کہانی پاکستان کے دو سیاسی لیڈروں کی

رحیم اللہ یوسف زئی

پاکستان کے بلاگرز آج کل ایک واقعہ کوکچھ اس طرح بیان کرتے ہیں”نواز شریف اپنے اثر و روسوخ نیز ہر ممکن حربے استعمال کر کے تین بار وزیر اعظم بننے میں کامیاب رہے تو دوسری جانب ان کے اصل حریف عمران خان نے یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کے وزیر اعظم بننے کے امکانات بہت کم ہیں تین نکاح کر کے ان کی برابری کرنے کی کوشش کی۔
اس میں کچھ صداقت بھی ہے۔ نواز شریف نے2013کا انتخاب جیتا اور ایک غیرمعمولی واقعہ کے طور پر تیسری بار ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔تاہم یہ بات دیگر ہے کہ وہ گذشتہ سال بدعنوانی کے الزامات میں سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے باعث اپنی وزارت عظمیٰ کی پانچ سال کی میعاد پوری نہ کر سکے۔اب وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے ملک گیر پیمانے پر عوامی جلسے کر کے عوام کی حمایت اورہمدردی حاصل کرنے اورا اپنے اوپر لگے بدعنوانی کے داغ کو مٹانے کے لیے قانونی جنگ لڑنے میں لگے ہیں۔
جہاں تک کرکٹر سے سیاستداں بننے والی شخصیت عمران خان کا تعلق ہے وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا موومنٹ فار جسٹس کے عنوان سے ایک پارٹی تشکیل دے کر سیاست میں داخل ہوئے۔ایک طویل مدت تک سیاسی حاشیے پر پڑے رہنے اور نتخابات میں شکست کھاتے رہنے کے بعد انہیں 2013کے عام انتخابات میں اس وقت کامیابی نصیب ہوئی جب اس الیکشن کی فاتح پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل۔این) کے بعد ملک کی دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری کیونکہ وہ اس الیکشن میں رنرز اپ تھی۔پی ٹی آئی خیبر پختون خوا صوبہ میں حکومت سازی میں کامیاب ہو گئی۔اب عمران خان نے ملک کا وزیر اعظم بننے کے اپنے ارادوں کو جگ ظاہر کر دیا ہے اورآئندہ انتخابات کو،جو اس سال جولائی اگست میںہونے والے ہیں، عمران خان کے لیے ایک سنہری موقع سے تعبیر کیے جارہے ہیں کیونکہ نواز شریف نااہل قرار دے دیے جانے کے باعث انتخابات نہیں لڑ سکتے۔
تاہم میڈیاعمران خان کی سیاسی زندگی سے زیادہ ان کی ذاتی زندگی کو اجاگر کر رہے ہیں۔اپنے کرکٹ کیریر کے دنوں سے ہی، جب انہوں نے شاندار آل راؤنڈ ر ہونے اور 1992میں ورلڈ کپ جیت کر شہرت پائی،زبان زد عام ہوجانے سے ان کی زندگی کے ہر پہلو کی مسلسل جانچ نظر رکھی جارہی تھی۔ان کے رومانس کے قصے اور تین شادیوں بشمول دو طلاقوں کاجامع ذکر کیا جارہا ہے۔ 66سال کی عمر میںان کی حالیہ شادی پر مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستگی رکھنے والوں کی جانب سے توہین آمیز، تعریفی اور مزاحیہ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ ان کی تیسری بیو ی کی،50سالہ بشریٰ مانیکا جو بڑی عمر کے پانچ بچوں کی ماں ہیں، نامعلوم اسباب کی بنا پر پہلے شوہر سے طلاق ہو چکی ہے۔ در حقیقت عمران خان ان کے رابطے میں اس وقت آئے جب انہیں علم ہوا کہ وہ ایک روحانی شخصیت ہیں۔ ابتدا میں وہ پی ٹی آئی رہنما کی ’پیر‘یو’پیرنی ‘ رہیں اور پھر ان دونوں میں پینگیں اتنی بڑھیں کہ دونوں نے ازدواجی بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کر لیا۔
عمران خان کی پہلی بیوی برطانیہ کو جمیمہ گولڈ اسمتھ تھیںجو 1995میں عمران سے شادی کے بعد جمیمہ خان بن گئیں۔لیکن برطانیہ کی ایک دولتمند فیملی کی خوبصورت دو شیزہ اور پاکستان کے خوبرو اور مقبول ترین پختون کرکٹر کے درمیان شادی کا یہ بندھن 9سال بعد ٹوٹ گیا۔پھر 2015میں معران خان ٹی وی اینکر ریہام خان کے دام الفت میں جکڑ گئے۔لیکن ان کی شادی دس ماہ بھی نہ برقرار رہ سکی اور طلاق ہو گئی۔ مضمون نگار وں نے بڑے پر لطف انداز میں شادی کے ان قصوں کو کچھ اس طرح بیان کرنا شروع کیا کہ عمران خان کرکٹ کھیلنے سمندر پار گئے اور واپسی میںایک گوری میم کو لے آئے جو بعد میں ان کی بیوی بن گئی۔اس کے بعد انہوں نے دوسری شادی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان ای ٹی وی چینل کی اینکر کو انٹرویو دینے گئے اور اسے اپنی دولہن بنا کر گھر لے آئے۔ اور اب تیسری شادی پر یہ تبصرہ کیاجارہا ہے کہ وہ روحانی رہنمائی حاصل کرنے گئے اور اس روحانی خاتون کو بیوی بنا کر ہی لے آئے۔
اب جبکہ عمران خان اسلام آباد کے بنی گالہ میں 300کنال رقبہ پر پھیلے وسیع و عریض بنگلے میں اپنی تیسری بیوی کے ساتھ آرام و سکون سے رہ رہے ہیں ان کے دشمن نواز شریف پریشانیوں اور تکلیف کے دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔ معزول وزیر اعظم کی پریشانیاں ہیں کہ کم ہونے میں نہیں آرہیں۔ پاکستانی سپریم کورٹ نے انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کے بعد اپنے ایک حیران کن حالیہ فیصلہ میں انہیں پی ایم ایل این کی جو کہ انہی کے نام پر تشکیل دی گئی ہے، قیادت سے محروم کر دیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دوبئی میں اپنے بیٹے کے نام سے چل رہی کمپنی سے 2700ڈالر ماہانہ کی ہونے والی آمدنی کو ظاہر نہیںکیا۔اگرچہ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسا بڑا جرم نہیں ہے جو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے معزولی کا متقاضی ہو۔ ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانیوں کے کئی دیگر الزامات بھی تھے۔ اب ان معاملات کو احتساب عدالت دیکھ رہی ہے۔
نواز شریف کی فی الحال جاری سیاسی مہم کا مقصد اپنے پیغام کو عام کرنے اور پاکستان کے آئندہ عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی جیت یقینی بنانے کے لیے راہ ہموار کرنے کا ہے۔سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے باوجود پارلیمنٹ میں پی ایم ایل این کی اکثریت کے باعث قانون سازیہ نے ایک قانون منظور کر کے نواز شریف کو حکمراں جماعت کا قائد برقرار رکھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس قانون کو کالعدم قرار دے دیا جس سے یہ بحث چھڑ گئی کہ پارلیمنٹ بڑی ہے یا سپریم کورٹ۔ نواز شریف اور ان کی پی ایم ایل این کی راہ میں مزید کانٹے بکھیرتے ہوئے سپریم کورٹ نے رولنگ دے دی کہ نواز شریف نے پارٹی قائد کے طور پرجو اقدامات کیے اور جو بھی احکام جاری کیے ہیں وہ منسوخ کیے جاتے ہیں ۔
اپنی موجودہ پریشانیوں کے باوجد یہ بات اپنی جگہ اٹل ہے کہ نواز شریف کی حیثیت پاکستانی سیاست میں برقرار رہے گی۔ اور اگر ان کی پارٹی کا کسی کو برائے نام صدر بنا بھی دیا گیا تب بھی اصل صدر وہی رہیں گے۔پی ایم ایل این نواز شریف کی ہی تشکیل کردہ ہے اور ہمیشہ وہی اس کی قیادت کرتے رہے۔ پارٹی کو شریف خاندانہی چلاتا رہا اور نواز شریف کے برادر خورد جو پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں، آئندہ انتخابات میں پارٹی کے وزیر اعظم امیدوار قرار دیے جاچکے ہیں۔ مزدی برآن نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو اپنی سیاسی جانشینی کے لیے سیاسی اسرار و رموز سکھا رہے ہیں اور حکمرانی کی تربیت دے رہے ہیں۔ معریم کی شادی ایک ریٹائرڈ فوجی کیپٹن محمد صفدر سے ہوئی ہے جو فی الحال قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔
عمران خان ہمیشہ موروثی سیاست کے مخالف رہے ہیں۔اور ان پر الزام نہیں لگای جاسکتا کہ وہ اپنی بیویوں یا یو کے مقیم دو بیٹوں کو سیاست میں لانے یا پی ٹی آئی کی قیادت کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی یا حمایت کر رہے ہیں۔تاہم اگر ان کی پارٹی کے کچھ لیڈران انکے اہل و عیال کو سیاست میں لے آئیں اور اسمبلی انتخابات لڑنے کے لیے ان کو پی ٹی آئی کاٹکٹ دلادیں تب بھی عمران خان ان کی مدد نہیں کر سکتے ۔
نواز شریف اور عمران خان مختلف کردار کے مالک ہیں۔ اور اب یہ ناممکن ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے تال میل رکھیں۔دونوں ہی اولالعزم ہیں اور اپنی پارٹیوں پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ فی الحال پاکستان کے سیاسی افق پر یہی دو پارٹیاں دمک رہی ہیں کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) جو اب سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے نوجوان بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے زیر قیادت ہے، مائل بہ زوال ہے اور اب پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی کے سامنے ہیچ ہے۔

( رحیم اللہ یوسزئی کا یہ مضمون لندن سے انگریزی میں شائع ہونے والے ایک ماہانہ موقر جریدے ’ایشئین افئیرز کے مارچ2018 ایڈیشن میں شائع ہوچکا ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی ایک پاکستانی صحافی ہیں اور افغانستان کے امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ رحیم اللہ پہلے اور واحد رپورٹر ہیں جنہوں نے 1998میں افغانستان میں طالبا ن لیڈر ملا محمد عمر کا یک بار اور اوسامہ بن لادن کا دو بار انٹرویو لیا۔ رحیم اللہ کو ان کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کے اعتراف میں تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز سمیت کئی پر وقار ایوارڈز سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔)

Title: a tale of two leaders | In Category: مضامین  ( articles )

Leave a Reply