اسلامی عبادات کی غایت اور حج کا پیغام

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

اسلام میں چار معروف عبادتیں ہیں جو فرض قرار دی گئی ہیں جن کی بجاآوری ہر اس شخص پر فرض ہے جو خود کو مسلمان مانتا اور کہتا ہے۔ ایک ہے نماز جو سب سے پہلا اور سب سے بڑا فرض ہے اور جسے اسلام اور ایمان کی علامت مانا جاتا ہے۔ اس کی اتباع اور ادائیگی میں کوئی چھوٹ نہیں ہے، یہ ہر کسی پر اور ہر مقام اور ہر حالت میں فرض ہے۔ نماز دن رات میں پانچ وقت متعین اوقات میں باجماعت ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مخصوص حالات میں اکیلے بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

دوسرا فرض روزہ ہے جو اسلامی کیلنڈر کے آٹھویں مہینے میں یعنی رمضان کے مہینے میں پورے مہینے رکھنافرض ہے۔ اس میں بیمار، بے حد ضعیف، کمزور اور مسافر کو رعایت دی گئی ہے کہ وہ بعدمیں بھی اس کو ادا کرسکتے ہیں یا اس کا فدیہ دے سکتے ہیں۔

اسلام کا تیسرا بڑا فرض زکوٰة ہے۔ جو صاحب نصاب مسلمانوںپر فرض ہے یعنی جن کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے یا اس کے بقدر مال ہے جس پر ایک سال گزر گیا ہے۔ اس پر ڈھائی 2½فیصد کی شرح سے زکوٰة دینا فرض ہے جس کے بارے میں حکم ہے کہ یہ تمہارے امیروں سے لے جائے گی اور تمہارے غریبوں کو دی جائے گی۔ زکوٰة اجتماعی طور پر جمع کرنے اور خرچ کا حکم ہے۔ یہ اسلامی معاشرے میں غریبی، بھکمری، بیماری، بے کاری اور دیگر آفات و ضروریات کے وقت ایک اجتماعی انشورنس ہے جس کے ذریعے سماج کے کمزور طبقات کی کفالت ہوتی ہے۔

اسلام کا چوتھا فرض حج ہے جو زندگی میں ایک بار ایسے مسلمان پر فرض ہے جس کے پاس اتنا مال ہے کہ وہ یہاں سے مکہ اور مدینہ کا سفر کرسکے اور اس کا خرچ برداشت کرسکے نیز اپنے پیچھے اپنے متعلقین کی کفالت بھی کرسکے۔ یہ فریضہ صاحب مال، صحت مند مسلمان کو ادا کرنا لازمی ہے جس کو کسی ظالم حاکم نے نہ روک رکھا ہو یاراستہ پرامن نہ ہو۔ اس صورت میں وہ یہ سفر مؤخر یا ملتوی کرسکتا ہے۔

ان عبادات میں دو عبادتیں جسمانی ہیں جس کے لےے صحت و طاقت ضروری ہے اور دو عبادتیں مالی ہیں جس کے پاس اتنامال ہونا ضروری ہے کہ اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کے بعد اللہ کے دیگر بندوں کا حق ادا کرسکے اور اللہ کے گھر کی زیارت کرسکے۔ یہ سب فرض عبادات ہیں جس کا مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو اس کو بجالانے کی فکر کرنی چاہےے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ ہر مسلمان کو اپنے اوقات اور اپنی صحت ایسی بنانی چاہےے کہ وہ نماز روزہ کی پابندی کرسکے۔ دوسرے اسے اتنا علم اور ذہنی اور جسمانی محنت کرنی چاہےے تاکہ وہ خود کفیل بنے صاحبِ مال بنے اور اس مال سے اللہ کے بندوں کا حق ادا کرسکے اور اللہ کے گھر کی زیارت کرسکے۔ اس طرح یہ عبادات اسلام کی بنیادہیں اور جس نے ان کی بجاآوری کی گویا اس نے بنیاد قائم کرلی۔ اب اس بنیاد پر دین کی عمارت تعمیر ہوگی۔ جس طرح بغیر بنیاد کے کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوتی ہے اسی طرح صرف بنیاد عمارت نہیں ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے ابھی تک بنیاد کا پتھر نہیں رکھا ہے انہیں پہلے اس کام کو کرنا چاہےے اور جن لوگوں نے بنیاد تعمیر کرلی ہے اب اپنی عمارت اٹھانے کی فکر کرنی چاہےے۔ تبھی دین مکمل ہوگا جس کی تفصیلی ہدایات قرآن و سنت میں موجود ہیں۔

ہندوستان سے ہر سال دو لاکھ کی تعداد میں حاجی حج کرنے جاتے ہیں، لیکن ان میں بیشترلوگوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ حج پر کیوں جاتے ہیں اور حج کا مقصد کیا ہے؟

قرآن پاک کی سورہ البقرہ، سوہ آل عمران، سورہ الحج اور سورہ ابراہیم میں اس کے فرضیت کی غرض بتائی ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، انسان کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ یہ عبادت صاحب استطاعت لوگوں پر فرض ہے۔ یہ وہ پہلی عبادت گاہ ہے جو اللہ واحد کی عبادت کے لےے تعمیر ہوئی ہے۔ یہاں خیروبرکت اور ہدایت ہے یہاں امن ہے۔ اس جگہ آنے سے آدمی کے اندر کا میل کچیل دور ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی چنی ہوئی جگہ ہے اور یہ وہ جگہ ہے، جہاں پر اللہ کے رسول حضرت ابراہیمؑ نے دعا کی تھی اور لوگوں کو اس گھر کے حج و زیارت کے لےے پکارا تھا۔ چنانچہ لوگ اس پکار کی کوشش کی وجہ سے شوق و ذوق کے ساتھ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

حج کی برکتیں بے شمار ہیں، اس میں اللہ کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور بندوں کا حق بھی ادا ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کو حج مبرور کی سعادت نصیب ہوگئی تو سمجھئے اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئی۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں عظیم انقلاب پیدا ہوجاتا ہے۔

اس لےے حج صرف رسومات کی ادائیگی اور مخصوص مقامات پر جانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ حضور قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ جس کے اندر یہ کیفیت جتنی مضبوط اور خالص ہوگی اس کو ان عبادات میں اتنا ہی مزا آئے گا ورنہ یہ ایک مشقت بھرا سفر ہے جس میں دھوپ، بھوک اورتھکان و پریشانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

بہت سے لوگ جن کو اللہ نے مال دیا ہے، وہ مذہبی سیروتفریح جس کو انگریزی میں Religious Tourismکہتے ہیں کی غرض سے مذہبی مقامات پر جاتے ہیں۔ نیت کا حال تو اللہ کو معلوم ہے۔ ہم تو سب کے لےے نیت خالص کی ہی دعا کرتے ہیں۔ مگر حج و عمرہ کے بعد بھی ہمارے معمولات اور معاملات بہتر نہیں ہوتے تو یہ ایک لایعنی سعی مانی جائے گی۔ اس لےے اس سال اللہ نے جن لوگوں کو حج پر جانے کی سعادت عطا کی ہے ان سے گزارش ہے کہ جملہ سامان اور دیگر تیاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے دل کا جائزہ لیتے رہیں اور اپنے اندر وہ شوق اور طلب پیدا کریں جو مطلوب ہے۔ آپ کسی مقام پر نہیں جارہے ہیں بلکہ اللہ سے ملنے جارہے ہیں اس کے گھر کی زیارت کرنے جارہے ہیں اس لےے حضور قلب کے ساتھ جائیں ورنہ بقول شاعر:
مکہ گیا، مدینہ گیا، کربلا گیا
جیسا گیا تھا لوٹ کے ویسے ہی آگیا

یعنی خالی ہاتھ گئے تھے اورخالی ہاتھ واپس آئے۔ اس سے زیادہ بڑی بے وقوفی اور مایوسی اور محرومی کچھ نہیں ہوسکتی ہے۔ سعدی نے بہت پہلے کہا تھا کہ

خر موسیٰ اگر بمکہ رود
چوں بیاند ہنوز خر باشد

یعنی اگر موسیٰ علیہ السلام کا گدھا بھی مکہ جائے تو گدھا ہی رہے گا۔ ہمیں خرموسیٰ نہیں بننا ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا وفادار مطیع بننا ہے، حج کا یہی پیغام ہے۔ ہمیں ہر وقت اس کو اپنے ذہن میں تازہ رکھنا چاہےے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اس سال اس مسعود سفر پر جانے کا موقع دیا ہے اس لےے ان باتوں کا اولین مخاطب میں ہوں اور اللہ سے نیت کی پاکی کی دعا کرتا ہوں۔ (آمین!)

ای میل:dr.abuzarkamaluddin@gmail.com

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Most of the pilgrims do not know why they are going to perform hajj in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.