ اس بارے میں جو اخباری رپورٹ کی بنیاد پر کئی معاملے آئے تو دیکھا یہ گیا کہ خرچہ کی وجہ ہے۔ ایسے ہی ایک معاملہ میں عورت نے طلاق لینے کے لیے عرضی غازی آباد کورٹ دائر کیا۔ جب جج نے عورت سے پوچھا ”تو کیوں طلاق لینا چاہتی ہے تو جواب تھا کہ ”جی یہ مجھے خرچہ کم دیتا ہے“ جب شوہر سے تصدیق کی گئی تو شوہر نے کہا کہ ”تجھے کتنا خرچہ چاہیے؟“ عورت نے کہا کہ ”گھریلو خرچ کے علاوہ پانچ ہزار روپے میرا جیب خرچ“ شوہر نے کہا کہ ”میں تجھے دس ہزار روپے ماہانہ جیب خرچ دوں گا۔لیکن تو روٹی اپنے ہاتھوں سے بنا کے کھلائے گی“۔ معاملہ سلجھ گیا۔ پتا یہ چلا کہ وہ عورت کھانا شوہرکو خود سے بنا کے نہیں دیتی تھی۔ جب کہ مالی طور پر اس گھر میں کوئی تنگی نہ تھی۔ ذرا غور کریں تو پتا چلے گا کہ یہ موڈرن کلچر جس میں عورتیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتی ہیں اور شوہر سے بے جا فرمائش اور مطالبہ کرکے اپنے گھر و خاندان کو تباہ کر رہی ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اچھی خاصی آمدن والی عورتیں بھی بغیر شوہر کے یا طلاق یافتہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟ جن گھروں میں شوہر کے گزرنے یا معذور ہونے کے بعد مالی تنگی آتی ہے اس میں اکثر عورتوں کا ہی ہاتھ رہتا ہے۔کیوں کہ جب حیثیت اور علم کے اعتبار سے شوہر کچھ دستکاری ہنر سیکھنے کا مشورہ دیتا ہے یا سکھانے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر عورتیں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ (اللہ نہ کرے) اگر کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ایسی عورتیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتی ہے۔

(مضمون نگار ماہنامہ ”نئی شناخت“ نئی دہلی کے ایڈیٹر ہیں firozhashmi@gmail.com )

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Of all the months muslims love ramadan the most in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.