محرم الحرام اور اس کی فضیلت

ظفر امام ، کشن گنجی ،کرناٹک

ماہِ محرم کی آمد آمد ہے ، ذو الحجہ کا مبارک و مسعود مہینہ رختِ سفر باندھے اپنے الوداعی ” خدا حافظ ” کہنے کو 1440ھ کی دہلیز پر کھڑا ہے ، جونہی ذو الحجہ کا چاند شفقِ غیاب میں ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگا تونہی اسلامی ہجری تاریخ جست لگا کر اپنے عروج و ارتقاء کی منزل میں ایک اور کمند ڈال دے گی ؛

سال کے بارہ مہینوں میں سے جن چار مہینوں کے سروں پر خالقِ ارض و سماء و کون و مکاں نے حرمت و تقدس اور ادب و احترام کا تاج رکھا ہے ان میں سے ایک محرم کا مہینہ بھی ہے ، ان چار مہینوں کی تخصیص کے بغیر اللہ تبارک و تعالی نے اپنے قرآنِ مقدس کے اندر ارشاد فرمایا ’ بے شک اللہ تعالی کے نزدیک مہینوں کا حساب بارہ ہے اسی دن سے جس دن اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو وجود بخشا تھا ، ان میں سے چار محترم و معظم ہیں ، یعنی ان میں قتل و قتال اور جنگ و جدل ممنوع ہے‘(سورہ توبہ)

اس آیتِ کریمہ میں ان چار مہینوں کو لاعلی التعیین مطلق رکھا گیا ہے ، البتہ تاجدارِ بطحا محمدﷺنے اپنے مبارک قول کے ذریعے ان کی تعیین کردی ہے کہ ان چار مہینوں کے مصداق کون کون سے مہینے ہیں۔سال بارہ مہینے کے ہوتے ہیں ، ان میں سے چار محترم و معظم ہیں ، تین تو لگاتار ہیں ، یعنی ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور مضر قبیلہ کا وہ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے ۔

یہی نہیں بلکہ نزولِ قرآن سے پہلے بھی دورِ جاہلیت میں اہلِ عرب محرم کے مہینے کو محترم و مکرم سمجھتے تھے ، محرم کا مہینہ آتے ہی عرب کے جنگجو قبائل کی تلواریں نیام میں چلی جاتی تھیں ، لوگ اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی اس مہینے میں قابلِ معافی سمجھتے تھے اور ان سے کسی طرح کا کوئی تعرض نہ کرتے تھے ؛

اس آیتِ کریمہ ، حدیثِ رسول اور دستورِ اہلِ عرب کی روشنی میں یہ بات آفتابِ نیم روز و مہتابِ شب تاب کی طرح آشکار ہوجاتی ہے کہ محرم کے مہینے کی حرمت و تقدس اسی دن سے ہے جس دن سے اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق فرمائی ہے۔

ماہِ محرم کی فضیلت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اسے باری تعالی نے حرمت و تقدس کا خلعتِ فاخرہ عطا کیا ہے ، علاوہ ازیں اس کی فضیلت میں نبی رحمتﷺ کی متعدد احادیث بھی ہیں جس سے اس کی فضیلت میں مزید تاکید اور حسن پیدا ہوجاتا ہے
،
ایک حدیث میں اللہ کے نبیﷺ نے اس کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا جس کے راوی سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ” رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کے مہینہ ” محرم ” کا ہے

ایک دوسری روایت میں فاتحِ خیبر حضرت علی کرم اللہ و جہہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جنابِ نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہو کر آپ سے استفسار کیا ، ” یا رسول اللہ! اگر میں رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کا روزہ رکھنا چاہوں تو آپ میرے لئے کون سا مہینہ تجویز فرمائینگے”؟ تو اس کے جواب میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اگر تو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھنے کا خواہش مند ہے تو محرم کے روزے رکھا کرنا ، کیونکہ یہ اللہ تعالی کا مہینہ ہے ، اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس میں اللہ تعالی نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی تھی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ قبول فرمائینگے( ترمذی ، کتاب الصیام )

یہ تو ماہِ محرم کے عمومی دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت کا ذکر تھا ، لیکن اللہ کے نبیﷺ نے اس مہینے کے ایک خاص دن ( یومِ عاشورا ) میں روزہ رکھنے کا بطورِ خاص حکم فرمایا ، اور آپ خود بھی زندگی کی آخری رمق تک اس پر کار بند رہے ، چنانچہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے جس کو محدثِ کبیر امامِ جلیل ، امام مسلم علیہ الرحمہ نے اپنی شہر ہ آفاق تصنیف ” مسلم شریف ” میں نقل فرمایا ہے” عاشورا کے روزے سے متعلق میرا گمان اللہ تعالی کے بارے میں یہ ہے کہ وہ ان کے بدلے میں پچھلے ایک سال کے گناہ معاف فرمادینگے۔

اسی طرح ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ اور مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ایک متفقہ روایت ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے عاشورا کا روزہ فرض تھا ، پھر جب رمضان کے روزے نازل ہوئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ بےشک عاشور ا اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے ، پس جو شخص اس کا روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے اور جو نہ چاہے وہ نہ رکھے۔ ان کے علاوہ اور بھی متعدد روایات متعدد طریق سے مختلف صحابہ کرام سے عاشورا کے روزے کی فضیلت کے باب میں وارد ہوئی ہیں ، جن کا احاطہ کرنا یہاں دشوار ہے ، البتہ عاشورا کے دن کی تعیین سے متعلق کہ آیا وہ دسویں محرم کا دن ہے یا نویں محرم کا ، اہلِ علم و ہنر اور فکر و نظر کا اولِ دن سے ہی اختلاف رہا ہے ، جس کی تفصیل مطولات میں موجود ہے ۔

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Muharram and its significance in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.