عرس مخدومی پر خصوصی تحریر: جب حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی نے تاج و تخت ٹھکرا کر درس عمل دیا

غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالیگاؤں

تزکیہ نفس/احتسابِ نفس/تطہیرِ قلب یہ اصطلاحات اہلِ دل و صوفیاے اسلام کے یہاں رائج ہیں۔ جن کا مطمح نظر باطن کی تعمیر اور نفس کی صفائی/ستھرائی ہے۔ نفس امارہ سے متعلق اصلاح کے کئی پہلو سلفِ صالحین نے بیان فرمائے۔ان کی عملی تعبیر بھی پیش کی۔ ان کے تزکیہ باطن کے فلسفہ نے بڑے عمدہ نتائج دیے۔ جس کا ایک پہلو اسلام کے دعوتی نظام کی عملاً کامیابی ہے۔ جس کے جلوے ان ہزاروں اسلامی بستیوں کی شکل میں دیکھے جا سکتے ہیں؛ جو دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جو کبھی کفر وشرک کا مسکن تھیں، یا مشرکین کے ماضی کے مراکز میں شمار ہوا کرتی تھیں۔ اس کی ایک سادہ سی مثال ناسک کی سرزمین ہے، جو ہنود و بودھ کا قبلِ مسیح سے مرکز رہی ہیں اور پھر شہنشاہِ ناسک حضرت سید صادق شاہ حسینی علیہ الرحمہ کے آہِ دروں و نالہ سحر گاہی کی برکت سے اسلام کا ”گلشن آباد“ بن گئی۔آج لاکھوں مسلمان اس زمیں پر موجود ہیں۔یہ تزکیہ باطن کے ثمرات ہیں۔

اولیائے کرام کے اسلوب دعوت و اصلاحِ باطن میں بڑی حکمتیں اور تدبیریں مستور ہیں، اور دل کثافتوں سے دھل کر لطافتوں کی جلوہ گاہ بنے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری برکاتی رحمة اللہ علیہ فکر انگیز پیغام احتساب و تزکیہ نفس و اصلاحِ باطن کے ضمن میں نفس کی شر انگیزیوں سے باخبر کرتے ہوئے دیتے ہیں۔

رضاءنفس دشمن ہے دَم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے
اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے، نفس کی بدی سے

نفس بد ہے؛ جو خیر سے دور کرتاہے۔شر پر ابھارتا ہے۔نفس ہی ہے جو قبولِ حق سے مانع ہوتا ہے اور شریعت سے بیزاری کی فکر دیتا ہے۔نفس اقتدار کی ہوس بڑھاتا ہے،افکار کی دنیا نفس کی شرارتوں سے گھپ اندھیروں کی نذر ہو جاتی ہے۔اسی لئے اہل دل نے متاعِ ایماں کی حفاظت کے لیے تزکیہ نفس و اصلاحِ باطن پر خصوصی توجہ دی۔ بلکہ درجنوں کتابیں اولیا و اصفیا نے تصنیف کی، منہاج العابدین اسی کی مثال ہے۔ نفس ہمیشہ جاہ و منصب کی طلب کرتا ہے۔ مکرِ شیطاں کی جاے قرار بن جاتا ہے نفسِ بد۔جو اقتدار باطل کے استحکام کے لیے ہمہ وقت آمادہ کرتے رہتا ہے۔اصلاح و تزکیہ کے لیے بے نفسی کا درس اولیائے کرام کی بارگاہ سے ملا۔ جنھوں نے دین پر دنیا کو تج دیا۔ جنھوں نے افراد کی خوشی کی بجائے رب کی رضا کو فوقیت دی۔اس ضمن میں ہم اس تحریر میں ایک ایسے ہی صاحب ِ دل و اہلِ نظر کی مثال پیش کریں گے۔ جن کی خدمات کی زمیں بڑی کشادہ ہے۔جن کی ”لطائف اشرفی“ نے تطہیر باطن کی راہ ایسادہ کی۔

حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی؛ سمناں کے فرماں روا تھے۔ جہاں گیر و جہاں باں تھے۔ حکومت و امارت کےسربراہ تھے۔ تاج و وقار سب موروثی تھا۔ لیکن دل کی دنیاعرفان کی متلاشی تھی۔ اہلِ نظر تھے۔ ظاہر پر باطن غالب تھا۔ تاج و تخت کو چھوڑ دینا جگر کی بات ہے۔ آج جس کی ہوس میں لوگ انسانیت فراموش کر دیتے ہیں۔ ظلم و ستم کی راہ سے اقتدار کا حصول کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کو فروخت کر دیا جاتا ہے کہ کسی طرح حکومت ہاتھ آجائے۔ وہ شہنشاہ تھے۔حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کا آبائی ورثہ تھاتاج و تخت۔ لیکن ان کی بصیرت زمانے سے آگے دیکھتی تھی۔ان کی نظریں تو اس عظیم دین کی سربلندی پر لگی تھیں؛ جو ان کے جد کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر کے آئے۔ حکومت کو خیرباد کہہ دیا۔ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے ہندوستان کی مسافرت اختیار کی۔ آپ کی خدمات کی جولان گاہ ہند کی زمیں کو بننا تھا۔ حضرت مخدوم علاءالحق پنڈوی کے فیض معرفت سے تشنہ کامی دور کی۔ اور سرزمین کچھوچھہ مقدسہ پہنچ گئے۔ سرکش مطیع ہوئے۔ کفر سرنگوں اور شرک شکست سے دوچار ہوا۔ ابھی سکونت کی منزل کچھوچھہ مقدسہ قرار پائی تھی کہ بجھی بجھی طبیعتیں مائل ہونے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے دلوں میں ایسی محبت ڈالی کہ سراپا شوق ہجوم در ہجوم ہونے لگا۔ دل میلے آتے اور مصفیٰ جاتے۔ تزکیہ نفس کا جوہر بٹ رہا تھا۔کیاشاہ کیا گدا سبھی کی جھولیاں بھری جا رہی تھیں۔ درِ مخدومی ہے جہاں پر کوئی مایوس نہیں جا تا۔

ابھی سکونت کے ایام طویل نہیں ہوئے تھے کہ مرادوں سے دامن بھر گئے۔ تاریک طبیعتیں یکایک کھل اٹھیں۔ گلشن میں بہار آگئی۔ ایک ولی نے دل کی دنیا بدل دی۔ نفسِ پراگندہ کو اسیرِ متابعتِ الٰہی کیا، مخدومی فیض کا دھارا بہہ نکلا۔ سمتوں کو سیراب کیا۔ ایسا کہ تزکیہ باطن کا مرحلہ شوق طے ہوا۔ کچھوچھہ مقدسہ کے روحانی مے خانے سے سرشاری کرنے والوں نے بڑے انقلابی کارنامے انجام دیے اور نیک و صالح معاشرے کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ہمیں ناز ہے کہ ایسے اولیائے کرام کے دامن اقدس سے ہم فیض یاب ہیں؛ جہاں دنیا کو ٹھوکر مار کر آخرت کی تعمیر کی جاتی ہے۔ جہاں بصیرت و بصارت کو نور اور دل کو سرور عطا کیا جاتا ہے۔ جہاں روحانی امراض کو شفا اور مرضِ دل کو راحت ملتی ہے۔ دل عشق رسول کی تابشوں سے نور نور ہو جاتا ہے۔ یہی فکر مخدوم پاک کی تھی کہ دل کی تطہیر بھی ہو اور تزکیہ نفس بھی؛ تا کہ اسلام کا مطلوب انسان تیار ہو جس کا دل ایمان سے لبریز ہو اور اس کی زندگی سنّتوں کی آئینہ دار-
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

ہاں میری مراد اسی مبارک ذات سے ہے۔جن کی دنیا سے بے رغبتی نے شہنشاہیت کو تج دیا۔جن کے پاکیزہ انفاس کی خوشبو سارے ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے۔وہ سمناں کے تاجدار ہیں۔کشور دل کے فاتح ہیں۔دنیوی تاج و تخت کو کیا ٹھوکر ماری کہ تاجور روحانیت ہو گئے۔دل و جاں ان پر وارفتہ ہوئے۔حضرت مخدوم پاک نے تزکیہ و تذکیر کی بزم کچھوچھہ کی مقدس وادی میں کیا سجائی، صحرا گلستاں بن گیا،ارض کچھوچھہ آپ کا مسکن کیا بنی کہ انقلاب تازہ آ گیا۔پوری وادی سرسبز و شاداب ہو گئی اور ان سے نسبت و تعلق نے لاکھوں زندگیوں میں امن و یقیں کی قندیل کو فروزاں کر دیا۔
یہ مشاہدہ ہے کہ جو برسوں تگ و دو کرتے ہیں۔ باطن پھر بھی پراگندہ ہوتے ہیں۔چٹخاری زباں کا سحر ٹوٹتے ہی حقیقت کھلنے لگتی ہے۔مال و اموال کی طمع نے واعظین و داعیان کی محفل کو بے اثر کر دیا ہے۔تربیت کی جگہ لفاظی ہے۔جہل لباسِ فاخرہ میں حماقت بانٹ رہا ہے۔ان کی تگ و دو نتیجہ خیز نہیں۔ہاں! مخدومی مشن آج بھی کامیاب ہے۔مشعلِ راہ ہے۔مخدوم پاک کی حیات پاکیزہ نے دلوں کے زنگ دھو دیئے۔آپ کی دعوت حقیقت کی آئینہ دار تھی۔جس میں شریعت کی نصرت و حمایت کا جوہر ہے۔اس لئے بے نفسی بھی ہے۔دوام واستقرارہے۔ مخدومی فیض دلوں میں بس گیا ہے۔تاریکیوں میں امیدوں کی سحر بن گیا ہے۔

Read all Latest faiths and religions news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from faiths and religions and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Indian sufi master makhdoom e simnan and his reflections on tawheed in Urdu | In Category: عقائد و مذاہب Faiths and religions Urdu News

Leave a Reply