شہزادہ محمد بن سلمان کابطور ولیعہد ایک سال اور سعودی عرب

اب سے ٹھیک ایک سال قبل 21جون 2017کو خادم حرمین شریفین و فرمانروائے مملکت شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود نے اپنے بھتیجے کو معزول کر کے اپنے 31سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی سلطنت کا ولیعہدمقرر کر دیا تھا۔ محمد بن سلمان کے مخفف ایم بی ایس سے معروف شہزادہ بن سلمان کو وزیر دفاع کے عہدے پر بھی برقرار ر ہے۔ اس اقدام سے نوجوان شہزادے کے لیے تیزی سے ترقی کی راہ مل گئی۔ ولیعہدی میں تبدیلی قطر کے ساتھ اس سخت جھگڑے اور سفارتی قطع تعلق کے ابتدائی ایام میں عمل میں آئی جب سعودی عرب، اور اس کے تین عرب حلیفوں نے قطر پر دہشت گردوں کی حمایت و مالی اعانت کرنے اور سعودی عرب کے سب سے بڑے دشمن ایران سے پینگیں بڑھانے کا الزام عائد کیا۔ جبکہ قطر متواتر اس کی تردید کرتا رہا۔3ماہ بعدستمبر 2017میں حکام نے بڑے پیمانے پر اہم ترین شاہی شخصیات بشمول اثر دار علماءاور دانشوروں کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔

اسے ولیعہد شہزادے کامخالفین پر عتاب اور کریک ڈاؤن قرار دیا گیا۔شہزادہ بن سلمان کی ایماءپر نومبر میں معاشرے کی تطہیر کے لیے تقریباً380شاہی خاندان کے افراد، وزراءاور معروف صنعتکار گرفتر کر لیے گئے اور حکومت نے اسے بدعنوانی کے خلاف کارروائی قرار دیا۔ ان میںسے بہت سوں کو ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں نظر بند رکھا گیا۔کئیوں کو کثیر رقومات کی ادائیگی کا سمجھوتہ کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔شاہی حکومت نے ستمبر 2017میں یہ اعلان کر کے کہ جون 2018سے خواتین بھی کاریں چلا نے کی اہل ہو جائیں گی، خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم کر دی۔شہزادہ بن سلمان ،جو سماجی و اقتصادی تبدیلی کے لیے ویژن2030 کے عنوان سے وضع کیے جانے والے ہمہ جہتی منصوبوں کے معمار بھی ہیں، جب سے ولیعہد بنے ہیں اس وقت سے تسلسل سے ہونے والی اصلاحات میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت سب سے زیادہ نمایاں قدم ہے ۔

دیگر اصلاحات میں سنیما گھروں کا کھل جانا اور کنسرٹس میں مردوں عورتوں سب کو شرکت کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ تاہم سعودی خواتین مختلف پابندیوں میں ابھی جکڑی ہوئی ہیں اور حکام پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ حقوق کارکنوں کے کریک ڈاو¿ن میں مصروف ہے۔نومبر2017میں لبنانی وزیر اعظم کے ڈرامے نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ سا مچا دیا تھا اور سعودی عرب کو جواب دینا بھاری پڑ رہا تھا۔کیونکہ لنانی وزیر اعظم سعد حریری ریاض پہنچے اور وہاں پہنچتے ہی سرکاری ٹیلی ویژن کے توسط سے یہ کہتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا کہ وہ ملک پر ایرانی گرفت اور داخلی امور میں اس کی متواتر مداخلت سے بہت پریشان ہیں۔

سعودی عرب پع الازم ہے کہ اس نے ایران اور لبنان میں اس کی حلیف حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے خلاف موقف ظاہر کرنے کے پر حریری کو مجبور کیا تھا۔ حریری ،جن کی برسوں سے سعودی عرب حمایت کر رہا ہے، ان قیاس آرائیوں کے سائے میںدو ہفتہ ریاض میں رہے کہ وہ اس وقت تک سعودی عرب سے نہیں جا سکتے جب تک کہ فرانس مداخلت نہ کرے اور وہ اپنا استعفیٰ واپس نہ لے لیں۔ ولیعہد شہزادہ نے نومبر2017میں ایران پر یمن میں حوثیوں کو بالسٹک میزائل فراہم کرکے براہ راست فوجی جارحیت کا الزام لگایا۔ مارچ2018میں شہزادہ بن سلمان نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی اسلحہ بنائے گا تو سعودی عرب بھی جوہری اسلحہ حاسل کرے گا۔ سی بی ایس ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ایران کے رہبر اعظم کا ہتلر سے موازنہ کیا اور کہا وہ مشرق وسطیٰ میں اپنا ذاتی منصو بہ لادنا چاہتے ہیں۔

ایران کے ایتمی عزائم پر قابو پانے کے مقصد سے ہوئے2015کے جوہری معاہدے پر سعودی عرب کے گہرے تحفظات ہیں۔اور اس نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مئی میں کیے گئے اس اعلان کو سراہا تھا کہ امریکہ اس معاہدے سے باہر ہو رہا ہے۔مارچ میں مصر اور برطانیہ کا دورہ کر کے بن سلمان نے جانشین کے طور پراپنا پہلا غیر ملکی دورہ کیا ۔برطانیہ میںوہ ملکہ ایلزبتھ سے ملے اورامریکہ میں دو ہفتے گذارے۔جہاں انہوںنے ٹرمپ اور دیگرسیاسی واقتصادی رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کیں۔انہون نے فرانس اور اسپین کا بھی دورہ کیا۔ایک اور تبدیلی اسوقت دیکھنے کو ملی جب شہزادہ بن سلمان نے اپریل میں ایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی طرح اسرائیل کو بھی اپنی سرزمین کا حق ہے۔لیکن بعد میں شاہ سلمان نے فلسطینیوں کو سعودی عرب کی نہایت پکی حمایت کا اعادہ کر کے اس بات کو رفع دفع کر دیا۔

Title: bin salmans one yer as saudi crown prince | In Category: مضامین  ( articles )

Leave a Reply